جمعرات, دسمبر 1, 2022
جمعرات, دسمبر 1, 2022

HomeFact Checkچیتے کے پالتو کتے پر حملے کی یہ ویڈیو بالاکوٹ کی نہیں...

چیتے کے پالتو کتے پر حملے کی یہ ویڈیو بالاکوٹ کی نہیں ہے

Claim

چیتے کے پالتو کتے پر حملے کی ایک ویڈیو کو فیس بک، ٹویٹر اور یوٹیوب پر خوب شیئر کیا جارہا ہے۔ دعویٰ ہے کہ یہ سی سی ٹی وی ویڈیو پاکستان کے بالاکوٹ میں ایک گھر کی ہے، جہاں ایک چیتے نے گھر میں موجود پالتو کتے کا شکار کیا۔ ایک فیس بک صارف نے ویڈیو کے کیپشن میں لکھا ہے کہ “بالاکوٹ کے کسی علاقے میں ایک گھر کے پالتو کتے کا چیتے نے شکار کر دیا، سی سی ٹی وی کیمرے کی ریکارڈنگ”۔

چیتے کے پالتو کتے پر حملے کی یہ ویڈیو بالاکوٹ کی نہیں ہے
Courtesy:FB/Hindko99TV

Fact

چیتے کے پالتو کتے پر حملی کی ویڈیو کو ہم نے سب سے پہلے انوڈ کی مدد سے کیفریم میں تقسیم کیا اور اس کا ریورس ایمیج سرچ کیا۔ سرچ کے دوران ہمیں متعدد بھارتی نیوز ویب سائٹ پر اس حوالے سے خبریں ملیں۔ نیوز 18 اور دینک بھاسکر میں شائع رپورٹ میں اس ویڈیو کو لکھنؤ کا بتایا گیا ہے۔ جبکہ این ڈی ٹی وی اور دیگر نیوز ویب سائٹس پر شائع رپورٹس میں جگہ کا انکشاف نہیں کیا گیا ہے، تاہم یہ رپورٹس محکمہ جنگلات کے ملازم پروین پاسوان کے 21 دسمبر 2021 کے ایک ٹویٹ کے حوالے سے کی گئیں ہیں۔

Courtesy:YouTube/News18

سرچ کے دوران ہم نے یوٹیوب پر کچھ کیورڈ سرچ کیے۔ اس دوران ہمیں اینیمل ورلڈ اور نیما گیلبو شرپا نامی یوٹیوب چینل پر 14 دسمبر 2021 کو اپلوڈ شدہ یہی ویڈیو ملی۔ جس میں اس ویڈیو کو کاٹھ مانڈو کا بتایا گیا ہے۔ پھر ہم نے اپنے نیپالی ٹیم کے سنجیو سے رابطہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ نیپال کے مشہور قومی روزنامہ کانتی پور کے لامجنگ نمائندے، آش گرونگ نے ان سے گفتگو کے دوران تصدیق کی کہ یہ واقعہ سندر بازار-7 میں پیش آیا تھا۔

Courtesy: YouTube/ Nima Gelbu Sherpa

اسی ویڈیو سے متعلق فیکٹ چیک نیوز چیکر نیپالی ٹیم بھی کرچکی ہے، جسے آپ یہاں کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں۔

اس طرح نیوز چیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوا کہ چیتے کے پالتو کتے پر حملے کی یہ ویڈیو بالاکوٹ کی نہیں ہے، بلکہ نیپال کے سندر بازار7 کی ہے۔

Result: False

Our Sources
YouTube Video Uploaded by Animal world on 14 Dec 2021

YouTube Video Uploaded by Nima Gelbu Sherpa on 14 Dec 2021
Newshcecker Talk with Aash Gurung Lamjung Corespondent on Nepal’s National daily Kantipur

کسی بھی مشکوک خبر کی تحقیقات، تصحیح یا دیگر تجاویز کے لیے ہمیں واٹس ایپ کریں: 9999499044 یا ای میل: [email protected]

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular