فیس بک پر ایک ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے، جس میں چند پولس اہلکاروں کو مسجد سے نکل رہے نمازیوں پر لاٹھیاں برساتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ صارفین اس ویڈیو کو مذہبی رنگ دےکر شیئر کر رہے ہیں۔
ویڈیو کے ساتھ ایک صارف نے کیپشن میں لکھا ہے “یہ ویڈیو پاکستان اور ساری دنیا کے مسلمانوں کے لئے عبرت ہے۔ اگر اپنے دین کو نہیں ترجیح دیں گے تو اللہ تعالیٰ پھر جوتے مروائے گا۔ انڈین پولس میں سارے ہندو نہیں ہیں بلکہ کچھ مسلمان لڑکے بھی ہیں۔
مگر جب کشمیر میں ظلم ہوتے تھے تو ان ہندوستان کے مسلمانوں کو کبھی کوئی احتجاج یا حکومت سے کشمیر پر مذاکرات کے ذریعے ظلم روکنے کی سوچ بھی نہ آئی اب حالات آپ کے سامنے ہیں اور 25.2 کروڑ مسلمان ہونے باوجود کیسے بے بس و لاچار ہیں ۔اگر پاکستان کے مسلمانوں نے اپنے دینی مدارس کا تحفظ نہ کیا علماء کرام پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھائی تو کل یہی حشر ہونے جا رہا ہے”۔

Fact Check/Verification
نمازیوں پر پولس اہلکاروں کی لاٹھیاں برسانے کی ویڈیو کے ایک فریم کو ہم نے گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں 1 اپریل 2020 کو شیئر شدہ یہی ویڈیو 5 پیلرس نامی فیس بک پیج پر موصول ہوئی۔ جس میں اس ویڈیو کو کرناٹک کا بتایا گیا ہے، جہاں کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کے دوران مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے پر پولس کی جانب سے نمازیوں پر لاٹھی برسائی گئی تھی۔

مزید تحقیقات کے دوران ہمیں یہی ویڈیو نیوز ایجنسی اے این آئی کے آفیشل ایکس ہینڈل پر 26 مارچ 2020 کو شیئر شدہ موصول ہوئی۔ جس میں اس ویڈیو کو کرناٹک کے بلگام کا بتایا گیا ہے۔ جہاں کرونا وائرس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسجد میں باجماعت نماز اداکرنے پر پولس نے نمازیوں کی پٹائی کی تھی۔ اس حوالے سے دیگر رپورٹس یہاں اور یہاں پڑھی جا سکتی ہیں۔

اس ویڈیو کو مارچ 2024 میں بھی فرضی دعوے کے ساتھ شیئر کیا گیا تھا۔ جس سے متعلق فیکٹ چیک یہاں پڑھ سکتے ہیں۔
Conclusion
لہٰذا ہماری تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ نمازیوں پر لاٹھیاں برسا رہے پولس اہلکاروں کی یہ ویڈیو 5 برس پرانی ہے اور اس میں کسی بھی طرح کا مذہبی رنگ نہیں ہے۔
Sources
Facebook post by 5pillars on 1 April 2020
X post by ANI on 26 March 2020
Reports published by Hindustan Times, The Print on 26 March 2020