Authors
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
آسام کی یہ خاتون اپنے شوہر اور چھوٹی سی بیٹی کو چھوڑ کر ذاکر حسین نامی جہادی سے نکاح کرکے روبینا بن گئیں ہیں۔اب حسین اس پر خوب ظلم و ستم ڈھا رہا ہے۔
کیا ہے وائرل پوسٹ؟
دیوکمار نامی فیس بک یوزر نے دوتصاویر کو یوگی آدتیہ ناتھ نامی پیج پر شیئر کیا ہے۔یوزر کا دعویٰ ہے کہ ہندو خاتون کی پٹائی مسلم شوہر نے شادی کے بعد اب اسے مار پیٹ رہا ہے۔کیونکہ گزشتہ دنوں یہ عورت اپنے شوہر اور اپنی چھوٹی بچی کو چھوڑ کر ذاکر حسین نامی مسلم نوجوان سے شادی کی تھی۔آرکائیو لنک۔
Fact Check/Verification
وائرل تصاویر کے حوالے سے جب ہم نے کچھ ٹولس کی مددسے کیورڈ سرچ کیا تو پتاچلا پہلے بھی یہ تصویر اسی دعوے کے ساتھ شیئر کیا جاچکا ہے۔پھر ہم نے مزید کیورڈ سرچ کیا۔اس دوران ہمیں دی ہندو نیوز ویب سائٹ پر 1جولائی 2012 کی ایک خبر۔جس کے مطابق یہ خاتون کانگریس کی ایم ایل اے رومی ناتھ ہے۔جس پر سولوگوں کی بھیڑ نے ان پر اور ان کے دوسرے شوہر ذاکرحسین پر حملہ کردیا۔
مذکورہ خبر سے واضح ہوچکا کہ وائرل تصویر آسام کی کانگریس لیڈر رومی ناتھ اور ان کےدوسرے شوہر ذاکر ہیں۔جس پر تقریباً100 لوگوں کی ہجوم نے اچانک حملہ کردیا تھا۔پھر ہم نے دیگر کیورڈ سرچ کیا۔جہاں ہمیں این ڈی ٹی وی اور ہندوستان ٹائمس پر شائع دوہزا بارہ کی خبریں ملیں۔جس کے مطابق رومی نے اپنے پہلے شوہر سے طلاق لیے بغیر اسلام قبول کرکےذکی ذاکر سے شادی کرنے کی وجہ سے ان پر مشتعل بھیڑ نے حملہ کردیاتھا۔بھیڑ کے خلاف رومی نے پولس میں شکایت درج کی تھی۔جس کے بعد 5ملزمین کو پولس نے گرفتار بھی کرلیاتھا۔سبھی تحقیقات سے واضح ہوچکا کہ ذاکر نے رومی پر ظلم و ستم کا شکار نہیں کیا بلکہ مقامی شرپسندوں نے ان پر حملہ کیا تھا۔
Conclusion
نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل تصویرمیں نظر آرہی خاتون کا نام روبیا نہیں بلکہ آسام کی کانگریس لیڈر رومی ناتھ ہے۔تحقیقات میں یہ بھی پتا چلا کہ رومی کی پٹائی اس کے مسلم شوہر ذاکر نے نہیں کیا۔بلکہ 100 لوگوں کے ہجوم نے کی تھی۔جس کی وجہ رومی کے چہرے کی حالت خستہ ہوچکی تھی۔
Result: Misleading
Our Sources
Hindustantimes:https://www.hindustantimes.com/delhi-news/assam-mla-beaten-up-by-mob-also-alleges-rape-attempt/story-M7gsj1KxOoxEYp2nf80ewM.html
نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔
9999499044
Authors
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.