ہفتہ, نومبر 26, 2022
ہفتہ, نومبر 26, 2022

HomeFact Checkکیا یہ تصویر گوا میں ہوئے حالیہ 'مگ 29-کے' طیارہ حادثے کی...

کیا یہ تصویر گوا میں ہوئے حالیہ ‘مگ 29-کے’ طیارہ حادثے کی ہے؟

Claim

فیس بک پر طیارہ حادثے کی ایک تصویر 12 اکتوبر 2022 کو گوا میں ہوئے بحری طیارہ مگ 29-کے کے حادثے سے منسوب کرکے شیئر کی جارہا ہے۔ ایک فیس بُک صارف نے تصویر کے کیپشن میں لکھا ہے کہ “بھارتی بحریہ کا مگ 29-کے گوا کے قریب سمندر میں معمول کی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہوگیا”۔

بحری طیارہ حادثے کی یہ تصویر گوا میں ہوئے حالیہ 'مگ 29-کے' کے کریش کا نہیں ہے
Courtesy: Facebook/ Ali Moto

Fact

بحری طیارہ حادثے کی وائرل تصویر کو گوگل ریورس امیج سرچ کرنے پر ہمیں دی ڈیفینس پوسٹ نامی ویب سائٹ پر طیارہ حادثے کی اسی تصویر کے ساتھ شائع 3 جنوری 2018 کی ایک رپورٹ ملی۔ تصویر کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق بھارتی بحریہ کا ایک طیارہ مگ 29-کے پرواز کے دروان گوا کے ہوائی اڈے پر گرکر تباہ ہوگیا۔ جہاز میں موجود ٹرینی پائلٹ کو بحفاظت باہر نکالا گیا تھا۔ یہ حادثہ 3 جنوری 2018 بروز بدھ کو پیش آیا تھا۔ اس کے علاوہ دی ہندو، ڈی این اے انڈیا اور ٹریبیون انڈیا نیوز ویب سائٹس نے بھی اس تصویر کو 3 جنوری 2018 کو اپنی رپوٹس میں گوا ہوائی اڈے کے رن وے پر ہوئے بھارتی بحریہ جہاز حادثے کا بتایا ہے۔

Courtesy:The Hindu

پھر ہم نے سرچ کیا کہ آیا واقعی حالیہ دنوں میں مگ 29-کے گوا میں کریش ہوا ہے یا نہیں؟ تب ہمیں امر اجالا، این ڈی ٹی وی اور نیوز18 پر شائع رپورٹس ملیں۔ جن میں دی گئی معلومات کے مطابق گوا میں 12 اکتوبر کو مگ29-کے تکنیکی خرابی کی وجہ سے سمندر میں جاگرا۔ لیکن اس حادثے میں پائلٹ کو کسی بھی طرح کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ اب یہاں واضح ہوا کہ جس تصویر کو حالیہ حادثے سے منسوب کرکے شیئر کیا جارہا ہے، وہ دراصل 2018 میں گوا میں ہوئے جنگی طیارہ حادثے کی ہے۔

اس طرح نیوز چیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوا کہ بحری طیارہ حادثے کی یہ تصویر گوا میں ہوئے حالیہ ‘مگ 29-کے’ کی نہیں ہے، بلکہ 2018 میں ہوئے ایک مگ 29-کے کے حادثے کی ہے۔

Result: Partly False

Our Sources
Media report published by The Defense Post on 03, Jan, 2018

Media report published by Tribune India on 03, Jan, 2018
Media report published by The Hindu on 03, Jan, 2018

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular