جمعہ, دسمبر 3, 2021
جمعہ, دسمبر 3, 2021
HomeFact Checkتریپورہ میں تشدد کے درمیان، پرانی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

تریپورہ میں تشدد کے درمیان، پرانی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

بنگلہ دیش میں ہوئے حالیہ فرقہ وارانہ تشدد کا اثر بھارت میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بھارت کی ریاست تریپورہ میں تشدد کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔ مبینہ طور پر وی ایچ پی کے اراکین نے ہنکار ریلیاں نکالی تھیں، جہاں ہجوم نے مسلمانوں کے گھر اور اداروں کو نشانہ بنایا تھا۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر متعد مساجد پر حملے کی بھی خبریں گردش کرنے لگیں اور کئی صارفین نے ایسی تصاویر شیئر کیں، جن کا حالیہ تریپورہ تشدد سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ نیوز چیکر نے ٹویٹر پر ایسی ہی کچھ سب سے زیادہ وائرل ہونے والی تصاویر کا فیکٹ چیک کیا ہے۔

تریپورہ میں تشدد والی وائرل تصاویر
تریپورہ کے حوالے سے وائرل تصاویر

میڈیا ہاؤسز اور سی پی آئی(ایم) پر ہوئے حملے کی تصاویر کو تریپورہ میں تشدد سے جوڑ کر کیا جا رہا شیئر

بڑے پیمانے پر وائرل تصاویر میں سے ایک جلتی ہوئی کار کی تصویر ہے۔ جسے تریپورہ تشدد سے جوڑ کر کافی زیادہ شیئر کیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ تریپورہ میں مسلمانوں پر حملہ کرنے والے ہجوم نے گاڑیوں میں آگ لگا دی۔ لیکن جب ہم نے اس تصویر کا گوگل ریورس امیج سرچ کیا تو ہمیں اسی سال 10 ستمبر کو شائع کئی میڈیا رپورٹس ملیں، جن میں یہی تصویر تھی۔ میڈیارپورٹس کے مطابق یہ تصاویر اگرتلہ کی ہیں۔ جہاں بی جے پی کارکنوں نے میڈیا ہاؤسز اور سی پی آئی (ایم) دفاتر پر حملہ کر دیا تھا۔ آرٹیکل یہاں، یہاں اور یہاں پڑھیں۔

کولکاتہ کی رام نوامی ریلی کو تریپورہ میں وی ایچ پی کی ریلی بتایا جا رہا ہے

ایک اور تصویر جو تریپورہ میں تشدد کے حوالے سے بڑے پیمانے پر شیئر کی جا رہی ہے۔ جس میں آدمیوں کا ایک ہجوم ہے جو بھگوا کپڑے پہنے اور بھگوا جھنڈے اٹھائے نظر آ رہے ہیں۔ یہ ہجوم بظاہر مارچ کرتا ہوا لگ رہا ہے۔

https://twitter.com/NuhaGulam27/status/1453707355707699209

اس تصویر کا ریورس امیج سرچ کرنے پر ہمیں ہندوستان ٹائمس کا ایک آرٹیکل ملا۔ جس کے کیپشن میں انگلش میں لکھا ہے “رام نومی ریلیاں: بنگال کے کچھ حصوں میں تناؤ”۔ تصویر کی تفصیلات سے پتا چلا کہ یہ کولکاتہ کے جادوپور علاقے کی تصویر ہے۔ جہاں وی ایچ پی حامی مذہبی جلوس نکال کر رام نومی منا رہے ہیں۔ اس کا تریپورہ تشدد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

تریپورہ میں تشدد کے حوالے سے گواہٹی سی اے اے مخالف ریلی کی تصویر وائرل

اسی درمیان کئی اور لوگوں نے بھی دہلی میں سی اے اے مخالف احتجاج کے دوران کلک کی گئی تصویروں کو بھی ٹویٹ کیا ۔ ٹویٹر ہینڈل @دھرن کمارن نے تصویر کو #سیو تریپورہ مسلم اور #تریپورہ رائٹس کے ساتھ شیئر کیا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ یہ تصاویر تریپورہ تشدد کا ہے۔

https://twitter.com/dharunkumaran/status/1453927598371721220

اس تصویر کا ریورس امیج سرچ کرنے پر ہمیں اس تصویر کے ساتھ شائع کئی آرٹیکل ملے۔ ان میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تصویر 2019 میں گوہاٹی میں سی اے اے مخالف احتجاج کے دوران کلک کی گئی تھی۔ پوری تفصیلات یہاں اور یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔

ڈیرا تشدد کی تصاویر کو تریپورہ میں ہوئے تشدد کا بتاکر کیا گیا شیئر

ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ گرمیت رام رحیم کو عصمت دری کے الزام میں سزا سنائے جانے کے بعد ہریانہ میں ہوئے تشدد کو بھی تریپورہ تشدد کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

اس تصویر کا ریورس امیج سرچ کرنے پر ہمیں اسی تصویر کے ساتھ شائع کئی معروف نیوز پورٹل ٹائمس آف انڈیا کے آرٹیکل ملے۔ جس میں ان تصویر کو پنچکلہ میں ہوئے 25 اگست کو تشدد کا بتایا گیا ہے۔

نیوز چیکر نے ایک اور تصویر، جس میں دو نوجوان قرآن پاک ہاتھ میں لئے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور جسے تریپورہ میں تشدد کا بتایا جا رہا ہے. دراصل یہ تصویر کنچن کُنج روہنگیا کیمپ کا ہے۔ جہاں لگی آگ کے دوران قرآن کی حفاضت کرتے ہوئے دو افراد نظر آ رہے ہیں۔

کیا غلط معلومات معتبر ذرائع پر بھی اثرانداز ہوتی ہیں؟

بہت سی ایسی تصاویر سوشل میڈیا پر پھیلی ہوئی ہیں، وہیں کچھ معتبر ذرائع بھی غلط معلومات کی وضاحت پیش کرتی ہے، جس پر بھروسہ کرنا کچھ حد تک بہتر ہوتا ہے۔ایسا ہی 27 اکتوبر کو ایک آزاد صحافی، سمریدھی سوکنیا نے پانی ساگر کے چمٹیلا میں واقع ایک مسجد کی قریب سے ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو ٹویٹ کی. جسے مبینہ طور پر وی ایچ پی اور بی جے پی کے کارکنان نے تباہ کر دیا ہے۔

سمریدھی ان گنے چنے ذرائع میں سے ایک ہیں جو بیرونی دنیا کو تریپورہ کے حالات سے واقف کروا رہے ہیں۔ حالانکہ جلد ہی تریپورہ پولس نے ٹویٹر پر ایک بیان جاری کر سماج کے دشمنوں پر افواہیں پھیلانے کا الزام لگایا اور انہیں قانونی کاروائی کی بھی دھمکی دی۔

نیوز چیکر سے بات کرتے ہوئے سمریدھی نے بتایا کہ “میں یہ دعویٰ نہیں کر رہی کہ مسجد کو جلایا گیا یا نہیں جلایا گیا۔ مسجد میں توڑ پھوڑ کی گئی ہے, جیسا کہ ویڈیو میں نظر آ رہا ہے۔ پولس یقیناً مجھے ڈرانے کی کوشش کر رہی ہے پر میں اپنے ٹویٹ پر قائم ہوں, کیونکہ میں نے کئی دفعہ متعدد ذرائع سے اس کی تصدیق کی ہے۔

عدالت نے پولس کے دعوے پر دیا جانچ کا حکم

اس دوران تریپورہ ہائی کورٹ نے تریپورہ میں تشدد کی خبر پر از خود نوٹس لیا اور پولس سے 10 نومبر تک رپورٹ طلب کی ہے. ساتھ ہی عدالت نے ریاستی پولس کو حکم دیا ہے کہ وہ فرضی مواد آن لائن شیئر کرنے والوں پر کاروائی کرے۔

یہ پوچھے جانے پر کہ حکومت تریپورہ تشدد کے حوالے سے فرضی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والوں پر کیا کاروائی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو تریپورہ میں میڈیا کی خصوصی ڈیوٹی پر تعینات افسر سنجے مشرا نے کہا کہ “ریاست ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق سخت کاروائی کا ارادہ رکھتی ہے۔ مسجد جلانے جیسا کوئی واقعہ ریاست میں پیش نہیں آیا ہے۔ 2018 اور 2019 میں ہوئے واقعات کو حالیہ تریپورہ میں تشدد کے معاملے سے جوڑ کر سوشل میڈیا پر شیئر کیا جا رہا ہے۔

اس آرٹیکل میں پنکج مینن، شمندر سنگھ، اوجولا اور انکت شکلا کی مدد لی گئی ہے۔

(اس حوالے سے مزید جانکاری ملنے پر ہم آرٹیکل کو اپڈیٹ کرتے رہیں گے)

یہ بھی پڑھیں: کیا یہ ویڈیو تریپورہ کے مسلمانوں کے مظاہرے کا ہے؟


نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow
Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular