اتوار, مئی 22, 2022
اتوار, مئی 22, 2022

HomeFact Check2 سال پرانی ویڈیو کو کوشامبی میں ہوئے ہجومی تشدد کا بتاکر...

2 سال پرانی ویڈیو کو کوشامبی میں ہوئے ہجومی تشدد کا بتاکر کیا جا رہا ہے شیئر

ٹویٹر پر ایک ویڈیو کو کوشامبی میں ہوئے ہجومی تشدد کا بتاکر شیئر کیا جا رہا ہے۔ جس میں لوگوں کا ہجوم ایک شخص کو لاٹھی ڈنڈے اور لات گھوسوں سے مارتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔ صارف نے ویڈیو کے کیپشن میں لکھا ہے”ہندو تنظیم کے تصادم میں 2 مسلم نوجوانوں کو بے دردی سے مارا گیا، ایک موقع پر جاں بحق، مقتول کا نام ظفر بتایا جا رہا ہے، واقعہ کوشامبی کے ہجوم نے ظفر کو قتل کردیا، دوسرے کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے”۔

ٹویٹر پر ایک دوسرے صارف نے عربی کیپشن کے ساتھ ویڈیو کو شیئر کیا ہے، جس میں صارف نے ویڈیو کو کوشامبی میں پیش آئے ہجومی تشدد کا بتایا ہے۔

حالانکہ اس ویڈیو کو مارچ مہینے کی شروعات میں بھی سوشل میڈیا صارفین مذہبی رنگ دے کر شیئر کر چکے ہیں۔

2 سال پرانے ہجومی تشدد کے ویڈیو کو مذہبی رنگ دے کر کیا جا رہا ہے شیئر
Courtesy:Twitter@Saeed8944

مذکورہ میں جو دعوے لکھے گئے ہیں وہ ہوبہو ویڈیو کے کیپشن کے مطابق ہیں۔

ٹویٹر پر وائرل پوسٹ کا آرکائیو لنک یہاں اور یہاں دیکھیں۔

Fact Check/Verification

کیا واقعی ہجومی تشدد کی یہ ویڈیو کوشامبی حادثے کی ہے؟ اس کی سچائی جاننے کے لئے ہم نے اپنی تحقیقات کا آغاز کیا۔ سب سے پہلے ہم نے ویڈیو کو انوڈ کی مدد سے کیفریم میں تقسیم کیا اور ان میں سے ایک فریم کو گوگل ریورس امیج سرچ کے ساتھ کیورڈ سرچ کیا، اس دوران ہمیں وائرل ویڈیو کے حوالے سے غیر ملکی نیوز ویب سائٹ ڈیلی میل پر شائع 6 فروری 2020 کی ایک رپورٹ ملی۔

ڈیلی میل کے مطابق مدھیہ پردیش کے دھار ضلع میں پانچ کسانوں کو بچہ چوری کے الزام میں گاؤں کے لوگوں نے جم کر مارا پیٹا اور ان کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا، مارپیٹ کے دوران ایک کسان کی موت بھی ہوگئی۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ کسان مزدوروں سے اپنا پیسا واپس لینے گئے تھے۔ جہاں ان کے خلاف افواہ پھیلائی گئی کہ وہ بچہ چوری کر رہے ہیں، جس کے بعد لوگوں کا ایک ہجوم ان پر لاٹھی ڈنڈے اور پتھروں کے ساتھ ٹوٹ پڑا۔ اس معاملے میں پولس 15 افراد کو گرفتار بھی کر چکی ہے۔

مذکورہ رپورٹ میں ہجومی تشدد کے شکار ہونے والوں میں سے ایک کا نام گنیش کھسی بتایا گیا ہے، جس کی موت تشدد کے دوران ہو گئی تھی۔ اس حوالے سے ہم نے کچھ ہندی کیورڈ سرچ کیا۔ تب ہمیں بھارت کی معروف نیوز ویب سائٹ زی نیوز اور دینک بھاسکر پر شائع وائرل ویڈیو کے حوالے سے دو سال پرانی رپورٹس ملیں۔

دینک بھاسکر کی رپورٹ میں واضح طور پر مقتول اور متاثرین کا نام اور عمر بتائی گئی ہے۔ ہجومی تشدد کے دوران مارے گئے ایک شخص کا نام کار ڈرائیور گنیش، جس کی عمر 38 سال بتائی گئی ہے۔ جبکہ ماب لنچنگ کے دوران زخمی ہوئے کسانوں میں سے ایک کا نام نریندر سندر لال شرما، عمر 42 سال، دوسرا ونود تلسی رام مُکاتی، عمر 43 سال، تیسرا نام روی ولدشنکر لال پٹیل، عمر 38 سال، چوتھے کا نام جگدیش رادھے شیام شرما، عمر 45 سال اور پانچویں کا نام جگدیش پونم چند شرما، عمر 38 سال بتائی گئی ہے۔

Screen shot of Dainik bhaskar

اس کے علاوہ ہمیں یوپی پولس فیکٹ چیک نام کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر وائرل ویڈیو سے متعلق ایک پوسٹ ملی۔ جس میں یوپی پولس نے ویڈیو کو مدھیہ پردیش کے دھار کا بتایا ہے۔

کیا واقعی یوپی کے کوشامبی میں دو مسلم نوجوانوں کو ہجومی تشدد کا شکار بنایا گیا؟

کچھ کیورڈ سرچ کے دوران ہمیں کوشامبی واقعے سے متعلق کئی خبریں ملیں۔ ان خبروں کے مطابق پیر کے دن 21 مارچ کو یوپی کے کوشامبی ضلع کے ایک گاؤں میں ظفر عالم نام کے ایک شخص کو پیٹ پیٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا، مقتول کے بھائی کو بھی شرپسند ہجوم نے بری طرح تشدد کا شکار بنایا، جو اسپتال میں زیر علاج ہے۔

معاملہ عشق و عاشقی کا بتایا جا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ظفر کوری طبقے کی ایک لڑکی سے ملنے قریب کے ایک گاؤں جایا کرتا تھا۔ لڑکی کے اہل خانے کو یہ چیز پسند نہیں تھی، پیر کے روز لڑکی کے گھروالوں نے اسے گاؤں میں دیکھ لیا، جس کے بعد دونوں کے درمیان لڑائی ہوگئی اور ظفر نے اپنے بھائی نور کو بلا لیا، تبھی ظفر نے اپنے پستول سے فائرنگ شروع کردی۔ معاملہ طول پکڑتا گیا، جس کے بعد وہاں موجود بھیڑ نے ظفر اور اس کے بھائی کو ہجومی تشدد کا شکار بنایا، جہاں ظفر کی موت ہوگئی۔

پولس نے گرام پردھان کے شوہر مانک چندر سونکر سمیت دو درجن سے زائد گاؤں والوں کے خلاف بلوا اور قتل کا مقدمہ درج کیا ہے۔ مانک چندر نے ظفر اور اس کے بھائی کے خلاف بھی قتل کی کوشش کا مقدمہ درج کروایا ہے۔

Conclusion

اس طرح ہماری تحقیقات سے واضح ہو گیا کہ یوپی کے کوشامبی میں دو مسلم نوجوانوں کے ساتھ ہجومی تشدد کا واقعی پیش آیا تھا۔ لیکن اس واقعے سے جوڑ کر جس ویڈیو کو شیئر کیا جا رہا ہے وہ دراصل مدھیہ پردیش کی ہے اور پرانی ہے۔

Result: Misleading Content/Partly False

Our Sources

Media Report By DailyMail.co.uk
Media Report By Zee News
Media Report By DainikBhaskar
Tweet by UP Police Fact check
Media Report By The Times of India

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular