ہفتہ, دسمبر 10, 2022
ہفتہ, دسمبر 10, 2022

HomeFact Checkفلسطینی بچی لیلیٰ کی آخری رسومات کی تصویر کو یوم القدس کے...

فلسطینی بچی لیلیٰ کی آخری رسومات کی تصویر کو یوم القدس کے موقع پر کیوں کیاگیا شیئرؕ؟پڑھیئے ہماری پڑتال

دعویٰ

سوشل میڈیا پر فلسطینی بچی کے آخری رسومات کی تصویر شیئر کی جا رہی ہے۔ دعویٰ ہے کہ معصوموں پر ظلم انسانیت پر ظلم ہے۔

تصدیق

یوم قدس کے موقع پر ایک تصوری شیئر کی جارہی ہے۔تصویر میں ایک شخص معصوم بچی کو فلسطینی پرچم میں لپیٹے اپنے ہاتھوں میں لئے ہوا ہے اور اس کے ارد گرد کافی بھیڑھ ہے۔تصویر کے کیپشن میں لکھا ہے “معصوموں پر ظلم انسانیت پر ظلم ہے” وائرل تصویر کو صدام رنگریز اور صبازیدی نے ٹویٹر پر مذکورہ کیپشن کے ساتھ شیئر کیا ہے۔صبا کی اس ٹویٹ کو ہمارے آرٹیکل لکھنے تک ۱۳۵افراد نے ری ٹویٹ کیا ہے۔جبکہ دوسوچونتیس لائیک کئے گئے ہیں۔

ہماری پڑتال

وائرل تصویر کی حقائق جاننے کے لئے ہم نے ابتدائی تحقیقات شروع کی۔سب سے پہلے ہم نے اس تصویر کو ٹویٹرپر ایڈوانس سرچ کی مدد سے تلاشناشروع کیا۔جہاں ہمیں احمد العیسیٰ نامی ٹویٹرہینڈل پر مئی دوہزار اٹھارہ کا ایک پوسٹ ملا۔جس میں وائرل تصویر بھی تھی۔کیپشن میں لکھا ہے کہ آٹھ مہینے کی فلسطینی لیلیٰ کا قتل ٹرمپ اور جارڈ کیشنر کے ہاتھو ہوا ہے۔

View image on Twitter
View image on Twitter

139:40 AM – May 16, 2018Twitter Ads info and privacy15 people are talking about this

مذکورہ ٹویٹ سے واضح ہوچکا کہ وائرل تصویر دوسال پرانی ہے۔پھر ہم نے وائرل تصویر کو ریورس امیج سرچ کیا۔جہاں ہمیں الشرق نامی نیوزویب سائٹ پر اکتوپر دوہزارانیس کی عربی زبان میں ایک خبر ملی۔جہاں اس تصوری کو استعمال کیا گیا ہے۔لیکن عربی زبان ہونے کہ وجہ سے ہم نے اپنی تحقیقات میں اضافہ کرتے ہوئے مزید کیورڈ سرچ کیا۔جہاں ہمیں انگلش ڈاٹ خمینی اور مڈل ایسٹ منیٹر پر اکیس اور سولہ مئی دوہزاراٹھارہ کی اس حوالے سے خبریں ملیں۔جس میں فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے بارے میں لکھا ہے اور تصویر کے کیپشن میں لکھا ہے کہ” آٹھ ماہ کی فلسطینی بچی لیلیٰ انورغندور کا جنازہ کےلئے لے جایا جارہا ہے۔گذشتہ روز غزہ میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران بچی کی موت آنسو گیس کی وجہ سے ہوگئی تھی”

دونوں خبروں سے صاف ہوچکا کہ وائرل تصویر فلسطینی بچی کی ہے۔پھر ہم نے اس تصویر کو گیٹی امیج پر سرچ کیا۔جہاں ہمیں وائرل تصویر سے ملتی جلتی ایک تصویر ملی۔جس میں لکھا ہے کہ “آٹھ ماہ کے فلسطینی بچے کی نماز جنازہ”غزہ پٹی۔پندرہ مئی دوہزاراٹھارہ:تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ فلسطینی سوگواروں نے آٹھ ماہ کی فلسطینی بچی لیلیٰ انورغندور کی لاش اٹھا رکھی ہے، پچھلے روز غزہ میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران آنسو گیس کے گولے سے سانس گھٹنے سے بچی فوت ہوگئی تھی۔15 مئی 2018 کو غزہ شہر میں اس کی آخری رسومات کے دوران یہ تصویر مصطفیٰ حسونا نامی فوٹوگرافر نے کلک کیا تھا۔

Image depicts graphic content] Palestinian mourners carry the body of…

Image depicts graphic content] Palestinian mourners carry the body of eight-month-old Palestinian baby Leila Anwar Ghandoour, died from tear gas inhalation during clashes in Gaza the previous day,… Get premium, high resolution news photos at Getty Images

ہماری تحقیق میں یہ پتاچل چکا کہ وائرل تصویر فلسطینی بچی کے جنازہ کے وقت کی ہے۔لیکن ہیش ٹیگ قدس ڈے کیا ہے؟اس بارے میں اپنے قاری کو بتادینا مناسب  ہے۔یہاں آپ کو بتادوں کہ قدس مطلب قبلہ اول (بیت المقدس) کو کہا جاتا ہے۔رہی بات یوم القدس کیوں منایا جاتا ہے؟اس بارے میں ہمارے علم کے مطابق بیت المقدس کو اسرائیل سے آزاد کرانے کی تحریک ہے۔اس حوالے سے جب ہم نے ریسرچ کیا تو ہمیں ڈیلی پاکستان اور نوائے وقت پر شائع یوم القدس کے حوالے سےدو مضمون ملے۔جس کے مطابق ماہ مبارک رمضان کے جمعة الوداع کو یوم القدس جوش اور ولولے کے ساتھ دنیا کے بیشتر ممالک میں منایا جاتا ہے۔عالمی یوم القدس کا اعلان اس وقت کیا گیا جب اسرائیل نے جنوبی لبنان پر حملے کیے تو حضرت امام خمینی نے رمضان المبارک کے آخری جمعے کو یوم القدس کے طور پر منانے کا اعلان فرمایا تھا۔انھوں نے تمام مسلمانوں کو غاصب اسرائیل کے خطرے کی طرف متوجہ کیا۔واضح رہے کہ اس وقت بھی اسرائیلی نہتے فلسطینی بہن بھائیوں پر ظلم و ستم کا قہر جاری رکھے ہوا ہے اور دنیا خاموشی اختیار کئے ہوئیں ہے۔ 

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل تصویر آٹھ ماہ کی فلسطینی بچی لیلیٰ انورغندور کی ہے۔جسے دوسال پہلے آخری رسومات کے وقت مصطفیٰ حسونا نامی فوٹوگرافر نے اپنے کیمرے میں قید کیا تھا۔رہی یوم قدس کی بات تو بیت المقدس کو اسرائیل سے آزاد کرانے کی تحریک کانام یوم القدس دیا گیا ہے۔جو ہرسال ماہ رمضان کے الوداع جمعہ کو منایا جاتا ہے۔

ٹولس کا استعمال

ریورس امیج سرچ

کیورڈ سرچ

ٹویٹرایڈوانس سرچ

میڈیا رپورٹ

نتائج:گمراہ کن/پرانی تصویر)

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویزکے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔۔

 9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular