ہفتہ, نومبر 26, 2022
ہفتہ, نومبر 26, 2022

HomeCoronavirusپاکستا:کروناوائرس کے مریض کو زہر کا ٹیکا دے کر مارا جارہا ہے؟وائرل...

پاکستا:کروناوائرس کے مریض کو زہر کا ٹیکا دے کر مارا جارہا ہے؟وائرل ویڈیو کا پڑھیئے سچ

دعویٰ

ایک اسپتال میں جو جاتا ہے وہ صحیح سلامت نہیں آتا۔

تصدیق

ان دنوں نرس کی لباس میں حجاب پوش خاتون کا انسٹھ سیکینڈ کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے۔جس میں خاتون بول رہی ہے کہ اسپتال میں مریض نا لاؤ زہرکی انجیکشن لگاکرماررہے ہیں اس کے بعد مردہ کو کرونا کٹیگری میں ڈال دیتے ہیں۔ایسے ہی کئی دعوے حجاب پوش خاتون نے کیا ہے۔ہم نے سب سے پہلے وائرل ویڈیو کو سوشل میڈیا پر تلاشنا شروع کیا۔جہاں ہمیں وائرل ویڈیو مختلف زبان میں مختلف دعوے کے ساتھ فیس بک ٹویٹر اور یوٹیوب پر ملا۔جسے پندرہ جون سے سوشل میڈیا پر شیئر کیا جارہا ہے۔درج ذیل میں آرکائیو لنک دیکھ سکتے ہیں۔

گوسلو پلیز نامی ٹویٹر ہینڈل نے اس ویڈیو کو چھ جولائی دوہزاربیس کو شیئر کیا گیا ہے۔جسے ہمارے آرٹیکل لکھنے تک پچھہتر افراد نے ری ٹویٹ کردیا تھا۔جبکہ چوہتر نے لائیک کیا ہے۔جس کا آرکائیو لنک کلک کر کے دیکھیں۔

فیس پک پر رومان خان پختون ن،فری ڈاکٹر آن لائن،دی ورلڈٹوڈے سمیت دیگر کئی پاکستانی یوزرس نے وائرل ویڈیو کو شیئر کیا ہے۔سبھی کے آرکائیو یوزر نام پر کلک کر کے دیکھیں۔ اس علاوہ پاکستانی ٹویٹر ہینڈل پر بھی اس ویڈیو کو مذکورہ دعوے کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔(آرکائیو لنک)

لرننگ زون نامی یوٹیوب چینل پر اس ویڈیو کو شیئر کیا گیا ہے۔جس کا آرکائیو یہاں دیکھیں۔

https://www.facebook.com/kotritv/videos/400539454167121

ہماری تحقیق

وائر ویڈیو کے حوالے سے ہم نے سب سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا پاکستان میں کروناوائرس کے مریض اور اس کے انتظامات کیا کیا حکومت نے کی ہے؟ اس دوران ہمیں جیونیوز پر جانکاری ملی کہ اب تک پاکستان میں دولاکھ چونتیس ہزارچارسو براسی افراد اس وباء میں مبتلا ہیں۔جبکہ اڑتالیس سو اڑتیس کی اموات ہوچکی ہے۔واضح رہے کہ سات جولائی دوہزار بیس وقت چار بجے تک کی رپورٹ ہے۔

اب ہم نے وائرل ویڈیو کے متعلق اپنی ابتدائی تحقیقات شروع کی۔سب سے پہلے ہم نے ویڈیو کا اویسم اسکرین شارٹ کی مدد سے گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔اس دوران ہمیں اسکرین پر پاکستانی فیس بک ہینڈل پر موجود وائرل ویڈیو ملا۔لیکن یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا یہ ویڈیو حقیقت پر مبنی ہے یا نہیں؟

مذکورہ جانکاری سے واضح نہیں ہوسکا تو ہم نے وائرل ویڈیو کے حوالے سے کچھ کیورڈ سرچ کیا۔اس دوران ہمیں پاکستانی ویب سائٹ دلیل پر چودہ جون کا ایک مضمون ملا۔جس کا عنوان کچھ یوں تھا”کیا ڈاکٹر زہر کا ٹیکہ لگا کر مار دیتے ہیں؟ دلیل کی رپورٹ کے مطابق یہ سنی سنائی باتیں ہیں۔وہیں ہم نے یوٹیوب پر اس حوالے سے سرچ کیا تو دی ریفلکٹنگ مسلم نامی یوٹیوب چینل پر حیران کن ویڈیو ملا۔جس میں ڈاکٹر اور مریض اس بات کو خارج کررہے کہ اس طرح کا واقعہ اسپتال میں بالکل بھی پیش نہیں آرہا ہے۔جوبھی ویڈیو، آڈیو اور خبریں شائع ہورہی ہیں وہ سراسر افواہ ہے۔

https://www.youtube.com/watch?v=vv1s5zgY8Gs&t=204s

مذکورہ جانکاری سے واضح ہوچکا کہ وائرل ویڈیو پاکستان کا ہی ہے اور یہ بھی شک ہوا کہ ضرور وائرل ویڈیو میں دعویٰ کررہی خاتون عوام کو گمراہ کررہی ہے۔پھر ہم نے یوٹیوب پر مختلف کیورڈ سرچ کیے۔لیکن کچ بھی مثبت یا منفی خبریں اس حوالے سے نہیں ملی۔کافی مشقت کے بعد سٹی نیوز 41 نامی یوٹیوب چینل پر اڑتیس منٹ اڑتیس سیکینڈ کا ایک ویڈیو ملا۔جس میں رپورٹر پاکستان کے مختلف اسپتال کا جائزہ لیا اور وائرل ویڈیو کے حوالے سے بھی جانکاری دی۔جب ہم نے پورے رپورٹ کو دیکھا تو ہمیں کہیں بھی کسی فرد نے یہ کہتے ہوئے نہیں سنائی دیا کہ پاکستان کے اسپتالوں میں کرونا کے نام پر زہر کا ٹیکا دے کر مریضو کو مارا جارہا ہے۔البتہ رپورٹ میں چھبیس منٹ پندرہ سیکینڈ پر وائرل ویڈیو کو دکھایا گیا ہے اور اسے فرضی بتایا ہے۔اس کے علاوہ پاکستان میں جون ماہ میں کئی ویڈیو اور آڈیو زہرکے انجیکشن کے حوالے سے وائرل ہورہا تھا۔اس آڈیو کو بھی خبر میں شامل کیا گیا ہے۔جو کہ عوام کو گمراہ کرنے اور ڈاکٹروں کو رسوا کرنے کے مقصد سے ویڈیو کو وائرل کیا گیا ہے۔

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا کہ وائرل ویڈیو پاکستان کا ہے۔حجاب پوش خاتون نے زہریلے انجیکشن سے مارنے کا دعویٰ کیا ہے وہ فرضی ہے۔واضح رہے کہ نیوزچیکرکی ٹیم کو وائرل ویڈیو میں نظر آرہی خاتون جو خود کو نرس بتا رہی وہ کون ہے اس بارے میں پتا نہیں چل سکا ہے۔پتا چلتے ہم آپ کو ضرور اپڈیٹ کریں گے۔

ٹولس کا استعمال

اویسم اسکرین شارٹ

ریورس امیج سرچ

گوگل کیورڈسرچ

فیس بک /ٹویٹر ایڈیوانس سرچ

یوٹیوب سرچ

نتائج:گمراہ کن/فرضی دعویٰ

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویزکے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔۔

 9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular