اتوار, فروری 5, 2023
اتوار, فروری 5, 2023

HomeFact Checkکیا پیپسی کے ریپر لگے بیئر کینز کی قطر فیفا ورلڈ کپ...

کیا پیپسی کے ریپر لگے بیئر کینز کی قطر فیفا ورلڈ کپ کے دوران ہوئی اسمگلنگ؟

فیس بک پر پیپسی کے ریپر لگے بیئر کینز والی تصویر وائرل ہو رہی ہے۔ دعویٰ ہے کہ فٹ بال ورلڈ کپ کے دوران قطر میں ہالینڈ کی مشہور ہائے نیکن بیئر کے کین پر پیپسی کے ریپر چڑھا کر قطر میں اسمگل کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن کامیابی نہیں مل سکی۔

فیس بک پر ایک صارف نے تصویر کے کیپشن میں لکھا ہے کہ فٹ بال ورلڈ کپ کے دوران قطر کی حکومت نے شعائرِ اسلام کا بہت خیال رکھا ہے اور بڑی سختی سے ان پر کاربند ہے مگر اس کے باوجود دنیا کے ہر حصّے میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو قوانین کی خلاف ورزی کرکے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ حکومت نے اس ٹورنامنٹ کے دوران شراب پر مکمل پابندی عائد کی ہے مگر کچھ لوگوں نے ہالینڈ کی مشہور زمانہ ہاے نیکن بیئر کے کین پر پیپسی کولا کے ریپر چڑا کر قطر میں اسمگل کرنے کی کوشش کی ھے ۔

پیپسی کے ریپر لگے بیئر کینز والی یہ تصویر قطر ورلڈ کپ کے دوران کی گئی اسمگلنگ کی نہیں ہے
Courtesy:FB/Saudtabish

Fact Check/Verification

پیپسی کے ریپر لگے بیئر کینس والی تصویر کو ہم نے گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں العربیہ اردو نیوز ویب سائٹ پر 12 نومبر 2015 کو ہوبہو تصویر کے ساتھ شائع رپورٹ ملی۔ جس میں دی گئی معلومات کے مطابق سعودی عرب کے کسٹم حکام نے الکوحل والی بیئر کے 48 ہزار کینز اسمگل کرنے کی کوشش کو ناکام بنا دیا تھا۔ کنٹینرز کا معائنہ کرنے پر انکشاف ہوا کہ بیئر کے کینز کو چالاکی کے ساتھ پیپسی برانڈ کے اسٹیکرز سے چھپایا گیا تھا، جسے ضبط کر کےا اسمگلر کو گرفتار بھی کر لیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ ہم نے مزید کیورڈ سرچ کیا تو ہمیں پیپسی کے ریپر لگے بیئر کینز والی تصویر کے ساتھ شائع ڈیلی میل، بی بی سی انگلش، دی واشنگٹن پوسٹ اور سعودی عرب کی نیوز ویب سائٹ الریاض پر 2015 کی رپورٹس ملی۔ جس میں بھی اسے سعودی عرب کا بتایا گیا ہے۔ قطر فیفا ورلڈ کپ 2022 سے اس تصویر کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

Conclusion

نیوز چیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوا کہ پیپسی کے ریپر لگے بیئر کینز والی اس تصویر کا تعلق قطر فیفا ورلڈ کپ سے نہیں ہے۔ بلکہ 2015 میں سعودی عرب کے کسٹم حکام نے ہائے نیکن کمپنی کے 48 ہزار بیئر کینز پکڑے تھے، جس پر پیپسی کا اسٹیکر لگا ہوا تھا۔

Result: False

Our Sources

Report published by Urdu Al Arabiya on 12 Nov 2015
Report published by BBC on 12 Nov 2015
Report published by The washington post on 12 Nov 2015

کسی بھی مشکوک خبر کی تحقیقات، تصحیح یا دیگر تجاویز کے لیے ہمیں واٹس ایپ کریں: 9999499044 یا ای میل: [email protected]

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular