جمعہ, دسمبر 9, 2022
جمعہ, دسمبر 9, 2022

HomeFact Checkدہلی:کیا رام بھکت کی گولی سے جامعہ کے طالب علم شاداب نہیں...

دہلی:کیا رام بھکت کی گولی سے جامعہ کے طالب علم شاداب نہیں ہوا تھا زخمی؟کیا ہے سچ؟ؕپڑھیئے ہماری تحقیق

دعویٰ

اگر جامعہ میں گولی باری کے دوران طالب علم کو گولی لگی تھی تو ٹماٹر کا کیچ اپ(ٹماٹر کی چٹنی) کا بوتل وہاں کیا کررہاتھا؟

 

تصدیق

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم کی زخمی والی کچھ تصویریں سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہورہی ہے۔ان تصویروں کے ذریعے سوال پوچھا جارہاہے کہ یہ لال کلر کی بوتل میں کیا ہے اور زخمی طالب علم کے ہاتھ میں کیوں ہے؟آپ کو بتادیں یہ دعویٰ فلم ساز ویویک رنجن انگنی ہوتری نے اپنے ٹویٹر ہینڈل سے کیاہے۔ان کے علاوہ دیگر لوگوں نے بھی مختلف دعوے کے ساتھ ان تصویروں کو شیئر کیاہے۔

  

ہماری کھوج

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم شاداب زخمی کی سبھی طرح کی خبریں پڑھنے کے بعد یہ یقین کرنا ذرا مشکل تھا کہ کیا سچ میں ایسا بھی کچھ ہوا ہے؟پھر ہم نے اپنی تحقیقا شروع کی۔جہاں ہمیں اے این آئی کے ٹویٹر ہینڈل پر اس تعلق سے ایک خبر ملی۔جس کے مطابق شاداب فاروق کو ایمس  کے ٹراما سینٹر جے پرکاش نارائن اپیکس سے علاج کے بعد چھٹی دے دی گئی ہے۔

تحقیقات کے دوران ہمیں اے این آئی کے حوالے سے ایک اور خبر ملی۔جس کے مطابق جامعہ کی وی سی اور دہلی پولیس کے اسپیشل کمشنر نے شاداب کی عیادت کر کے خیریت معلوم کی۔

ا ے این آئی و دیگر ذرائع سے ملی جانکاری کے بعد یہ کہنا مناسب نہیں تھا کہ شاداب رام بھگت کی گولی سے زخمی نہیں ہوا۔لیکن اس کے باوجود ہم نے تیس جنوری کی ساری تصویروں کو غور سے دیکھا۔جوبھی اس تعلق سے ملی۔پھر ہم نے یہ دیکھنا مناسب سمجھا کہ آیا ایسا تو نہیں کہ فوٹو شاپ کرکے ان تصویروں کو وائرل کی گئی ہے۔

وائرل تصویر کے تعلق جانکاری حاصل کرنے کے دوران ہم نے ان تصویروں کو کئی اخبار،پورٹل و دیگر ویب سائٹ پر دیکھا۔پھر ہم نے مزید تصویریں دیکھیں تو پتا چلا کہ لال کلر کا بوتل ایک لڑ کی کے ہاتھ میں ہے۔جو ایک زخمی لڑکے کی مدد کررہی ہے۔

مندرجہ ذیل کے ایک ویڈیو میں لال بوتل کو آپ خود دیکھ سکتے ہیں۔

زخمی طالب علم شاداب کی کچھ تصویریں دیکھ کر صاف واضح ہوتا ہے کہ شاداب کے ہاتھ خون لگا ہے نا کہ کیچ اپ(ٹماٹرکی چٹنی)

مزید جانکاری حاصل کرنے کے لئے ہم نے وہاں موجود کچھ لوگوں سے بات کی۔جہاں پتا چلا کہ رام بھکت گوپال نامی شخص نے جامعہ میں سی اے اے اور این پی آر کے خلاف احتجاج کررہے طالب علم پر سنہرے رنگ کے بندوق سے فائرنگ کیا۔جس میں طالب علم شاداب کے ہاتھ پر گولی لگی۔وہیں دہلی پولس کی مانیں تورام بھگت سوشل میڈیا پر احتجاج کو دیکھ کر غصے میں آکے اس گھنونے حرکت کو انجام دیا ہے۔

نیوزچیکر کی تحقیق میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائر تصویر کے ساتھ کیا گیا دعویٰ غلط ہے۔کیونکہ شاداب رام بھکت گوپال کی گولی سے زخمی ہواہے۔رہی بات لال بوتل کی تو وہ پانی کا بوتل ہے نا کہ ٹماٹر کے چٹنی کا۔

ٹولس کا استعمال

گوگل کیورڈ سرچ

ریورس امیج سرچ

فیس بک ایڈیوانس سرچ

نتائج:گمراہ کن(فیک خبر)

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویزکے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔۔

9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular