منگل, ستمبر 27, 2022
منگل, ستمبر 27, 2022

HomeFact Checkناول کروناوائرس سے بچنے کے لئے پڑھیئے ہماری تحقیق

ناول کروناوائرس سے بچنے کے لئے پڑھیئے ہماری تحقیق

چین کے بوہان شہر کے بعد ناول کروناوائرس(2019-nCoV) اب امریکہ سمیت ایشاء کے کئی ممالک میں دستک دے چکا ہے۔چین میں اس وائرس کی وجہ سے اب تک ۸۰۰ سے زائد معماملے درج کئے جا چکے ہیں۔دوسری جانب ایم آر سی سینٹر فار گلوبل انفیکشن ڈیزیزن اینالائسس کے مطابق چین کے باہر بھی یہ معاملے درج کئے گئے ہیں۔جس کی وجہ سے اس کی تعداد چارہزار کے قریب پہنچ چکا ہے۔ورلڈ ہیلتھ اورگنائزیشن اس پر گہری نظر بنائے ہوئی ہے اوراس کے بارے میں تازہ جانکاری عوام تک پہنچا رہاہے۔

 

کن ممالک میں پایا گیا ہےناول کروناوائرس؟

چین کے بعد امریکا میں اس وائرس سے متاثر ایک شخص کی شناخت ہوگیا ہے۔جوچین کی گاڑی سے امریکا آیا تھا۔وہیں جاپان،ساؤتھ کوریا اورتھائی لینڈ میں کروناوائرس کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ڈبلو ایچ او نے باقی ممالک سے اپیل کی ہے کہ ان ممالک میں جانے سے فی الحال پرہیز کریں۔ وہیں چین نے بھی اپنے شہری کو برہان شہر جانے سے منع کیا ہے۔ساتھ ہی برہان شہر میں رہ رہے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بھی شہر سے باہر نہ نکلے۔تاکہ وائرس کے اثرات کو روکا جا سکے۔

کیا بھارت میں ناول کروناوائرس کا خطرہ منڈالا رہاہے؟

ہندوستان میں فی الحال کرناوائرس سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔حالانکہ ممبئی میں چین سے آئے دو لوگوں کو چنچ پوکلی کے کستوربا اسپتال میں ڈاکٹر کی نگرامی میں رکھا گیاہے۔اس سے پہلے خبر آئی تھی کہ  سعودی عرب میں کام کررہی کیرل کی ایک نرس اس وائرس میں مبتلا ہے۔جس پر سعودی عرب نے اپنے بیان جاری کر کے اسے غلط بتایا ہے۔ان کے مطابق نرس کروناوائرس سے نہیں بلکہ ایم ای آر اہس ۔سی اووی سے متاثر ہے اور ان کا علاج کیا جارہاہے۔

چین کے شین جین میں ایک ہندوستانی خاتون میں یہ وائرس پایا گیا ہے۔جنہیں شین جین کے ہی ایک اسپتال میں علاج کے لئے داخل کیا گیاہے۔اُدھر بوہان شہر میں تقریباً۲۵ہندوستانی پھنسے ہونے کی خبریں آرہی ہے۔ہندوستانی ایمبسی نے چین میں رہ رہے ہندوستانیوں کے لئے ہاٹ لائن نمبر جاری کیا ہے۔تاکہ یہ لوگ اپنے اہل خانہ سے رابطے میں رہے۔واضح رہے کہ ہندوستانی ایمبسی  اپنے شہریوں کے لئے لگاتار چین سے رابطے میں ہیں۔نمبر مندرجہ ذیل میں موجود ہیں۔

+8618612083629

+8618612083617

وائرس کے پیش نظر ہندوستانی ہوائی اڈ٘ے پر اسکریننگ کی جارہی ہے۔خاص کر چین سے آنے والے لوگوں پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔انڈین سرکار نے اپنے شہریوں کے لئے ٹیبل ایڈوائزری  بھی جاری کی ہے۔اس تعلق سے مختلف جگہوں پر وائرس سے متعلق جانکاری اور عالامات سے جڑے پوسٹر لگائے گئے ہیں۔محکمہ صحت نے سبھی ریاستوں کو الڑٹ کیا ہے کہ کروناوائرس سے لڑنے کے لئے تیار رہیں۔

Novel Coronavirus (2019-nCoV) سے جڑی فیک نیوز 

2019-nCoV کے متعلق جعلی خبریں بھی خوب گردش کررہی ہے۔جن میں سب سے زیادہ شیئر کی جارہی خبر(Severe Acute Respiratory Syndrome )  ہے۔

 

Severe Acute Respiratory Syndrome کی چین میں واپسی؟

ناول کروناوائرس کے سامنے آتے ہیں چین میں یہ افواہ پھیلنے لگا کہ ایس اے آر ایس جیسی مہلک بیماری ایک بار پھر واپس آگئی ہے۔جبکہ جانکاروں کی مانیں تو کروناوائرس اور ایس اے آر ایس ایک نہیں ہے۔کرونا وائرس میں لگ بھگ چھ طرح کے وائرس پائے جاتے ہیں۔جن میں ایس اے آر ایس اور ایم ای آر ایس  بھی شامل ہیں۔ جبکہ ناول وائرس ایک نیا وائرس ہے۔جس کے بعد ان کی تعداد اب سات ہوگئی ہے۔

 

وائرس کا ڈر پھیلایا جارہاہے تاکہ فارماکمپنی کو فائدہ ہو؟

سوشل میڈیا پر یہ افواہ پھیلایا جارہاہے کہ جو وائرس نیا ہے اس کی دوا پہلے سے ہی موجود ہے۔دعوے میں کہا جارہاہے کہ یہ سب فارما کمپنی کو فائدہ پہنچانے کے لئے کیا جارہاہے۔

ناول کرونا وائرس کو لے کر جو غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہے۔اس سے متعلق ہوکس الڑٹ نامی ویب سائٹ نے فیکٹ چیک کیا۔جوکہ یہاں کلک کرکے معلومات حاصل کی جاسکتی ہے۔

Fake News: Patent For Coronavirus That Expired Is NOT For New Strain Killing People In China | Lead Stories

STORY UPDATED: check for updates below. Did a patent expire on January 22, 2020, for the “new” coronavirus, and does that prove the virus was “invented”? No, that’s not true: The patent is about the SARS coronavirus, which broke out in China in 2002, not the current Wuhan City strain, which has so far killed 18 people in China.

ناول کروناوائرس کے عالامات؟

2019-nCoV

کروناوائرس کے مریضوں میں عام طور پر سردی،کھانسی،گلے میں درد،سانس لینے میں دقت و بخار جیسی علامات پائی جاتی ہے۔اس کے بعد نیمونیا اور کڈنی کو نقصان پہنچنے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔

ناول کروناوائرس سے بچنے کا طریقہ

ایسی مقامات پر نہ جائیں جہاں یہ بیماری پھیلی ہوئی ہو۔

۱ اپنے ہاتھوں کو صابن سے اچھی طرح دھوئیں یا سنیٹائزر کا استعمال کریں۔

۲ اپنی ناک اور منہ کو ڈھ کر رکھیں۔

۳ بیمار لوگوں سے دور رہیں اور اس کے برتن کا استعمال نہ کریں۔

۴ گھر کی صفائی رکھیں اور باہر سے آنے والی چیزوں کو بھی صاف کرکے ہی گھر میں لائیں۔

۵ گوشت اور سمندری مچھلی کھانے سے پرہیز کریں۔کیونکہ کورناوائرس سی فوڈ سے ہی پھیلا ہے۔

آپ کو بتادوں کہ اب تک کروناوائرس سے بچنے کے لئے کوئی بھی ویکسین نہیں بنی ہے۔اس وائرس کے علاج کے لئے سائنداں ویکسین بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ڈبلو ایچ او نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین میں نئے سال کے جشن کی وجہ سے وہاں سے آنے جانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوگاجو کہ ممکن اس وائرس میں اضافہ ہو۔

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویزکے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔۔

 WhatsApp -:9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular