Claim
سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق سویڈن حکام کا کہنا ہے کہ قرآن جلانے والے عراقی نژاد سلوان مومیکا کو سویڈن کے اسٹاک ہوم میں گولی مارکر ہلاک کردیا گیا ہے۔ اب اسی تناظر میں سوشل میڈیا پر تصاویر شیئر کی جا رہی ہے، جس میں ایک شخص بستر مرض پر نظر آرہا ہے۔ صارفین کا دعویٰ ہے کہ یہ تصویر سویڈن میں قرآن جلانے والے عراقی نژاد سلوان مومیکا کے قتل کے بعد کی ہے۔
تصویر کے ساتھ ایک فیس بک صارف نے کیپشن میں لکھا ہے “سویڈن میں قرآن پاک کے نسخہ کو بار بار جلانے والے سلوان مومیکا کو اسٹاک ہوم میں اس کے اپارٹمنٹ سے ٹک ٹاک پر لائیو سٹریمنگ کے دوران گولی مار کر مردود کر دیا گیا۔ ایک موزی واصل جہنم ہوا”۔

Fact
ہم نے وائرل تصویر کو سب سے پہلے ریورس امیج سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں 3 اپریل 2024 کو شیئر شدہ ہوبہو تصویر ایک انسٹاگرام ہینڈل پر موصول ہوئی۔ لہٰذا یہاں یہ واضح ہوا کہ تصویر تقریباً ایک برس پرانی ہے اور اس کا حالیہ سلوان مومیکا کے قتل سے تعلق نہیں ہے۔

مزید تلاش کرنے پر ہمیں یہی تصویر 4 اپریل 2024 کو مکس ٹی وی نامی فیس بک پیج پر عربی کیپشن کے ساتھ موصول ہوئی۔ جس میں اس تصویر کو سلوان مومیکا کا ہی بتایا گی اہے۔ البتہ بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق سلوان کو 29 جنوری بروز بدھ سوشل میڈیا پر لائیو اسٹریمنگ کے دوران گولی مارکر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ لیکن وائرل تصویر سے متعلق ہمیں ایسی کوئی معتبر رپورٹ موصول نہیں ہوئی، جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ یہ تصویر سلوان کی ہی ہے۔ اسلئے ہم آزادانہ طور پر یہ ثابت نہیں کر سکے کہ یہ تصویر سلوان مومیکا کی ہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل-حماس فائر بندی معاہدے کے بعد مسجد اقصیٰ کے سامنے جشن منانے کا بتاکر پرانی ویڈیو وائرل
اس طرح آن لائن ملنے والے شواہد سے یہ ثابت ہوا کہ مقتول سلوان مومیکا کا بتاکر شیئر کی جا رہی یہ تصویر پرانی ہے، اس کا سلوان کے قتل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
Result: False
Sources
Instagram post by @dhka.iq on 03 April 2024
Facebook post by MixTV on 04 April 2024
Report published by BBC Urdu on 30 jan 2025
نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ہمارے واہٹس ایپ چینل کو بھی فالو کریں۔