جمعرات, دسمبر 1, 2022
جمعرات, دسمبر 1, 2022

HomeFact Checkسی اے اے احتجاج:جامعہ کے دھرنے میں۴ ماہ کے بچے کا انتقال!وائرل...

سی اے اے احتجاج:جامعہ کے دھرنے میں۴ ماہ کے بچے کا انتقال!وائرل دعوے کا کیا ہے سچ؟پڑھیئے ہماری تحقیق

دعویٰ

انا للہ وانا الیہ راجعون

دہلی جامعہ کے پروٹسٹ میں روزآنہ اپنی والدہ کے ساتھ شرکت کرنے والی ننھی پری کو ٹھنڈ لگی پھر بیمار ہوئی  اور آج جنت کو روانہ ہو گئی۔

آج دل بہت زیادہ دکھی ہے۔

آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں

آپ صرف تصور کریں کہ اس کے والدین کے دل پہ کیا گزر رہی ہوگی ؟؟؟

تصدیق

جامعہ ملیہ اور شاہین باغ سمیت ملک کے مختلف ریاستوں اور قصبوں میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاج جاری ہے۔احتجاج کے تعلق سے طرح طرح کے افواہ پھیلائے جارہے ہیں۔لیکن ان دنوں ایک معصوم بچے کی موت کو لے کر ایک خبر سوشل میڈیا پر سب کو حیران کر رکھا ہے۔دعویٰ کیا جارہاہے کہ جامعہ کے احتجاج میں روز اپنی والدہ کے ساتھ آنے والی ننھی پری کو ٹھنڈ لگی۔جس کے بعد وہ اللہ کو پیاری ہوگئی۔اس ٹویٹ کے علاوہ دیگر لوگوں نے مختلف تصویر کے ساتھ الگ الگ انداز میں پوسٹ شیئر کیا ہے۔

ہماری کھوج

سبھی وائرل تصویر اور پوسٹ کو دیکھنے سمجھنے کے بعد ہم نے اپنی تحقیقات شروع کی۔اس دوران ہم نے تصویر کو گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔جہاں ہمیں نیوزایٹین اردو،دی ٹریبیون اور امراجالا پر شائع کچھ خبریں ملیں۔جس کے مطابق شاہین باغ میں اپنی والدہ کے ساتھ احتجاج میں شرکت کرنے والا چار ماہ کا محمد جہاں حکومت کے سخت رویے اور ٹھنڈ کی قہر سہ نہ سکا اور وہ اللہ کو پیارا ہو گیا۔مرحوم محمد کی والدہ گزشتہ کئی دنوں سے سی اے اے کے خلاف احتجاج میں شاہین باغ اسے لے کر آتی تھیں اور مظاہرین معصوم کے رخسار پر ترنگے بناتے تھے۔

شاہین باغ احتجاج: ماں کے ساتھ روز آتا تھا یہ معصوم، ٹھنڈ نے لے لی جان، لوگ اس کے چہرے پر بناتے تھے ترنگا

News18 Urdu: محمد کی ماں نازیہ اسے روز شاہین باغ کے احتجاج میں لے جاتی تھی۔ لیکن محمد اب کبھی شاہین باغ میں نظر نہیں آئے گا۔

Infant dies after catching cold at Shaheen Bagh, mother to return for protest

Four-month-old Mohammed Jahaan accompanied his mother almost every day to the Shaheen Bagh demonstration where he was a favourite with the protesters who would take turns to hold him and often draw the tricolour on his cheeks. But Jahaan will not be seen at Shaheen Bagh anymore.

نیچے موجود ایک تصویر میں آپ چارمہینے کے مرحوم محمد جہاں اور ان کے والدین کو دیکھ سکتے ہیں۔

ہماری تحقیقات میں یہ واضح ہوچکا کہ چار مہینے کے معصوم کی موت جامعہ احتجاج میں نہیں بلکہ شاہین باغ میں ہوئی ہے۔پھر ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ جو فلم ساز رنجن اگنیہوتری نے جس تصویر کو شیئر کیا ہے۔اس خاتون کا نام کیا ہے آیا وہ شاہین باغ بچے کو لے کر آتی ہے یا نہیں؟تب ہمیں دی ٹیلی گراف پر شائع ایک خبر ملی۔جس کے مطابق شاہین باغ کے احتجاج میں سب سے چھوٹی پروٹیسٹر آشیانہ نام کی بچی ہے۔جوبیس دن کی ہے۔

نیوزچیکر کی تحقیق میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل تصویر میں جس بچے کی موت کی خبر جامعہ احتجاج کے نام سے وائرل ہورہا ہے۔دراصل وہ شاہین باغ کا ہے۔جس کا نام محمد جہاں ہے۔واضح رہے کہ شاہین باغ کے تعلق سے جس خاتون کے بچے کی تصویر وائرل ہورہی ہے۔وہ شاہین باغ کا سب سے چھوٹی بچی شمار کی گئی ہے۔

ٹولس کا اسعمال

گوگل کیورڈ سرچ

فیس بک ٹویٹر ایڈوانس سرچ

ریورس امیج سرچ

نتائج:گمراہ کن(جھوٹادعویٰ)

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویزکے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔۔

9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular