ہفتہ, نومبر 26, 2022
ہفتہ, نومبر 26, 2022

HomeFact Checkسابق کانگریس لیڈر شکیل احمد نے ٹویٹر پر شیئر کیا گمراہ کن...

سابق کانگریس لیڈر شکیل احمد نے ٹویٹر پر شیئر کیا گمراہ کن ویڈیو!کیا ہے سچ پڑھیئے ہماری پڑتال؟

دعویٰ

ایک کا نام پوجا ہے اور دوسرے کا نام مانسی ہے۔الزام ہے کہ دونوں لڑکیاں برقعہ پہن کر لکھنؤ کے گھنٹہ گھر پر جاکر پاکستان زندہ آباد کا نعرہ لگا رہی تھی۔تبھی وہاں دھرنے پر بیٹھی مسلم خواتین انہیں پکڑ لی۔مزید لکھا ہے کہ اکثریت طبقہ کے لوگوں کو بےوقوف بنا کر مسلمانوں کو بدنام کرنا ٹھیک نہیں ہے۔

ہماری کھوج

وائرل ویڈیو کو دیکھنے کے بعد ہم نے اپنی تحقیق شروع کی۔اس دروان ہم نے لکھنؤ کے کئی صحافیوں اور دیگر مقامی لوگوں سے بھی اس سلسلے میں پوچھ تاچھ کی۔سبھی نے یہی بتایا کہ یہ واقعہ پیش آیا ہے۔لیکن کسی نے پک٘ی ثبوت نہیں پیش کیا۔وہیں لکھنؤ کے کئی ساتھی خاص کر ہارون رشید نے وائرل ویڈیو کی حقیقت جاننے کی بھی نیوزچیکر سے اپیل کی۔جوکہ مندرہ ذیل ہے۔

اپنی تحقیقات میں اضافہ کرتے ہوئے ہم نے مزید اس بارے میں جانکاری حاصل کرنے کوشش کی۔اس دوران ہم نے یوٹیوب پر کچھ کیورڈ سرچ کیا۔جہاں ہمیں بائیس نومبر دوہزار سترہ کا ایک ویڈیو ملا۔جسے دھاکڑ خبر نامی یوٹیوب چینل پر شیئر کیاگیا ہے۔دھاکڑخبر کے مطابق دونوں لڑکیاں اترپردیش کے بجنور کی ہے اور دونوں غیر مسلم ہے۔دوہزار سترہ میں ہوئے مقامی چناؤ کے دوران دونوں لڑکیاں برقعہ پہن کر فرضی ووٹ ڈالنے گئی تھیں۔تبھی پولس نے انہیں پکڑ لیا اور اس کے بعد پوچھ تاچھ کیا تو پتا چلا ان میں ایک نام پوجاگپتا اوردورسرے کا نام مانسی گپتا ہے۔ان کے والد کا نام من٘ا گپتا ہے۔

نیوزچیکر کی تحقیق میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل ویڈیو دوہزارسترہ کا ہے۔جسے کانگریس لیڈر شکیل احمد نے موجودہ دور کا بتا کر شیئر کیا ہے۔تاکہ عوام میں بدگمانی پیدا ہو۔ہاں یہ بات ضرور ہے کہ لکھنؤ میں یہ افواہ پھیلائی جارہی ہے کہ آر ایس ایس کی عورتیں برقعہ پہن کر گھنٹہ گھر پر پاکستان زندہ آباد کا نعرہ لگائی ہے۔لیکن پولس کی جانب سے اب تک کوئی سچائی سامنے نہیں آئی ہے۔   

ٹولس کا استعمال

یوٹیوب سرچ

گوگل کیورڈ سرچ

نتائج:گمراہ کن(افواہ بھری نیوز)

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویزکے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔۔

9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular