ہفتہ, دسمبر 4, 2021
ہفتہ, دسمبر 4, 2021
HomeFact Checkنومبر 2020 میں سمیر وانکھیڑے پر ہوئے حملے کو حالیہ کروز شپ...

نومبر 2020 میں سمیر وانکھیڑے پر ہوئے حملے کو حالیہ کروز شپ معاملے کے بعد کا بتا کر کیا جا رہا شیئر

نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کے ممبئی زونل ڈائیریکٹر سمیر وانکھیڑے کے حوالے سے ان دنوں سوشل میڈیا پر پوسٹ وائرل ہو رہی ہے۔ جس میں صارفین بتا رہے ہیں کہ حالیہ کروز شپ معاملے کے بعد سمیر وانکھیڑے پر حملہ ہوا ہے۔ مزید لکھا ہے کہ منشیات فروش کو گرفتار کرتے وقت 60 افراد پر مشتمل ایک گروپ نے ان پر حملہ کر دیا۔

کروز شپ معاملے میں سمیر وانکھیڑے پر ہوئے حملے والا وائرل پوسٹ
وائرل پوسٹ کا اسکرین شارٹ

سمیر وانکھیڑے ان دنوں کروز شپ معاملے کو لے کر سرخیوں میں ہیں۔ وہ کروز شپ ڈرگس معاملے کی قیادت کر رہے ہیں۔ جس میں شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ آرین خان کو دیگر کئی افراد کے ساتھ کروز شپ، کورڈیلیا میں ضبط منشیات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

تحقیقات کے دوران وانکھیڑے پر جبری وصولی، رشوت خوری، سرکاری ملازمت کے لیے ذاتی دستاویزات کی جعلسازی سمیت کئی الزامات لگائے گئے ہیں۔ حالانکہ وانکھیڑے نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان سب الزامات کا مقصد محض ان کی شبیہ کو خراب کرنا ہے۔

اسی پسِ منظر میں سوشل میڈیا پر سمیر وانکھیڑے کی ایک تصویر شیئر کی جا رہی ہے۔ جس میں لکھا ہے کہ “سمیر وانکھیڑے سر کا ساتھ دیں”۔ مزید تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح افسر اور ان کی ٹیم گورے گاؤں، ممبئی سے 60 آدمیوں کے ہجوم سے بچ کر نکل آئی۔

ہندی میں وائرل میسج میں لکھا ہے کہ “60 لوگوں کے ہجوم نے 6 ممبر کی این سی بی ٹیم پر جان لیوا حملہ کیا۔۔۔۔۔۔سمیر وانکھیڑے نے ہمت، صبر اور ذہانت کا مظاہرہ کیا۔۔۔۔۔۔اور نہ صرف خود کو اور ٹیم کو بچایا بلکہ منشیات فروش کو بھی گرفتار کر لیا۔

کراؤڈ ٹینگل پر جب ہم نے اسے سرچ کیا تو پتا چلا کہ پچھلے تین دنوں میں اس پوسٹ کو فیس بک پر 60 سے زائد مرتبہ شیئر کیا جا چکا ہے۔

اس پوسٹ کو ٹویٹر پر بھی شیئر کیا گیا ہے جہاں اسے پچھلے تین دنوں میں 700 سے زائد لائکس اور 300 سے زائد ریٹویٹس کئے گئے ہیں۔

Factcheck/Verification

اس دعوے کی سچائی جاننے کے لئے ہم نے “ممبئی میں سمیر وانکھیڑے پر منشیات فروشوں نے کیا حملہ” کیورڈ کی مدد سے گوگل سرچ کیا۔ جہاں ہمیں نومبر 2020 کی کئی میڈیا رپورٹس ملیں۔

انڈیا ٹوڈے پر 23 نومبر 2020 کو شائع ایک آرٹیکل کے مطابق وانکھیڑے اور ان کی ٹیم پر تب حملہ کیا گیا جب وہ کیری مینڈس نامی منشیات فروش کو ممبئی کے گورے گاؤں میں گرفتار کرنے گئے تھے، جیسا کہ وائرل پوسٹ میں بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔

مزید انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ” جب انہوں نے منشیات فروش کو حراست میں لینے کی کوشش کی تو موقع پر 60 سے زیادہ افراد جمع ہو گئے اور این سی بی کی ٹیم کو روکا اور ان پر حملہ کیا”۔

انڈیا ٹوڈے کا اسکرین شارٹ

ہمیں 23 نومبر 2020 کو اے این آئی پر بھی اسی واقعے کی ایک رپورٹ ملی۔ جس کے مطابق، وانکھیڑے اور ٹیم پر حملہ کرنے کے الزام میں تین لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا تھا۔

اے این آئی پر ملی خبر کا اسکرین شارٹ

گورےگاؤں پولس اسٹیشن کے ڈی سی پی ہریش گوسوامی نے نیوز چیکر سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’’یہ خبر فرضی ہے۔ حال کے دنوں میں این سی بی اور وانکھیڈے پر کسی منشیات فروش نے حملہ نہیں کیا ہے۔

مزید ہمیں نومبر 2020 کی ایک ٹویٹر پر ایک پوسٹ بھی ملی، جس میں وائرل پوسٹ والے الفاظ ہی لکھے ہوئے ہیں۔ اس طرح یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک پرانے معاملے کو حالیہ کروز شپ معاملے سے جوڑ کر شیئر کیا جا رہا ہے۔

Conclusion

نیوز چیکر کی تحقیقات میں یہ واضح ہوتا ہے کہ نومبر 2020 میں سمیر وانکھیڑے پر ہوئے حملے کو حالیہ کروز شپ معاملے کے بعد ہوا حملہ بتا کر سوشل میڈیا پر شیئر کیا جا رہا ہے۔

Result: Misplaced Context


Our Sources:

India Today

ANI

Harish Goswami, DCP, Goregaon Police Station

Twitte


نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow
Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular