بدھ, اگست 4, 2021
بدھ, اگست 4, 2021
HomeFact Checksکیا اے آئی یو ڈی ایف کے صدر بدرالدین اجمل نے دیا...

کیا اے آئی یو ڈی ایف کے صدر بدرالدین اجمل نے دیا متنازعہ بیان؟

سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک ویڈیو خوب شیئر کیا جا رہا ہے ۔یوزر کا دعوی ہے کہ اے آئی یو ڈی ایف کے صدر بدرالدین اجمل نے بھارت کو اسلامی ملک بنانے کی بات کہی ہے۔

بدرالدین اجمل کے وائرل ویڈیو کا اسکرین شارٹ
بدرالدین اجمل کے وائرل ویڈیو کا اسکرین شارٹ

آستھا کوشک کے پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

ملک کی پانچ ریاست آسام،مغربی بنگال،پڈوچیری ،کیرلہ اور تمل ناڈو میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اسی کے پیش نظر سوشل میڈیا پر طرح طرح کے پوسٹ فرضی ،گمراہ کن اور غلط دعوے کے ساتھ شیئر ہونے لگتے ہیں۔ آسام میں پچھلے پانچ سالوں سے این ڈی اے کی سرکار رہی ہے۔ آسام میں این ڈی اے کی اپوزیشن پارٹی کانگریس اور اے آئی ڈی یو ایف ہے۔ ممبر اسمبلی کی بات کریں تو یہ دونوں پارٹیاں باالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ آسام اسمبلی انتخابات سے پہلے یہ دعوی کیاجار ہا ہے کہ اے آئی یو ڈی ایف کے صدر بدرالدین اجمل نے مغل دور کے طرز پر بھارت کو اسلامی ملک بنانے سمیت کئی متنازعہ بیان دیئے ہیں۔

Fact Check/Verification

وائرل دعوے کی تحقیقات کے لئے ہم نے سب سے پہلے ویڈیو کا انوڈ کی مدد سے کچھ کیفریم نکالا اور ان میں سے ایک فریم کوریورس امیج سرچ کیا۔ جہاں ہمیں اسکرین پر اےآئی یو ڈی ایف کے صدر بدرالدین اجمل کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل کے علاوہ کوئی بھی پختہ ثبوت نہیں ملا۔

بدرالدین اجمل کے حوالے سے ملی جانکاری کا اسکرین شارٹ
بدرالدین اجمل کے حوالے سے ملی جانکاری کا اسکرین شارٹ

پھر ہم نے بدرالدین اجمل کے آفیشل ٹویٹر پیج پر اے آئی یو ڈی ایف کے ایم ایل اے ڈاکٹر حافظ رفیق الاسلام کے ٹویٹر پیج پر کچھ ٹویٹ ملے۔جنہیں بدرالدین اجمل کے پیج سے ری ٹویٹ کیا گیا ہے۔

ٹویٹر پر بدرالدین اجمل کے حوالے سے ملی جانکاری
ٹویٹر پر بدرالدین اجمل کے حوالے سے ملی جانکاری

اے آئی یو ڈی ایف کے ایم ایل اے ڈاکٹر حافظ رفیق الاسلام کے ذریعے کئے گئے ٹویٹ میں بدرالدین اجمل کے وائرل ویڈیو کو ایڈیٹ شدہ بتایا گیا ہے۔ساتھ ہی انہوں نے پورے بیان والا اصل ویڈیو بھی شیئر کیا ہے۔

ڈاکٹر حافظ رفیق الاسلام نے اپنے دوسرے ٹویٹ کے ساتھ یوٹیوب ویڈیو کا لنک بھی شیئر کیا ہے۔ جس میں انہوں نے جانکاری دی ہے کہ یہ بیان تقریبا 2 سال پرانا ہے۔ جسے سنیدل بلوگ نامی ایک چینل پر شائع کیا گیا تھا۔

جب ہم نے مذکورہ 21 منٹ 23 سیکینڈ والے یوٹیوب ویڈیو کو پورا دیکھا تو پتاچلا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ویڈیو سچ میں ایڈیٹ شدہ ہے۔ جسے متعدد لوگوں نےبغیر تحقیق کے اپنے ہینڈل سے شیئر کردیا ہے۔

یوٹیوب پر ملے بدرالدین اجمل کے وائرل وڈیو کا اصل نسخہ

سوشل میڈیا پر وائر ل ویڈیو کو ایڈیٹ کرکے پھیلائی گئی فرضی خبر

یہاں آپ کو بتادوں کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہورہے 36 سیکینڈ کے ویڈدیو میں سب سے پہلا بڑا ایڈیٹ 8 سیکینڈ کے بعد کیاگیا ہے اور ایسا دکھایا گیا ہے کہ بدرالدین اجمل بھارت کو اسلامی ملک بنانے کی بات کررہے ہیں۔ جس کا سچ مذکورہ ویڈیو میں 5 منٹ 50 سیکینڈ کے بعد سنا جا سکتا ہے۔ دراصل بدرالدین اجمل کہہ رہے ہیں کہ بھارت میں سیکڑوں سال مغلوں کی حکومت رہی ۔لیکن ان کی ہمت نہیں ہوئی کہ بھارت کو اسلامی ملک بنادیں۔

چھتیس سیکینڈ کے اس ویڈیو میں دوسرابڑا ایڈیٹ 12 سیکینڈ کے بعد کیا گیا ہے۔ جس کا سچ ویڈیو کے 7 منٹ 55 سیکینڈ کے بعد سنا جا سکتا ہے۔ تیسرا بڑا ایڈیٹ 30 سیکینڈ کے بعد کیا گیا ہے۔جسے ویڈیو کے 6 منٹ 7 سیکینڈ کے بعد سنا جا سکتا ہے۔

سرچ کے دوران ہمیں آسام کے باشندے اور ایکنامک ٹائمس کے سینئر ایڈیٹر کے طور پر کام کررہے شانتنو شرما کا ایک ٹویٹ ملا۔ جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ بدرالدین اجمل کا جو 36 سیکینڈ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہاہے وہ دراصل ایڈیٹ شدہ ہے۔

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر جو اے آئی یو ڈی ایف کے صدر بدرالدین اجمل کا ویڈیو شیئر کیا گیا ہے وہ دراصل ایڈیٹ شدہ ہے۔ اس ویڈیو کو 2019 کے لوک سبھا الیکشن کے دوران بارپیٹ میں فلمایا گیا تھا۔ جس کے کچھ چنندہ حصے کو 36 سیکینڈ کا ایڈیٹ کرکے متنازعہ شکل دے کر سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا ہے۔


Result: False


Our Sources


Tweet:https://twitter.com/HafizRafiqulMLA/status/1369519811135344645

YouTube:https://www.youtube.com/watch?v=FxxiNC3OqfU

Tweet:https://twitter.com/shantanunandan2/status/1369546476498653185


نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular