منگل, نومبر 30, 2021
منگل, نومبر 30, 2021
HomeUrduکیا وائرل تصویر میں نظر آرہی قمیض مبارک حضور پاکﷺ کی ہے؟...

کیا وائرل تصویر میں نظر آرہی قمیض مبارک حضور پاکﷺ کی ہے؟ وائرل دعوے کا پڑھیئے سچ

حضور پاکﷺ کے نام سے منسوب کر کے سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک پیلے رنگ کی قمیض مبارک کو خوب شیئر کیا جا رہا ہے۔ صارفین کا دعویٰ ہے کہ یہ کرتا حضرت محمد ﷺ کا ہے۔ تصویر پر عربی زبان میں “ثوب الرسول من انت لتتکبر” لکھا ہوا ہے۔

حضور پاکﷺ کے نام سے منسوب والا قمیض کا اسکرین شارٹ
حضور پاکﷺ کے نام سے منسوب قمیض کا اسکرین شارٹ

وائرل پوسٹ کا آرکائیو لنک یہاں، یہاں اور یہاں دیکھیں۔

کراؤڈ ٹینگل پر جب ہم نے وائرل تصویر کے ساتھ کئے گئے دعوے سے متعلق کیورڈ سرچ کیا تو ہمیں پتا چلا کہ اس موضوع پر پچھلے 7 دنوں میں 380,448 فیس بک یوزرس تبادلہ خیال کر چکے ہیں۔

Fact Check/ Verification

حضرت محمدﷺ کے نام سے منسوب قمیض کی تصویر کی سچائی جاننے کے لئے ہم نے سب سے پہلے تصویر کو گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں ترکی گیزیٹیسی اور وزارت ثقافت و سیاحت کی آفیشل ویب سائٹ پر وائرل تصویر ملی۔ ویب سائٹ پر دی گئی جانکاری کے مطابق حضرت بی بی فاطمہ رضی الله عنھا کی یہ قمیض ترکی کے استانبول کے توپکپی پیلیس میوزیم میں نمائش کے لئے رکھی گئی ہے۔

وائرل تصویر میں نظر آرہی قمیض حضور پاکﷺ کی نہیں ہے بلکہ بی بی فاطمہ رض کی ہے

مزید سرچ کے دوران ہمیں حنان میاہ نام کا یوٹیوب چینل ملا۔ جس میں توپکپی پیلیس میوزیم کے اندرونی حصے کو دکھایا گیا ہے۔ اس ویڈیو کے 5 منٹ سے 5 منٹ 6 سیکینڈ تک وائرل تصویر میں نظر آرہے کرتے کو دیکھا جا سکتا ہے، جسے فرضی دعوے کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔ کرتے کے ساتھ دی گئی جانکاری کے مطابق یہ قمیض حضرت فاطمہ رضی الله عنھا کی ہی ہے۔

پھر ہم نے حضرت محمدﷺ کے لباس مبارک کے حوالے سے کیورڈ سرچ کیا تو ہمیں وكالة الأناضول للأنباء نامی فیس بک پیج پر 29 مئی 2017 کا ایک ویڈیو ملا۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ آپؐ کا لباس مبارک استنبول کی مسجد “الخارقہ الشریفہ” میں رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وائرل تصویر میں نظرآرہی تلوار حضرت محمد کی نہیں ہے،گمراہ کن دعوے کے ساتھ سوشل میڈیا پر کیاگیا شیئر

Conclusion

نیوز چیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل تصویر میں نظر آرہی قمیض حضور پاکﷺ کی نہیں ہے، بلکہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کی ہے۔ جسے ترکی کے استنبول کے توپکپی پیلیس میوزیم میں نمائش کے لئے رکھا گیا ہے۔

Result: Misleading

Our Sources

Basi.ktb.gov

Turkiyegazetesi

YouTube

AA.Com

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow
Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular