منگل, ستمبر 21, 2021
منگل, ستمبر 21, 2021
HomeUrduسعودی عرب کی فلم انڈسٹری کے اعداد و شمار کو غلط طریقے...

سعودی عرب کی فلم انڈسٹری کے اعداد و شمار کو غلط طریقے سے کیا جا رہا ہے پیش

سوشل میڈیا پر ان دنوں سعودی عرب کی فلم انڈسٹری کے اعداد و شمار کے حوالے سے 553 الفاظ پر مشتمل ایک مضمون خوب گردش کر رہا ہے۔ صارفین کا دعویٰ ہے کہ سعودی عرب کے مقدس مقامات پر جانے والے کو 10 ہزار ریال کا جرمانہ دینا پڑتا ہے۔ لیکن سینما ہالز فل، فلم فیسٹیول 7 جولائی تک جاری تھا۔ کورونا کے دوران 20 نئے سینما ہال کھل گئے۔ میٹا سینما کے مطابق 40 ہفتوں میں 73 ملین ڈالر کے سینما ٹکٹس فروخت ہونے کا ریکارڈ قائم ہوا۔2020 میں پوری دنیا کی فلمی صنعت زبوں حالی کا شکار رہی۔ لیکن سرزمینِ وحی میں اسے عروج حاصل رہا۔

سعودی عرب سے متعلق آئے دن کچھ نا کچھ سوشل میڈیا پر گردش ہوتا رہتا ہے۔ جس میں کبھی سعودی حکومت کو اچھا بتایا جاتا ہے تو کبھی گمراہ کن اور فرضی دعوے کے ساتھ ویڈیو اور تصاویر شیئر کئے جاتے ہیں۔ اس طرح کے پوسٹ کو نیوز چیکر کی ٹیم پہلے بھی کئی بار فیکٹ چیک کر چکی ہے۔ وہیں حال کے دنوں میں وائرل ہو رہے پوسٹ کو آپ درج ذیل میں دیکھ سکتے ہیں۔

سعودی عرب کی فلم انڈسٹری کے آکڑے کے حوالے سے وائرل پوسٹ کا اسکرین شارٹ
سعودی عرب کی فلم انڈسٹری کے آکڑے کے حوالے سے وائرل پوسٹ کا اسکرین شارٹ

وائرل پوسٹ کا آرکائیو لنک یہاں، یہاں اور یہاں دیکھیں۔

کراؤڈ ٹینگل پر جب ہم نے وائرل تصویر کے ساتھ کئے گئے دعوے سے متعلق کیورڈ سرچ کیا تو ہمیں پتا چلا کہ اس موضوع پر پچھلے 7 دنوں میں 1,594 فیس بک یوزرس تبادلہ خیال کر چکے ہیں۔

Fact Check/ Verification

سعودی عرب کے حوالے سے وائرل مضمون کو ہم نے غور سے پڑھا تو اس میں کئی نکات نظر آئے جن کی سچائی جاننے کے لئے ہم نے اپنی تحقیقات کا آغاز کیا۔ سب سے پہلے ہم نے اس دعوے کی تحقیقات شروع کی جس میں کہا گیا ہے کہ مقدس مقامات پر جانے پر 10 ہزار کا جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے۔ ہم نے اس حوالے سے گوگل کیورڈ سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں العرابیہ ڈاٹ نیٹ کی 10 جولائی 2021 کو شائع شدہ ایک رپورٹ فراہم ہوئی۔ جس میں ذکر کیا گیا ہے کہ حج قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر 20 افراد پر 10 ہزار ریال جرمانہ عائد کیا گیا ہے، ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ ذو الحجہ کی 13 تاریخ تک کوئی بھی اگر مسجد حرام، اس کے اطراف یا دیگر مقامات مقدسہ تک جانے کی کوشش کرے گا تو سیکیورٹی فورسز اس کے خلاف کارروائی کریں گی۔ مزید سرچ کرنے پر العربیہ کی ہی 5 جولائی 2021 کو شائع ایک اور رپورٹ ملی جہاں صاف طور پر لکھا ہے کہ حج مقامات پر بغیر اجازت جانے پر 20 ہزار ریال کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

اس نکات کے واضح ہونے کے بعد ہم نے دوسرے پوائنٹ سے متعلق اپنی تحقیقات کو آگے بڑھایا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا کورونا کے دوران سعودی عرب میں 20 نئے سینما گھر کھولے گئے ہیں یا نہیں۔ جہاں ہمیں سماء نیوز پر شائع 1 ستمبر 2020 کی ایک خبر ملی۔ جس میں واضح کیا گیا ہے کہ سعودی عرب میں بڑے شہروں کے بعد چھوٹے شہروں میں بھی مزید 20 سنیما گھر کھولے جانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ لیکن رپورٹ میں اس بات کا کہیں بھی ذکر نہیں ہے کہ کب تک 20 نئے سینما گھر کھولے جائیں گے۔

سعودی عرب کی فلم انڈسٹری کے وائرل اعداد و شمار کا کیا ہے سچ؟

تیسرے پوائنٹ میں 40 ہفتوں میں 73 ملین ڈالر کے سینما ٹکٹس فروخت ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ جب ہم نے اس بارے میں کیورڈ سرچ کیا تو ہمیں سعودی پریس ایجنسی کے آفیشل ویب سائٹ پر ایک رپورٹ ملی۔ جس میں میٹا سینما فورم ایگزبیٹر کے حوالے سے واضح کیا گیا ہے کہ سال 2020 میں کُل 73 ملین سے زائد مووی کے ٹکٹس فروخت ہوئے تھے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 6 جولائی سے 17 جولائی تک کانس فلم فیسٹیول منعقد کیا گیا تھا۔ سرچ کے دوران ہمیں کہیں بھی 43 ہفتے میں 73 ملین ڈالر کے سینما ٹکٹس فروخت ہونے کا ریکارڈ قائم ہو نے والے دعوے کا ذکر نہیں ملا اور نا ہی 6 جولائی تک فلم فیسٹیول جاری رہنے کا پتا چلا۔

البتہ سرچ کے دوران اردو نیوز نامی ویب سائٹ پر اس حوالے سے 8 جولائی 2021 کی ایک خبر ملی۔ جس کے مطابق 2019 میں سعودی عرب میں سینما گھروں کی تعداد 12 تھی جو 2020 میں بڑھ کر 33 ہوگئی۔ لیکن اس خبر میں کہیں بھی 2021 کے ڈیٹا کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پچھلے سال کے ڈیٹا کو امسال کا بتاکر شیئر کیا گیا ہے۔ مذکورہ رپورٹس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سعودی عرب کی حکومت مقدس مقامات کے علاوہ دیگر چیزوں پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ سعودی فلم انڈسٹری کے حوالے سے وائرل ڈیٹا گمراہ کن ہے۔ سعودی عرب میں اس سال 43 ہفتے میں 73 ملین ڈالر کے ٹکٹس فروخت نہیں ہوئے ہیں۔ بلکہ 2020 میں 73 ملین سے زائد مووی ٹکٹس فروخت ہوئے تھے۔

Result: Misleading

Our Source

SAMATv

SPA

UrduNews

al arabiya

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular