ہفتہ, دسمبر 4, 2021
ہفتہ, دسمبر 4, 2021
HomeFact Checkکیا محمدﷺ کا خاکہ بنانے والے لارس ولکس کے کار حادثے کا...

کیا محمدﷺ کا خاکہ بنانے والے لارس ولکس کے کار حادثے کا ہے یہ ویڈیو؟

سوشل میڈیا پر ان دنوں کار حادثے کا ایک ویڈیو خوب گردش کر رہا ہے۔ صارفین کا دعویٰ ہے کہ “محمدﷺ کا خاکہ بنانے والے لارس ولکس کی کار حادثے میں عبرت ناک موت ہو گئی۔ اس ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں کہ کار جل کر خاکستر ہو گئی ہے، اسی کار میں وہ ملعون بیٹھ کر سفر کر رہا تھا”۔ اس ویڈیو پوسٹ پر ہمارے آرٹیکل لکھنے تک 9000 شیئر، 2900 لائکس اور 847 کمنٹ کئے جا چکے تھے۔

محمدﷺ کا خاکہ بنانے والے لارس ویلکس کے کار حادثے کا ویڈیو
محمدﷺ کا خاکہ بنانے والے لارس ولکس کے کار حادثے کا ویڈیو

لارس ولکس دنیا بھر میں پیغمبر اسلام محمدﷺ کا متنازعہ خاکہ بنانے کے بعد منظر عام پر آیا تھا۔ لارس ولکس سویڈن کے کارٹونسٹ تھے۔ حضرت محمدﷺ کا خاکہ بنانے کے بعد انہیں دھمکیاں ملنے لگی تھیں۔ جس کے بعد انہیں سخت سیکورٹی مہیا کروائی گئی تھی۔ لارس ولکس نے 2007 میں پیغمر اسلام محمدﷺ کا ایک توہین آمیز خاکہ بنایا تھا۔ جس پر عالم اسلام کے مسلمانوں نے سخت رد عمل ظاہر کیا تھا۔ بتادوں کہ 2010 میں لارس ولکس کے گھر میں دو افراد نے آگ لگانے کی بھی کوشش کی تھی۔ القاعدہ نے ان کو قتل کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق لارس کی موت اتوار کے دن دوپہر کے بعد کار حادثے میں ہو گئی۔ یہ حادثہ سویڈن کے مارکریڈ شہر کے پاس ای 4 ہائی وے پر ہوا تھا۔ اس حادثے میں 2 پولس اہلکار بھی ہلاک ہوئے تھے۔

دوسری جانب لارس ولکس کے کار حادثے کے نام سے ایک 5 منٹ کا ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر مختلف دعوے کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔ جس میں کچھ صارفین اس کیپشن کے ساتھ پوسٹ شئیر کر رہے ہیں کہ “عبرت ناک موت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاکہ بنانے والے کو اللہ سبحانہ و تعالی نے ایسی عبرت ناک موت دی کے ساری دنیا دیکھ رہی ہے”۔

ٹویٹر پوسٹ کا آرکائیو لنک یہاں دیکھیں۔

کراؤڈ ٹینگل پر جب ہم نے “محمدﷺ کا خاکہ بنانے والے لارس ولکس” سرچ کیا تو ہمیں پتا چلا کہ اس موضوع پر محض 24 گھنٹوں میں143,430 فیس بک صارفین تبادلہ خیال کر چکے ہیں۔

Fact Check/ Verification

محمدﷺ کا خاکہ بنانے والے لارس ولکس کے کار حادثے کے نام سے وائرل ویڈیو کی سچائی جاننے کے لئے سب سے پہلے ویڈیو کو اویسم اسکرین شارٹ کی مدد سے کیفریم میں تقسیم کیا۔ پھر ہم نے ان میں کچھ فریم کو ریورس امیج سرچ کیا۔ لیکن کچھ بھی اطمینا بخش نتائج نہیں ملے۔

مذکورہ فریم کو ہم نے ین ڈیکس پر سرچ کیا تو ہمیں روسی کیپشن کے ساتھ کئی لنک فراہم ہوئے۔ جس کا اسکرین شارٹ درج ذیل میں موجو ہے۔

ین ڈیکس پر ملے لنک کو جب ہم نے ایک ایک کرکے کلک کیا تو پتا چلا کہ یہ ویڈیو کم از کم 6 سال پرانا ہے۔ مزید سرچ کے دوران ہمیں ایچ لامر ڈاٹ آریو پر وائرل ویڈیو ملا۔ جس کے کیپشن میں روسی زبان میں کچھ لکھا تھا۔ جب ہم نے اسکرین کو گوگل ٹرانسلیٹ کیا تو پتا چلا کہ “اڈمُرتیا میں سڑک حادثہ،22/09/2014” لکھا ہوا تھا۔

پھر ہم نے اڈمرتیا کو گوگل میپ پر سرچ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ جگہ روس میں ہے۔ اڈمرتیا کو اڈمرت ریپبلک بھی کہتے ہیں اور اس کی راجدھانی ایزیوسک شہر ہے۔

سرچ کے دوران ہمیں اس حادثے سے متعلق روسی زبان میں میڈیا رپورٹس بھی ملیں۔ ٹی وی زویزدا کی رپورٹ کا ترجمہ کر نے پر پتا چلا کہ 21 ستمبر 2014 کو ایلابوگا پرم ہائی وے پر ایک بھیانک کار حادثہ ہوا تھا، جس میں 9 کاریں آپس میں ٹکرا گئی تھیں اور وی اے زیڈ 2107 کار میں آگ لگ گئی تھی۔ جس کے نتیجے میں اس کار کا ڈرائیور جل کر ہلاک ہو گیا تھا۔ ان رپورٹس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ویڈیو حال کے دنوں کا نہیں ہے اور نا ہی محمدﷺ کا خاکہ بنانے والے لارس ویلکس کے کار حادثے کا ہے۔

ہم نے سرچ کیا کہ محمدﷺ کا خاکہ بنانے والے لارس ولکس واقعی کار حادثے میں ہلاک ہوا ہے تو ہمیں اس دوران بی بی سی اور میٹرو نامی ویب سائٹ پر ان کے ہلاک ہونے کی خبر ملیں۔ ساتھ ہی اس جگہ کی تصویر بھی ان رپورٹس میں شائع کی گئی ہیں۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ وائرل ویڈیو روس کا ہے اور لارس ولکس کا کار حادثہ جنوبی سویڈن میں ہوا تھا۔

Conclusion

نیوز چیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل ویڈیو کم از کم 7 سال پرانا ہے اور روس کا ہے۔ اس ویڈیو کا محمدﷺ کا خاکہ بنانے والے لارس ولکس کے کار حادثے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔


Result: Misleading


Our Sources

YouTube

Hlamer.ru

CrashCarRussia

Tvzvezda.ru

GoogleMaps

BBC
Metro


نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow
Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular