منگل, مئی 17, 2022
منگل, مئی 17, 2022

HomeFact Checkبائیک سواروں پر حملے کی اس ویڈیو کا حالیہ اذان تنازعہ سے...

بائیک سواروں پر حملے کی اس ویڈیو کا حالیہ اذان تنازعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے

سوشل میڈیا پر بائیک سواروں پر حملے کی ایک ویڈیو کو حالیہ اذان تنازعہ سے جوڑ کر شیئر کیا جا رہا ہے۔ فیس بک پر ایک صارف نے ویڈیو کیپشن میں لکھا ہے کہ “20/04/2022 انڈیا میں مودی گاۓ کے پیشاب پینے والے نے کہا کسی مسجد میں اذان نہیں ہوگی اور پابندی بھی لگائی گئی اذان دینے پر اور کوئی مسلمان مسجد نہیں آۓ گا جو آۓ گا اسکو کاٹ دینگے، الحمد اللّه آج انڈیا کے غیرت مند مسلمانوں نے اعلان جہاد کر دیا اور سڑکوں پر آگئے ،جو بھی گستاخی کرے گا اسلام کا راستہ روکے گا اور مساجد پر عبادت پر پابندی لگاۓ گا اس کو اس تلوار سے کاٹ دینگے۔آج یہ عہد کر لیا انڈیا کے مسلمانوں نے اور فیصلہ سنا دیا ہے بہت ظلم ہوگیا، اب فیصلہ ہماری تلوار کرے گی
حکومت اور انڈیا کے ہندو دہشتگردوں سے اعلان جنگ مسلمانوں کا اب یہ کارواں رکنے والا نہیں، مر جاۓ گے مگر ظالم کی حمایت نہ کرے گے”۔

بائیک سواروں کے کھدیڑ ا نے والی اس ویڈیو کا حالیہ اذان تنازعہ سے کوئی نہیں ہے
Courtesy:FB/Tahir Khan Khan

Fact Check/Verification

بائیک سواروں پر حملے کی وائرل ویڈیو کی حقیقت جاننے کے لئے کہ آیا یہ ویڈیو اذان تنازعہ سے متعلق ہے یا نہیں، ہم نے اپنی تحقیقات کا آغاز کیا۔ سب سے پہلے ہم نے ویڈیو کو انوڈ کی مدد سے کیفریم میں تقسیم کیا اور ان میں سے کچھ فریم کو گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔ لیکن کچھ بھی اطمینان بخش نتائج نہیں ملے۔ پھر ہم نے امیج سرچ کے ساتھ کچھ کیورڈ سرچ کیا۔ جہاں ہمیں ایشیانیٹ نیوز کے یوٹیوب چینل پر 3 جنوری 2019 کو اپلوڈ شدہ وائرل ویڈیو سے متعلق رپورٹ ملی۔ اس ویڈیو رپورٹ میں ملیالم زبان میں کیپشن دیا گیا تھا، جس کا ترجمہ کرنے پر معلوم ہوا کہ ایڈپل میں سی پی ایم کے کارکنوں نے بی جے پی کے لوگوں پر حملہ۔ جن بائک سوار لوگوں کو کھیڈرا گیا وہ سبری مالا کرما سمیتی کے کارکنان تھے۔

Courtesy:YouTube/ Asianetnews.com

مذکورہ وائرل ویڈیو کو 3 جنوری 2019 کو ٹائمس ناؤ کی صحافیہ شلپا نے بھی شیئر کیا ہے۔ شلپا نے ویڈیو کے ساتھ لکھا ہے کہ “ایڈپل میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے کارکنان جو بائیک پر سوار ہو کر دکانیں بند کروانے آئے تھے، جس کے بعد وہاں کے مقامی لوگوں نے انہیں دوڑا لیا۔ شلپا نے ویڈیو کے ساتھ ہیش ٹیگ سبری مالا، کیرلہ، ہڑتال اور سبری مالا اسٹینڈ آف بھی لکھا ہے”۔

مذکورہ جانکاری سے واضح ہو چکا کہ ویڈیو کم از کم 3 سال پرانی ہے اور ویڈیو میں نظر آ رہے لوگ مسلمان نہیں ہے اور ناہی اذان تنازعہ سے اس ویڈیو کا کوئی لینا دینا ہے۔

مزید سرچ کے دوران ہمیں 3 جنوری 2019 کو اپلوڈ شدہ ٹائمس آف انڈیا کے آفیشل یوٹیوب چینل پر یہی ویڈیو ملی۔ ٹائمس آف انڈیا کے یوٹیوب چینل پر موجود ویڈیو کے ڈسکرپشن میں ملی معلومات کے مطابق ایک بڑی تعداد میں ہجوم نے کیرلہ کے ملپپورم کے ایڈپل میں ہو رہی ریلی کے حمایتیوں پر حملہ کر دیا۔ جس کی یہ ویڈیو ہے نا کہ اذان تنازعہ کو لے کر مسلمانوں کی جانب سے کئے گئے حملے کی ہے۔ بتادوں کہ سبری مالا کرما سمیتی نے جمعرات کو سبری مالا مندر میں عورتوں کے داخلے کے خلاف احتجاج درج کرانے کے لئے ریلی کا انعقاد کیا تھا۔

Courtesy: YouTube/Times of India

مذکورہ ویڈیو کو جنوری 2020 میں سی اے اے این اور این آرسی تنازعہ سے جوڑ کر بھی شیئر کیا گیا تھا۔ جسے نیوز چیکر گجراتی کی ٹیم ڈیبنک کر چکی ہے۔

ہندوستان میں چل رہے اذان تنازعہ کا کیا پورا معاملہ؟

اس کے علاوہ ہم نے یہ بھی سرچ کیا کہ کیا واقعی مودی سرکار نے مسلمانوں کے مسجد جانے پر پابندی عائد کر دی ہے یا اذان دینے پر پابندی لگا دی ہے تو ہمیں ایسی کوئی بھی میڈیا رپورٹ نہیں ملیں۔ البتہ اذان کو لے کر کچھ ریاستوں میں ماحول گرمایا ہوا ہے۔

Conclusion

نیوز چیکر کی تحقیقات سے واضح ہوتا ہے کہ اس ویڈیو میں نظر آ رہے حملہ آور مسلمان نہیں ہیں اور نا ہی یہ ویڈیو اذان تنازعہ سے متعلق ہے۔ یہ ویڈیو تقریباً 3 سال پرانی ہے اور سبری مالا مندر میں عورتوں کے داخلے کے خلاف احتجاج درج کروانے کے لئے نکالی گئی ریلی کی ہے۔

Result:False Context/False

Our Sources
YouTube Published by AsianetNews

Twitter post by Journalist of Timesnow Shilpa
YouTube Published by Times of India

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔
۔9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular