ہفتہ, جون 22, 2024
ہفتہ, جون 22, 2024

ہومFact CheckFact Check: خواتین کو ہراساں کرنے کی پرانی ویڈیو کو مذہبی رنگ...

Fact Check: خواتین کو ہراساں کرنے کی پرانی ویڈیو کو مذہبی رنگ دے کر کیا جا رہا ہے شیئر

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Claim
بھارت میں اکثریتی طبقے کے لوگ مسلمان خواتین کو ہراساں کر جبراً اٹھا کر لے جا رہے ہیں۔
Fact
وائرل ویڈیو تقریباً 7 سال پرانی ہے اور بھارت کے رامپور میں 2 دلت ہندو خواتین کو مسلمان نوجوانوں کی جانب سے ہراساں کئے جانے کی ہے۔

ان دنوں ایس ایس جی پی ٹی آئی نامی ایک ایکس ہینڈل سے مسلسل فرضی دعوے کے ساتھ بھارت مخالف پوسٹ شیئر کئے جا رہے ہیں۔ رواں ماہ کی 20 تاریخ کو صارف نے ایک ویڈیو شیئر کیا ہے۔ جس میں کچھ نوجوان 2 خواتین کو ہراساں کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ دعویٰ ہے کہ یہ خواتین مسلمان ہیں اور بھارت میں انہیں اکثریتی طبقہ کے لوگ گھر سے اٹھا کر جبراً لے جا رہے ہیں اور اعتراض کرنے پر انہیں زد و کوب کر رہے ہیں۔

صارف نے ویڈیو کے ساتھ کیپشن میں لکھا ہے کہ “ہندو لوگ مسلمان عورتوں کا اٹھانے کے لئے گروپ بنا کر اتے ہیں مذمت پر تشدد کر رہے ہیں ،انڈیا کا بدنما کالا جمہوری چہرہ”۔

مسلم نہیں دلت خواتین کو ہراساں کرنے کی ہے یہ ویڈیو۔
Courtesy: X @ssgviews

Fact Check/ Verification

مسلمان خواتین کو ہراساں کرنے کا بتاکر شیئر کی گئی ویڈیو کو ہم نے کچھ ٹولس کی مدد سے تلاشا۔ جہاں ہمیں ہوبہو ویڈیو کے ساتھ 28 مئی 2017 کو شائع انڈیا ٹی وی، انڈین ایکس پریس اور ٹائم آف انڈیا کی رپورٹس موصول ہوئیں۔ ان رپورٹس کے مطابق ویڈیو اترپردیش کے رام پور کے ٹانڈا کی ہے۔ جہاں 12 سے 14 لڑکوں نے دو خواتین کو سرِ راہ ہراساں کیا تھا۔

Courtesy: Indian Express

مزید سرچ کے دوران ہمیں وائرل ویڈیو سے متعلق 1 جون 2017 کو شائع شدہ نیوز لانڈری کی ایک رپورٹ موصول ہوئی۔ نیوز لانڈری نے یوپی پولس کے حوالے سے لکھا ہے کہ وائرل ویڈیو میں نظر آرہی خواتین کا تعلق اکثریت طبقہ کے دلت سماج سے ہے۔ پولس نے اس معاملے میں 9 افراد کو گرفتار کیا تھا، جس پر ایس سی ایس ٹی ایکٹ کے تحت کیس بھی درج کیا گیا تھا۔ وہیں رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ متاثرہ خواتین کے ساتھ چھیڑ خانی کر رہے نوجوانوں کا تعلق مسلم سماج سے تھا۔

Courtesy: Newslaundry

Conclusion

لہٰذا مذکورہ سبھی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ خواتین کو ہراساں کرنے کی یہ ویڈیو 2017 کی ہے اور خواتین مسلمان نہیں ہیں بلکہ ان کا تعلق ہندو دلت سماج سے ہے۔

Result: False

Sources
Reports published by Times of India, The Indian Express and India TV on 28 May 2017
Report published by Newslaundry on 1 Jun 2017


نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ہمارے واہٹس ایپ چینل کو بھی فالو کریں۔

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Most Popular