جمعرات, دسمبر 1, 2022
جمعرات, دسمبر 1, 2022

HomeFact Checkہاتھرس متاثرہ کے نام پر مارکیٹنگ کمپنی کی ایک خاتون ملازمہ کے...

ہاتھرس متاثرہ کے نام پر مارکیٹنگ کمپنی کی ایک خاتون ملازمہ کے ویڈیو کو فرضی دعوے کے ساتھ کیا جارہا شیئر

کیا ایک دلت کی بیٹی کو یہ سماں عزت پانے کا کوئی حق نہیں ہے؟ ہاتھرس کی بیٹی منیشا بالمیکی سماج کی دلت بیٹی تھی۔ پڑھائی میں ٹاپر بھی تھی اس کو ٹاپر بننے پر جو سواگت ہوا تھا دیکھنے لائق تھا۔یہ وہی ہاتھرس کی بیٹی ہے جس کے ٹاپر بننے سے علاقے کے اونچی ذاتی دبنگوں نے اغوا کرکے عصمت ریزی کیا اور اسے قتل کردیا۔درج ذیل میں یک بعد پوسٹ کے آرکائیو لنک موجود ہیں۔

Viral Video From Twitter

محمد فاروق کے پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

اقبال مستان کے فیس بک پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

ٹویٹر اور فیس بک پر ہندی دعوے کے ساتھ کیا گیا شیئر؟

دیپک کور کے پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

https://twitter.com/Pravin__parihar/status/1312601057042849792

فیس بک پر وائرل پوسٹ کا اسکرین شارٹ ۔

Fact Check/Verification

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کی سچائی جاننے کےلئے ہم اپنی ابتدائی تحقیقات شروع کی۔سب سے پہلے ہم نے کچھ اہم ٹولس کی مددس ویڈیو کا کیفریم نکالا اور اسے گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔
تحقیقات کے دوران ہم نے ارجن سنگھ نامی یوٹیوب چینل پر 5مارچ2020 کو اپلوڈ کیا گیا تھا۔گویا 30سیکینڈ کی یہ ویڈیو 7مہینے پہلے اپلوڈ کیا گیا ہے۔

https://www.youtube.com/watch?v=gacEFBMwlLM&feature=emb_title
1st Finding

مزید تلاشنے پر ہمیں ایم ڈی عادل فیاض نامی یوٹیوب چینل پر 20فروری 2020 کا ایک اور ویڈیو ملا۔جو ایک منٹ 9سیکینڈ کا تھا۔گویا اسے9مہینے پہلے یوٹیوب پر اپلوڈ کیاگیا تھا۔

2nd Finding

پھر ہم نے فیس بک پر محمد عادل فیاض کو سرچ کیا۔جہاں ہمیں 3جون کا ایک پوسٹ ملا۔جہاں ہمیں پتاچلا کہ نازیہ کو نٹورک مارکیٹنگ ویب سائٹ شیف شاپ کے افسروں نے اعزاز سے نوازا تھا۔

https://www.facebook.com/photo?fbid=272483637237159&set=a.134506091034915
3rd Finding

مذکورہ تحقیقات کے پیش نظر ہم نے نازیہ کے حولے بیگم کے حوالے سے مزید کیورڈ سرچ کیا۔اس دوران اسکرین پر ہمیں نازیہ سے متعلق متعدد نتائج ملے۔

4rth Finding

انفو ورلڈ نامی یوٹیوب چینل پر بائیس اپریل 2020 کو اپلوڈ کیاگیا یوٹیوب پر ایک ویڈیو ملا۔جس میں آپ صاف طورپر دیکھ سکتے ہیں کہ نازیہ اپنی کامیابی کی کہانی اور کمپنی کے بارے میں بتارہی ہے۔

4th Finding

وہیں ہم نے سیف شاپ کے بارے میں کھوج کی۔اس دوران ہمیں ایک ملٹی نیشنل مارکیٹنگ کمپنی کے بارے میں پتاچلا کو حیدرآباد کی ہے۔

سبھی تحقیقات سے واضح ہوچکا کہ وائرل ویڈیو کا تعلق ہاتھرس عصمت ریزی متاثرہ سے نہیں ہے۔پھر ہم نے مذکورہ کمپنی کے بارے میں کچھ کیورڈ سرچ کیا۔جہاں ہمیں دکن کرونکل نامی نیوز ویب سائٹ پر کمپنی سے متعلق جانکاری ملی۔جس میں سیف شاپ کے ۱۱افراد کو حیدرآباد میں گرفتار کیا گیا تھا۔رپوٹ کے مطابق دس ہزار روپے کی سرمایہ کاری اور کمیشن دے کر اپنے کاروبار میں شامل ہونے کا لالچ دینے کا پورا معاملہ تھا۔واضح رہے کہ یہ خبر 12ستمبر2020 کی ہے۔

Final Finding

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات میں پتا چلا کہ جس ویڈیو کو ہاتھرس متاثرہ کا بتایاجارہا ہے وہ فرضی ہے۔ویڈیو میں نظرآرہی خاتون مارکیٹنگ اور ای کامرس کمپنی سیف شاپ انڈیا کی ایسوسی ایٹ ہیں۔عوام کو گمراہ کرنے کےلئے ویڈیو کو ہاتھرس عصمت ریزی متاثرہ سے جوڑ کر شیئر کیاجارہا ہے۔

Result: False

Our Sources

Youtube:https://www.youtube.com/watch?v=gacEFBMwlLM&feature=emb_title

Youtube:https://www.youtube.com/watch?v=xA2BDWCn3ag

Facebook:https://www.facebook.com/photo?fbid=272483637237159&set=a.134506091034915

Google:https://www.google.com/search?q=nazia+begum+safe+shop&oq=nazia+begum+&aqs=chrome.1.69i57j0l7.5208j0j7&sourceid=chrome&ie=UTF-8

Deccan Chronicle https://www.deccanchronicle.com/nation/current-affairs/120919/hyderabad-11-arrested-in-neredmet-mlm-scam.html

Youtube:https://www.youtube.com/watch?v=i3SLDP_uIrg&t=709s

Facebook:https://www.facebook.com/Safe-Shop-104123237672859/?ref=page_internal

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular