ہفتہ, دسمبر 4, 2021
ہفتہ, دسمبر 4, 2021
HomeFact Checkکیا کوئی خود کا آکسیجن لیول بغیر مشین کے چیک کر سکتا...

کیا کوئی خود کا آکسیجن لیول بغیر مشین کے چیک کر سکتا ہے؟ وائرل دعوے کا پڑھیئے سچ

سوشل میڈیا پر خود سے آکیسجن لیول چیک کرنے کے دعوے کے ساتھ 30 سیکینڈ کا ایک گرافک والا ویڈیو شیئر کیا جارہا ہے۔ جس میں لکھا ہے کہ اگر آپ اپنا سانس پوائنٹ “اے” سے “بی” تک روکنے میں کامیاب ہوگئے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آپ کے پھیپھڑے تندرست ہیں اور کرونا سے متاثر نہیں ہیں۔
طریقہ کار : ویڈیو پلے کر کے پہلے اے تک سانس اندر لیں اور اس کے بعد سانس کو بی تک رو ک لیں۔

 آکسیجن لیول خود چیکر کرنے والے دعوے کا اسکرین شارٹ
آکسیجن لیول خود چیکر کرنے والے دعوے کا اسکرین شارٹ

ملک بھر میں کرونا وائرس کی وجہ سے عوام پریشان ہے۔ مہلک وباء کی وجہ سے بھارت میں اب تک لاکھوں اموات ہوچکی ہیں۔ شمشان اور قبرستان میں جگہ کی قلت پڑ گئی ہے۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر آئے دن اس وباء سے متعلق فرضی اور گمراہ کن دعوے کے ساتھ پوسٹ شیئر کئے جا رہے ہیں۔ ان دنوں 30 سیکینڈ کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہا ہے۔ جس میں بغیر مشین کے آکسیجن لیول چیک کرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ جسے آپ درج ذیل میں یک بعد دیگر پوسٹ میں دیکھ سکتے ہیں۔

 آکسیجن لیول خود چیکر کرنے والے دعوے کا اسکرین شارٹ
آکسیجن لیول خود چیک کرنے والے دعوے کا اسکرین شارٹ

وائرل پوسٹ کے آرکائیو لنک یہاں، یہاں، یہاں اور یہاں کلک کرکے دیکھیں۔

کراؤڈ ٹینگل پر جب ہم نے وائرل دعوے والے فیس بک پوسٹ کا ڈیٹا سرچ کیا تو ہمیں پتا چلا کہ پچھلے 3 دنوں میں اس موضوع پر 667 یوزرس تبادلہ خیال کر چکے ہیں۔ درج ذیل میں اسکرین شارٹ موجود ہے۔

آکسیجن لیول چیک کرنے والے دعوے کا ڈیٹا
آکسیجن لیول چیک کرنے والے دعوے کا ڈیٹا

Fact Check/Verification 

وائرل دعوے کی سچائی جاننے کے لئے ہم نے اپنی ابتدائی تحقیقات شروع کی۔ سب سے پہلے ہم نے وائرل ویڈیو میں کئے گئے دعوے کی سچائی جاننے کے لئے ڈبلیو ایچ او کے ویب سائٹ کو کھنگالا۔ جہاں ہمیں 30 مارچ 2020 کا ایک پوسٹ ڈبلو ایچ او کے آفیشل فیس بک ہینڈل پر ملا۔ جس میں مذکورہ دعوے کے حوالے سے جانکاری دی گئی ہے کہ ” 10 سیکینڈ یا اس سے زیادہ دیر تک بغیر کھانسے یا کسی تکلیف کے سانس روکے رکھنا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ آپ کو کرونا وائرس یا پھیپھڑے سے متعلق کوئی دوسری بیماری نہیں ہے۔

ڈبلو ایچ او نے اپنے فیس بک پوس میں لکھا ہے کہ خود سے آکسیجن لیول چیک کرنے کا دعویٰ فرضی ہے
ڈبلو ایچ او نے اپنے فیس بک پوسٹ میں لکھا ہے کہ خود سے آکسیجن لیول چیک کرنے کا دعویٰ فرضی ہے

یہ بھی پڑھیں: کیا اسدالدین اویسی نے ٹرین کے ذریعے بھیجا آکسیجن ٹینکر؟

پھر ہم مذکورہ دعوے کے حوالے سے مزید کیورڈ سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں فہیم یونس نامی آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر شیئر شدہ ٹویٹ ملا۔ جس میں یونس نے کووڈ 19 سے متعلق کئی افواہوں کی سچائی بتائی ہے۔ جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ بہت سارے جوان مریض کرونا واِئرس ہونے کے باوجود دس سیکینڈ یا اس سے زیادہ دیر سانس روک لیتے ہیں۔جبکہ کچھ بزرگ کروناوائرس نہ ہوتے ہوئے بھی ایسا نہیں کر پاتے ہیں۔

فہیم یونس نے اپنے ٹویٹ میں بتایا کہ خود سے آکسیجن لیول چیک کرنے کا دعویٰ فرضی ہے
فہیم یونس نے اپنے ٹویٹ میں بتایا کہ خود سے آکسیجن لیول چیک کرنے کا دعویٰ فرضی ہے

مذکورہ جانکاری سے تسلی نہیں ہوئی تو ہم نے بہار ڈی ایم سی ایچ کی ڈاکٹر نازیہ ممتاز سے رابطہ کیا اور انہیں واہٹس ایپ پر وائرل ویڈیو بھیجا۔ جسے دیکھنے کے بعد ڈاکٹر نازیہ ممتاز نے بتایا کہ گرافکس میں دکھایا گیا طریقہ کار بھروسے مند نہیں ہے، یہ دعویٰ محض افواہوں پر مبنی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا کیلا کھانے سے کرونا وائرس کا ہوتا ہے خاتمہ؟

Conclusion

نیوز چیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ 10 سیکینڈ سانس روک کر آکسیجن لیول چیک کرنے کا دعویٰ سراسر فرضی ہے۔ عوام کو گمراہ کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر فرضی ویڈیو شیئر کیا جا رہا ہے۔

Result: False

Our Source

WHO

Faheem Younus

Dr. Naziya Mumtaz: DMCH


نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow
Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular