بدھ, جولائی 24, 2024
بدھ, جولائی 24, 2024

ہومFact CheckFact Check: کیا پیغمبرِ اسلامﷺ کے کپڑے اور چپلوں کی ہے یہ...

Fact Check: کیا پیغمبرِ اسلامﷺ کے کپڑے اور چپلوں کی ہے یہ تصویر؟ جانیں پورا سچ

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Claim
پیغمبرِ اسلامﷺ کے کپڑے اور ساز و سامان کی تصویر۔
Fact
تصویر میں موجود کپڑے اور ساز و سامان محمدﷺ کے نہیں بلکہ مصر کے پادری کے ہیں۔

سوشل نٹورکنگ سائٹس فیس بک اور ایکس(ٹویٹر) پر ایک تصویر شیئر کی جا رہی ہے، جس میں چند کپڑے، چپل و دیگر ساز و سامان نظر آرہے ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ تصویر میں نظر آنے والے کپڑے پیغمبرِ اسلام محمدﷺ کے ہیں۔

پیغمبرِ اسلامﷺ کے کپڑے کی تصویر نہیں ہے بلکہ مصری پادریوں کے ساز و سامان ہیں۔
Courtesy: Facebook/ Fawad Turabi

Fact Check/Verification

پیغمبرِ اسلامﷺ کے کپڑے کا بتاکر شیئر کی گئی تصویر کو سب سے پہلے ہم نے بنگ ٹول پر سرچ کیا۔ جہاں ہمیں 8 جنوری 2022 کو شیئر شدہ ریڈیو غزہ کے آفیشل فیس بک پیج پر ہوبہو تصویر ملی۔ جس کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق کپڑوں اور ساز و سامان کی یہ تصویر 2700 سالہ قدیم مصری پادری دی-مٹ-شیپ-ن-آنکھ کی ہیں، جو اب ڈنمارک کے نیشنل میوزیم میں نمائش کے لئے موجود ہے۔

مصر کی ایٹرو ٹورس ایجنسی کے آفیشل انسٹاگرام پر بھی وائرل تصویر کے سلسلے میں لکھا ہے کہ 2800 سال پرانے یہ کپڑے و ساز و سامان مصر کے ایک پادری کے ہیں۔

Courtesy: Instagram @etro_tours

مزید سرچ کے دوران ہمیں ڈونس میپس نامی ویب سائٹ پر بھی مذکورہ تصویر ملی۔ جس میں بھی اسے دی-مٹ-شیپ-ن-آنکھ نام کے پادری سے وابستہ بتایا گیا ہے۔ اس تصویر کو 2014 میں ‘ڈان ہچکوک’ نے کلک کیا تھا۔ اب یہ کپڑے اور سامان ڈنمارک کے کو پین ہیگن کے نیشنل میوزیم میں موجود ہے۔ یہاں اب یہ واضح ہو چکا کہ وائرل تصویر میں نظر آنے والے پیغمبرِ اسلامﷺ کے کپڑے نہیں ہیں۔

Courtesy: Donsmaps

یہ بھی پڑھیں: کیا وائرل تصویر میں نظر آرہی قمیض مبارک حضور پاکﷺ کی ہے؟

Conclusion

لہٰذا نیوز چیکر کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ وائرل تصویر میں موجود کپڑے، چپل اور دیگر ساز و سامان محمدﷺ سے وابستہ نہیں ہیں بلکہ مصر کے پادری دی-مٹ-شیپ-ن-آنکھ کے ہیں۔

Result: False

Sources
Facebook post by GazaFM on 8 Jan 2022
Instagram post by etro_tours on 22 Nov 2022
Image related information with Don’s Maps website


نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کرسکتے ہیں۔

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Most Popular