اتوار, جنوری 16, 2022
اتوار, جنوری 16, 2022
HomeFact Checkامریکہ کے الاباما میں مانع حمل کا آلہ ہاتھ میں لےکر بچے...

امریکہ کے الاباما میں مانع حمل کا آلہ ہاتھ میں لےکر بچے کی نہیں ہوئی ولادت

سوشل نٹورکنگ سائٹس پر نومولود بچے کی ایک تصویر شیئر کی جارہی ہے۔ جس میں نومولود بچہ مانع حمل کا آلہ (آئی یو ڈی) ہاتھوں میں لئے ہوئے ہے۔ دعویٰ ہے کہ “امریکہ کے الاباما میں نومولود بچہ اپنے ہاتھ میں مانع حمل کا آلہ لےکر پیدا ہوا ہے”۔

فیس بک پر ایک صارف نے تصویر کے کیپشن میں لکھا ہے کہ “فَتَبَارَکَ اللّٰہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ، ‘دنیا والوں کی تمام تدبیریں دھری کی دھری رہ گییں، بچے کی پیدائش روکنے کے لئے جو مانع حمل کوائل(آئی یو ڈی) استعمال کیا تھا، اسی کو ہاتھ میں لیے ہوئے بچہ امریکہ کی ریاست الاباما میں پیدا ہوا، بچے کی والدہ کا نام لوسی ہیلن ہے، جس کے یہاں تیسرے بچے نے جنم لیا، اس بچےکی پیدائش نے اہل دنیا کو تعجب میں ڈال دیا ہے کہ جو شے اسکے وجود کے لئے مانع تھی، وہ اسی کو اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے پیدا ہوا، یہ تصویر انٹرنیٹ پر وائرل ہو چکی ہے اور اب تک 73ہزار سے زائد لوگ اسے شیر کرچکے ہیں’، اِنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡر ٌ”۔

امریکہ کے الاباما میں مانع حمل کا آلہ ہاتھ میں لےکر بچے کی ولادت کی خبر گمراہ کن ہے۔
Courtesy: Fb/Muhammad Qasim Nasrullah

ٹویٹر پر بھی مذکورہ دعوے کے ساتھ آئی یو ڈی ہاتھ میں لئے نومولود بچے کی تصویر شیئر کی گئی ہے۔

مذکورہ تصویر کو واہٹس ایپ گروپ میں بھی شیئر کیا گیا ہے۔

ٹویٹر پر وائرل پوسٹ کا آرکائیو لنک یہاں، یہاں اور یہاں دیکھیں۔

Fact check/verification

امریکہ کے الاباما میں نومولود بچہ اپنے ہاتھ میں مانع حمل کا آلہ لےکر پیدا ہوا ہے۔ اس دعوے کی سچائی جاننے کے لئے سب سے پہلے ہم نے وائرل تصویر کو گوگل لینس پر سرچ کیا۔ جہاں ہمیں خبروں کے متعدد لنک فراہم ہوئے، جو 2017 میں شائع کی گئی تھیں۔

پھر ہم نے ریورس امیج کے ساتھ انگلش میں کچھ کیورڈ سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں گلوبل نیوز و 10 ٹیمپا بے نامی ویب سائٹ پر اس حوالے سے خبریں ملیں۔ 4 مئی 2017 کو شائع گلوبل نیوز کی رپورٹ کے مطابق اس بچے کا نام ڈیکسٹر ٹیلر ہے اور اس کی ماں کا نام لوسی ہیلن ہے۔ یہ بچہ 27 اپریل 2017 کو پیدا ہوا تھا۔ اس کی ماں نے مانع حمل آلہ (آئی یو ڈی) کا استعمال کیا تھا۔ اس کے بعد بھی وہ حاملہ ہو گئی، اس کے ڈاکٹر و نرس کا خیال تھا کہ اس کا مانع حمل آلہ (آئی یو ڈی) گر چکا ہے لیکن جب بچے کی پیدائش ہوئی تو انہیں آئی یو ڈی اس کی ماں کی نال کے پیچھے ملا۔ جسے بعد میں کسی نے اس بچے کے ہاتھ میں پکڑا کر تصویر کلک کر لی۔ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ تصویر اتنی سرخیاں بٹورے گی۔

مئی 2017 میں ہی شائع 10 ٹیمپا بے کی رپورٹ میں بھی انہیں باتوں کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ اس رپورٹ میں ایک ویڈیو بھی شامل ہے جس کے 56 سیکینڈ پر لوسی ہیلن نامی خاتون کو انٹرییو دیتے سنا جا سکتا ہے۔ وہ واضح طور پر کہہ رہی ہیں کہ بچہ ہاتھ میں آئی یو ڈی لے کر پیدا نہیں ہوا تھا بلکہ اس کی پیدایش کے وقت ڈاکٹر کو ان کا آئی یو ڈی بھی ملا تھا۔

مزید سرچ کے دوران ہمیں نیو یارک پوسٹ پر بھی اس سے متعلق خبر ملی۔ اس رپورٹ میں لوسی ہیلن کا انسٹاگرام پوسٹ بھی ملا۔ جس میں انہوں نے صاف طور پر لکھا ہے کہ آئی یو ڈی ان کی نام کے پیچھے ملا ہے۔

Conclusion

نیوز چیکر کی تحقیقات میں واضح ہوتا ہے کہ یہ بچہ ہاتھ میں مانع حمل کا آلہ لے کر پیدا نہیں ہوا تھا بلکہ اس کی پیدائش کے وقت ڈاکٹر کو یہ آئی یو ڈی اس کی ماں کی نال(پلےسینٹا) کے پیچھے ملا تھا۔ جس کے بعد کسی نے وہ آلہ بچے کے ہاتھ میں دیکر تصویر کلک کر لی تھی۔ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ تصویر اس قدر سرخیاں بٹورے گی۔ یہ بات بھی فرضی ثابت ہوئی کہ سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہے۔


Result: Misleading

Source

Globalnews: https://globalnews.ca/news/3426080/baby-iud-hand-birth/

10Tampabayo:https://www.wtsp.com/article/news/baby-born-holding-mirena-iud-mom-sets-the-record-straight/67-436603932

NewYorkPost: https://nypost.com/2017/05/04/baby-poses-for-pic-with-moms-iud-moments-after-birth/


نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow
Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular