جمعہ, جون 14, 2024
جمعہ, جون 14, 2024

ہومFact CheckFact Check: پاکستان میں بچے کی پٹائی کی ویڈیو کو بھارت کا...

Fact Check: پاکستان میں بچے کی پٹائی کی ویڈیو کو بھارت کا بتاکر کیا جارہا ہے شیئر

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

سوشل میڈیا پر بچے کی پٹائی کی ایک ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے، جس میں ہوٹل کے سامنے ایک بچے کو ایک فوجی لات گھوسوں سے مارتے ہوئے نظر آرہا ہے۔ ویڈیو سے متعلق دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یہ منظر بھارت کے کشمیر سے 370 ہٹائے جانے کے بعد کا ہے۔

بچے کی پٹائی کی یہ ویڈیو کشمیر کی نہیں ہے۔
Courtesy: Twitter @iKAMAsuthra

Fact Check/Verification

بچے کی پٹائی کی ویڈِیو کو ہم نے اویسم اسکرین شارٹ کی مدد سے کیفریم میں تقسیم کیا اور ان میں سے چند فریم کو گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔ جہاں ہمیں فیس بک، ٹویٹر، یوٹیوب کے متعد لنک فراہم ہوئے۔ جس میں اس ویڈیو کو پاکستانی رینجر کی جانب سے ایک بچے پر کئے گئے تشدد کا تبایا گیا ہے۔

مزید سرچ کے دورن ہمیں اچھے کوالیٹی کی ویڈیو محمد عثمان، عفیرا کی میمس اور کراچی ٹوڈے نامی فیس بک پیج پر ملیں۔ جس کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق ویڈیو پاکستان کے کراچی کے کلفٹن ایریا کی ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے ویڈیو کو غور سے دیکھا تو فوجی کے بازو پر پاکستانی پرچم نظر آیا اور جہاں بچے کی پٹائی کی جارہی ہے اس کے اوپر لگے بورڈ پر الکاکڑ ہوٹل کا بورڈ بھی دکھائی پڑ رہا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مذکورہ وائرل ویڈیو کا تعلق بھارت کے کشمیر سے نہیں ہے، بلکہ پاکستان سے ہے۔

اس کے علاوہ گوگل میپس پر بھی وائرل ویڈیو میں نظر آرہی عمارتوں سے ملتی جلتی عمارتوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ وہیں پاکستانی سینیر صحافی کامران ساقی کو بھی ہم نے وائرل ویڈیو کو بھیجا تو انہوں نے بھی یہ واضح کیا کہ ویڈیو پاکستان کے کراچی کی ہے۔ لیکن اس واقعے سے متعلق کوئی ایسی میڈیا رپورٹس نہیں ملیں جس سے بچے پر فوجی جوان کی جانب سے کئے گئے تشدد کی اصل وجہ واضح ہو سکے۔

Conclusion

لہذا نیوز چیکر کی تحقیقات سے یہ واضح ہو چکا کہ بچے کی پٹائی کی وائرل ویڈیو کا تعلق بھارت کے کشمیر سے نہیں، بلکہ پاکستان سے ہے۔

Result: False

Our Sources
Facebook post by usmansiddique.pk, areefabibi100 and Karachi Today
Google maps
Conversation with Pak Journalist Kamran Saqi

Self Analysis by Newschecker


نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کرسکتے ہیں۔ 9999499044

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Most Popular