بدھ, جنوری 19, 2022
بدھ, جنوری 19, 2022
HomeFact Checkجلے ہوئے انسانوں کی یہ تصویر برما کے مسلمانوں کی نہیں ہے

جلے ہوئے انسانوں کی یہ تصویر برما کے مسلمانوں کی نہیں ہے

سوشل نٹورکنگ سائٹس پر جلے ہوئے انسانوں کی ایک تصویر کافی تعداد میں شیئر کی جا رہی ہے۔ تصویر کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ زمین پر بکھری جلے ہوئے انسانوں کی لاش کی یہ تصویر برما کے مسلمانوں کی ہے۔ صارف نے تصویر کے ساتھ کیپشن میں لکھا ہے کہ “تمھیں یاد ہو یا نہ ہمیں یاد ہے سب، یہ برما کے مسلمان ہیں جن کو جلایا گیا، لیکن جو واقعہ کل پیش آیا وہ بھی قابل مذمت ہے، بس اتنا کہوں گا اسلام کے بارے میں بکواس بند رکھیں اور جو مجرم ہیں ان کو سزا دی جائے”۔

جلے ہوئے انسانوں کی یہ تصویر برما کی نہیں ہے بلکہ کانگو کی ہے۔
Courtesy: Twitter@abbas_dahelvi

رواں سال کے 3دسمبر کو پاکستان کے سیالکوٹ کے لیدر فیکٹری کے منیجر پریانتھا کمار کو مذہبی پوسٹر پھاڑنے کے الزام میں سرعام فیکٹری کے ملازموں نے جلا کر موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ پاکستانی نیوز ویب سائٹ اے آر وائی کے مطابق پریانتھا کی جسد خاکی سری لنکا روانہ کر دیا گئی ہے، پریانتھا کمار گزشتہ 9 برسوں سے سیالکوٹ کے وزیرآباد روڈ پر واقع لیدر فیکٹری میں منیجر کے عہدے پر کام کر رہے تھے، جنہیں ایک ہجوم نے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ اسی کے پیش نظر جلے ہوئے انسانی جسموں کی ایک تصویر کو برما کے مسلمانوں کا بتا کر شیئر کیا جا رہا ہے۔

نیوز ویب سائٹ اور وائرل پوسٹ کا آرکائیو لنک یہاں، یہاں، یہاں اور یہاں دیکھیں۔

فیس بک پر مذکورہ دعوے کے ساتھ شیئر کی گئی تصویر کو کتنے صارفین نے پوسٹ کیا ہے، یہ جاننے کے لئے ہم نے کراؤڈ ٹینگل پر کیورڈ سرچ کیا تو ہمیں پتا چلا کہ اس موضوع پر 3 دنوں میں 9 پوسٹ شیئر کئے گئے ہیں اور 31 فیس بک صارفین نے اس موضوع پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ جبکہ ٹویٹر پر متعدد صارفین نے اس تصویر کو شیئر کیا ہے۔

Courtesy: Crowdtangle

Fact Check/Verification

جلے ہوئے انسانوں کے جسم والی وائرل تصویر برما کے مسلمانوں کی ہے یا نہیں؟ اس کی سچائی جاننے کے لئے ہم نے سب سے پہلے تصویر کو گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔ جہاں ہمیں وائرل تصویر سے متعلق متعدد خبریں ملیں۔ جن میں زیادہ تر ویب سائٹ نے اس تصویر کو میانمار کا بتایا ہے۔

Screenshot of google reverse image search

ہم نے اپنی تحقیقات میں اضافہ کرتے ہوئے ین ڈیکس سرچ کیا۔ جہاں ہمیں وائرل تصویر سے ملتی جلتی ایک تصویر کے ساتھ لیبر تاتیا نامی ویب سائٹ پر 2012 کی ایک رپورٹ ملی، جو رومانی زبان میں تھی۔ ہم نے جب اس رپورٹ کے ہینڈ لائن کو گوگل ٹرانسلیٹ کیا تو ہمیں پتا چلا کہ “کانگو میں ایک حادثے کی یہ تصویر ہے، جس میں 206 افراد جاں بحق ہو گئے تھے، جبکہ 1500 زخمی ہوئے تھے”۔

Courtesy: Liber Tatea

مذکورہ غیرملکی رپورٹ سے یہ سراغ ملا کہ یہ تصویر برما کے مسلمانوں کی نہیں ہے، بلکہ کانگو ایندھن ٹینکر حادثے کی ہے۔ پھر ہم نے انگلش میں “کانگو انسیڈینٹ 200 پلس ڈیڈ” کیورڈ سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں ڈوکومینٹنگ ریئلیٹی نامی ویب سائٹ پر جولائی 2010 کی ایک رپورٹ ملی۔ رپورٹ میں دی گئی جانکاری کے مطابق دیہی مشرقی کانگو کے ہائی وے پر ایک تیل سے بھرے ٹرک میں دھماکہ ہوا تھا، جس میں تقریبا 220 افراد کی اموات ہوگئی تھیں، مہلوکین میں 61 بچے اور 36 خواتین شامل ہیں۔

Courtesy: Docئmenting Reality

اس خبر سے متعلق جب ہم نے کیورڈ سرچ کیا تو ہمیں 3 جولائی 2010 کو شائع شدہ دی اسٹار، ریوٹرس، این بی سی نیوز اور چینل4 پر خبریں ملیں۔ جن میں کانگو میں پیش آئے ایندھن ٹینکر کی وجہ سے ہوئی اموات کا ذکر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سیالکوٹ سانحہ سے جوڑ کر پتلے کو نذر آتش کرنے کی تصویر گمراہ کن دعوے کے ساتھ وائرل

Conclusion

نیوز چیکر کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جلے ہوئے انسانوں کی تصویر برما کے مسلمانوں کی نہیں ہے، بلکہ غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق جلے ہوئے انسانوں کی یہ تصویر کانگو کی ہے، جہاں 2010 میں ایک حادثہ پیش آیا تھا، جس میں تیل ٹینکر میں آگ لگ گئی تھی۔


Result: Misplaced Context

Our Sources

Ibertatea.ro:(https://www.libertatea.ro/stiri/un-bilant-nou-al-exploziei-din-congo-indica-206-morti-si-1500-de-raniti-711041)

Documentingreality.com:(https://www.documentingreality.com/forum/f10/fuel-truck-disaster-july-2010-a-56273/)

TheStar:(https://www.thestar.com.my/news/world/2010/07/03/fuel-tanker-explosion-kills-over-220-in-congo_2)

Reuters: (https://www.reuters.com/article/idINIndia-49858720100703)


نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow
Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular