ہفتہ, دسمبر 4, 2021
ہفتہ, دسمبر 4, 2021
HomeFact Checkکیا نیویارک ٹائمس اخبار نے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کو...

کیا نیویارک ٹائمس اخبار نے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کو اب تک کا سب سے ناکام پی ایم بتایا ہے؟

سوشل میڈیا پر نیویارک ٹائمس اخبار کی ایک کٹنگ وائرل ہو رہی ہے۔ جس میں وزیر اعظم نریند مودی کی تصویر کے ساتھ شائع خبر نظر آ رہی ہے۔ صارفین کا دعویٰ ہے کہ نیو یارک ٹائمس نے اپنے ہیڈ لائن میں لکھا ہے کہ ہندوستان کا ہٹلر امریکہ میں ہے اور یہ ہندوستان کی تاریخ میں اب تک کے سب سے بے کار وزیر اعظم ہیں۔

نیویارک ٹائمس اخبار میں پی ایم مودی کی خبر
نیویارک ٹائمس اخبار میں پی ایم مودی کی خبر

وزیر اعظم نریندر مودی تین روزہ امریکی دورہ ختم کرکے بھارت واپس آچکے ہیں۔ بی جے پی لیڈروں نے دہلی ایئر پورٹ پر پی ایم مودی کا والہانہ استقبال کیا۔ اس سفر کے دوران پی ایم مودی نے امریکی صدر جوبائیڈن اور نائب صدر کملا ہیرس سے ملاقات بھی کی۔ پی ایم مودی نے اقوام متحدہ کے 76 ویں سیشن سے خطاب کیا اور کواڈ سمٹ میں بھی شرکت کی۔

وزارت خارجہ کے ترجمان آریندم باگچی نے بھی تصاویر شیئر کرتے ہوئے بھارت کے پی ایم کے اس دورے کو تاریخی بتایا ہے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھارت کے وزیر اعظم سے متعلق نیویارک ٹائمس اخبار کی ایک کٹنگ مختلف زبانوں اور الگ الگ دعوے کے ساتھ خوب شیئر کی جا رہی ہیں۔ جن میں کچھ پوسٹ میں پی ایم مودی کو دنیا کا سب سے طاقتور لیڈر اور کچھ میں انہیں ناکام لیڈر بتایا جا رہا ہے۔

کراؤڈ ٹینگل پر جب ہم نے “نیو یارک ٹائمز کا ہیڈ لائن ” سرچ کیا تو ہمیں پتا چلا کہ اس موضوع پر پچھلے 7دنوں میں 134 فیس بک صارفین تبادلہ خیال کر چکے ہیں۔

Fact Check/Verification

نیویارک ٹائمس اخبار کے نام پر وائرل اسکرین شارٹ کے سلسلے میں ہم نے اپنی ابتدائی تحقیقات کا آغاز کیا۔ ہم نے سب سے پہلے نیویارک ٹائمس کی ویب سائٹ کو کھنگالا ۔ لیکن ہمیں کچھ بھی اطمینان بخش نتائج نہیں ملے۔ وائرل اسکرین شارٹ میں 26 ستمبر کی تاریخ نظر آرہی تھی۔ اس لئے ہم نے نیو یارک ٹائمس کے ای پیپر کے 26 ستمبر کا ایڈیشن نکالا۔ جہاں پہلے صفحے پر وزیر اعظم مودی سے متعلق کوئی خبر نہیں تھی۔

مزید سرچ کے دوران ہمیں نیو یارک ٹائمس کا ایک ٹویٹ ملا۔ جس میں وزیر اعظم مودی کو دنیا کے طاقتور لیڈر بتائے جانے والے دعوے کو فرضی بتایا گیا ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ اردو کیپشن کے ساتھ نیو یارک ٹائمس کا اسکرین شارٹ ایڈیٹ شدہ ہے۔ جسے مختلف طریقوں سے ایڈیٹ کر کے سوشل میڈیا پر شیئر کیا جا رہا ہے۔

درج ذیل میں دونوں تصاویر کا موازنہ کیا گیا ہے۔ جس سے آپ با آسانی دونوں میں تفریق کر سکتے ہیں۔

بی بی سی ہندی کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی میڈیا نے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے کو زیادہ ترجیح نہیں دی تھی۔ البتہ کواڈ میٹنگ سے متعلق امریکی میڈیا نے کچھ خبریں شائع کی تھیں، لیکن اس کی تعداد مختصر تھیں۔

Conclusion

نیوز چیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے نیویارک ٹائمس اخبار کی کٹنگ ایڈیٹ شدہ ہے۔ نیویارک ٹائمس اخبار نے مذکورہ دعوے سے متعلق کسی بھی طرح کی خبر شائع نہیں کی ہے۔

Result: False


Our Sources

New York Times

E paper New york Times

Twitter

BBC Hindi

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow
Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular