Authors
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
دعویٰ
دہلی کے ڈاکٹر محمد عثمان ریاض ڈاکٹر عثمان ریاض کروناوائرس سے متاثر مریضوں کا علاج کرنے کے دوران جاں بحق ہوگئے۔اللہ ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطاء کرے۔
दिल्ली के डॉ उस्मान रियाज़
करोना पीडित लोगो की जान बचाते बचाते अब हमारे बीच नही रहे
सबको छोड़कर जाने वाले पहले भारतीय डाक्टर है,
अल्लाह जन्नत नसीब फरमाए ।
सादर श्रद्धांजलि
#COVID2019 pic.twitter.com/NInuHgpUUS— Bullet Raja (@BulletRaja8329) March 26, 2020
تصدیق
کروناوائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں لوگ پریشان حال ہیں۔لوگ اس بیماری سے بچنے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔لیکن سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک شخص کی تصویر خوب وائرل ہورہی ہے۔دعویٰ کیا جارہاہے کہ وائرل تصویر والا شخص ڈاکٹرعثمان ریاض ہے۔جو دہلی میں کروناوائرس متاثرین کا علاج کرنے کے دوران اللہ کو پیارے ہوگئے۔اس حوالے سے سوشل میڈیا پر دیگر لوگوں نے بھی مختلف دعوے کے ساتھ اس فوٹو کو شیئر کیا ہے۔
दिल्ली के डॉ उस्मान रियाज़
करोना पीडित लोगो की जान बचाते बचाते अब हमारे बीच नही रहे
सबको छोड़कर जाने वाले पहले भारतीय डाक्टर है,
अल्लाह जन्नत नसीब फरमाए । #COVID2019 pic.twitter.com/tvv00i7OCw— Er shadab chouhan شاداب چوھان (@shadab_chouhan1) March 26, 2020
दिल्ली के डॉ उस्मान रियाज़
करोना पीडित लोगो की जान बचाते बचाते अब हमारे बीच नही रहे
सबको छोड़कर जाने वाले पहले भारतीय डाक्टर है,
अल्लाह जन्नत नसीब फरमाए । #COVID2019india pic.twitter.com/mqmaLB3lgG— Mohd.WASEEM (@Mohdwas13419019) March 27, 2020
ہماری کھوج
وائرل دعوے کو پڑھ نے بعد ہم نے اپنی تحقیقات شروع کی۔سب سے پہلے ہم نے وائرل تصویر کو گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔اس دوران ہمیں ہیلتھ آئی این جی او نامی ویب سائٹ پر وائرل تصویر ملی۔جہاں یہ پتا چلا کہ وائرل تصویر میں نظر آرہا شخص ڈاکٹرریاض عثمان ہےنا کہ عثمان ریاض۔جنہوں نے بنگلور کے راجیوگاندھی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنس سے ایم بی بی ایس کی پڑھائی کی ہے۔
مذکورہ بالاجانکاری سے واضح ہوچکا کہ وائرل ہورہی تصویر ڈاکٹرریاض عثمان کی ہے۔پھر ہم نے مزید کیورڈ سرچ کیا۔جہاں ہمیں ایسٹرڈی ایم ہیلتھ کیئر نامی یوٹیوب چینل پر ڈاکٹرریاض عثمان کی ڈیپریشن کے حوالے سے ایک تقریر ملی۔جو درجہ ذیل ہے۔واضح رہے کہ یہ تقریر دوسال پرانی ہے۔
ان سبھی کھوج کے باوجود یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا ریاض عثمان واقعی دنیاں سے چل بسے ہیں یا محض افواہ ہے۔پھر ہم نے ریاض عثمان کو فیس بک پر سرچ کیا تو ہمیں ان کا پروفائل ملا۔جہاں انہوں نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ وائرل تصویر ان کی ہی ہے۔لیکن وہ اس وقت دوبئی میں ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ لوگوں نے ان کے بارے میں کروناوائرس سے موت کی جھوٹی خبر پھیلا ئی ہے۔الحمدلللہ وہ اس جہاں میں خیر و عافیت سے ہیں۔سوشل میڈیا پر جو مرنے کی خبر وائرل ہورہی ہے وہ سراسر غلط ہے۔
نیوزچیکر کی تحقیق میں ثابت ہوتا ہے کہ وائرل تصویر ڈاکٹر ریاض عثمان کی ہے اور وہ اس وقت دوبئی میں خیر کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ان کی تصویر کو جھوٹے دعوے کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔
ٹولس کا استعمال
گوگل کیورڈ سرچ
ریورس امیج سرچ
یوٹیوب سرچ
ٹویٹرایڈوانس سرچ
فیس بک سرچ
نتائج:جھوٹادعویٰ(افواہ بھری خبر)
نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویزکے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔۔
9999499044
Authors
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.