جمعرات, دسمبر 1, 2022
جمعرات, دسمبر 1, 2022

HomeFact Checkفلائی اوور سے گرکر حادثے کا شکار ہونےوالا کار پونے کا ہے؟کیا...

فلائی اوور سے گرکر حادثے کا شکار ہونےوالا کار پونے کا ہے؟کیا ہے سچ؟پڑھئیے ہماری تحقیق

دعویٰ

پونےکے ناسک پھاٹا فلائی اوور سے کار گری۔سی سی ٹی وی فوٹیج ہوا وائرل۔

تصدیق

ان دنوں واٹس ایپ پرایک کارحادثےکاویڈیو خوب وائرل ہورہاہے۔ویڈیو میں کار فلائی اوورسےگرتاہوا نظر آرہاہے۔جس میں دعویٰ کیاجارہاہے کہ یہ حادثہ پونے کے ناسک پھاٹا کے فلائی اوور میں پیش آیا ہے۔

اس پڑتال کو بھی پڑھیئے: جھارکھنڈ پولیس کا برسوں پرانا ماک ڈریل کے ویڈیو کوغلط دعوے کے ساتھ کیاجارہاہے وائرل؟

ہماری تحقیق

وائرل ویڈیو کو دیکھنے کے بعد ہم نے اپنی تحقیقات شروع کی۔اس دوران ہمیں یوٹیوب پر ایک ویڈیو ملا۔جس کے کیپشن میں لکھا ہے کہ یہ حادثہ پونے کے ناسک پھاٹا میں تئیس نومبر کو ہواہے۔اس کے علاوہ ایک اور ویڈیو ملا۔جس میں لکھا ہے کہ یہ واقعہ ناسک پھاٹا کے کاسواڑی علاقے میں پیش آیا۔۔

ان مشکو کیپشن کے ساتھ لکھا ویڈیو کو دیکھنے کے بعد ہم نے مزید تحقیقات شروع کی۔جہاں ہمیں پونے میں اس طرح کے حادثے کی خبر کہیں بھی نظر نہیں آئی۔اس لئے ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ یہ حادثہ کہاں اور کس جگہ پیش آیا ہے؟ اس بارے میں اپنا ریسرچ جاری رکھا۔پھر ہم نے ویڈیو کا اسکرین شارٹ نکالااور گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔تب ہمیں سائبرآباد پولیس کا ٹویٹ ملا۔جس میں اس حادثےکا ویڈیو شیئر کیا گیاہے۔

سائبرآباد پولیس کا ٹویٹ دیکھنے کے بعد ہم نے گوگل کیورڈ سرچ کیا۔تب ہمیں سیاست اورنیوز ایجنسی اے این آئی پر شائع خبر ملی۔

ان سب خبروں کو پڑھنے کے بعد ہم نےمزید کیورڈ سرچ کیا تو اس تعلق سے کافی ساری خبریں ملیں۔جس کے مطابق اس حادثے میں ایک فرد ہلاک ہوگیا ہے۔جبکہ چھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔یہ حیدرآباد کے گچی باؤلی میں پیش آیا ہے۔

نیوز چیکر کی تحقیق میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل ویڈیو پونے کے ناسک کا نہیں بلکہ حیدرآبا کا ہے۔اس حادثے میں ایک شخص کی موت ہوچکی ہےاور چھ زخمی ہوئے ہیں۔

ٹولس کا استعمال

گوگل کیورد سرچ

ریورس امیج سرچ

یوٹیوب سرچ

ٹویٹر ایڈوانس سرچ

نتائج:جھوٹی خبر(گمراہ کن)

 نوٹ:کسی بھی مشتبہ برکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے ای میل پر ارسال کریں[email protected]

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular