ہفتہ, جولائی 13, 2024
ہفتہ, جولائی 13, 2024

ہومFact CheckFact Check: سعودی عرب نے کرسٹیانو رونالڈو کو تحفے میں دی سونے...

Fact Check: سعودی عرب نے کرسٹیانو رونالڈو کو تحفے میں دی سونے کی بائک؟ وائرل ویڈیو کا جانیں سچ

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Claim
سعودی حکومت نے فٹبالر رونالڈو کو تحفے میں ایک سونے کی بائک دی ہے۔
Fact
یہ ویڈیو ایک نمائش میں رکھی گئی موٹر سائیکل کی ہے، جسے دی اسٹارم کہا جاتا ہے۔ اس کے مالک کا نام فیصل ابو سارہ ہے۔

ان دنوں سوشل نٹورکنگ سائٹس فیس بک اور ٹویٹر پر ایک سونے کی موٹرسائیکل کی ویڈیو خوب گردش کر رہی ہے۔ صارفین اس ویڈیو کے ساتھ دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ سونے کی بائک سعودی حکومت کی جانب سے فٹبالر رونالڈو کو تحفے میں دی گئی ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ رونالڈو ابھی پچھلے سال ہی سعودی عرب کے فٹبال کلب النصر میں شامل ہوئے تھے۔ اس ویڈیو کو متعدد ویریفائیڈ ہینڈلس سے بھی ٹویٹر پر مذکورہ دعوے کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔

سعودی حکومت نے فٹبالر رونالڈو کو تحفے میں ایک سونے کی بائک دی ہے۔
Courtesy: Twitter @wakeeahmad137

یہ بھی پڑھیں: کرسٹیانو رونالڈو کی یہ ویڈیو فیفا ورلڈکپ 2022 کی نہیں ہے

Fact Check/Verification

سعودی حکومت کی جانب سے رونالڈو کو ایک سونے کی بائیک تحفے میں دی گئی، اس دعوے کے ساتھ وائرل ویڈیو کی حقیقت جاننے کے لئے ہم نے سب سے پہلے اس سے متعلق کیورڈ سرچ کیا۔ لیکن کوئی بھی تصدیق شدہ رپورٹ نہیں ملی۔ اس کے بعد ہم نے رونالڈو کے ٹویٹر اور انسٹاگرام اکاونٹ کو بھی کھنگالا، لیکن وہاں بھی سونے کی بائیک کی کوئی ویڈیو ہمیں فراہم نہیں ہوئی۔

اس کے بعد ہم نے وائرل ویڈیو کا جائزہ لیا تو ہمیں بائک کی ٹنکی پر دی اسٹارم لکھا ہوا نظر آیا۔ ساتھ ہی اس کے پیچھے پرچم پر پہلا کلمہ کے ساتھ ایک انسٹاگرام ہینڈل “فیصل ابوسارہ” لکھا ہوا ملا۔

Screengrab from viral video
Screengrab from viral footage

اس کو ایک ثبوت مان کر ہم نے “دی اسٹارم اور فیصل ابو سارہ” کیورڈ سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں فیصل ابو سارہ کا انسٹاگرام اکاونٹ موصول ہوا۔ جہاں اس سونے کی بائک کی مختلف ویڈیوز و تصاویر موجود تھیں اور وائرل ویڈیو میں نظر آ رہی بائیک کی نمبر پلیٹ اور فیصل کے انسٹاگرام پر موجود بائیک کی نمبر پلیٹ ایک جیسی ہے۔

(L-R) Screengrab from Instagram post by @faisal_abu_sara and screengrab from viral clip

فیصل نے 19 فروری 2022 کو ایک پوسٹ شیئر کرکے یہ جانکاری دی تھی کہ انہوں نے کسٹم اسپورٹ بائیک میں پہلی جگہ حاصل کی تھی۔ ایک دوسری پوسٹ پر ایک کمنٹ کا جواب دیتے ہوئے فیصل نے بتایا کہ اس موٹرسائیکل پر اصل سونے کا پانی چڑھا ہوا ہے۔

مزید سرچ کے دوران رؤیا اسپورٹس نامی یوٹیوب چینل پر بھِی سونے کی بائیک سے متعلق فیصل کا ایک انٹر ویو ملا۔ جس میں اینکر اس بائیک کے مالک فیصل ابو سارہ سے عربی زبان میں بات کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ ویڈیو میں سونے کی بائک کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

Courtesy: YouTube/
Roya Sports

اس کے علاوہ موٹو محل اور ٹربو کنگ کے فیس بک پیج پر بھی اسی سونے کی بائیک کی ویڈیو دیکھی جا سکتی ہیں اور ان کی پوسٹ میں بھی اس بائیک کا کریڈٹ فیصل کو ہی دیا گیا ہے۔

آخر میں یلّا بردرس نامی انسٹاگرام پیج پر بھی فیصل ابو سارہ کا انگریزی زبان میں دیا گیا ایک انٹرویو ملا۔ جس میں وہ بتا رہے ہیں کہ وہ سعودی عرب سے ہیں اور یہ بائیک انہوں نے ہی بنوائی ہے۔ اس پر سونے کی پرت چڑحی ہوئی ہے اور اس بائیک سے وہ متعدد موٹرسائیکل کے مقابلے جیت چکے ہیں۔

Instagram will load in the frontend.

یہ بھی پڑھیں: پرتگال کے فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو کی یہ تصویر ترمیم شدہ ہے

Conclusion

اس طرح نیوزچیکر کی تحقیقات سے واضح ہوتا ہے کہ وائرل ویڈیو میں نظر آ رہی بائک واقعی سونے کی ہے۔ لیکن سونے کی بائک سعودی حکومت نے رونالڈو کو تحفے میں نہیں دیا ہے بلکہ یہ فیصل ابو سارہ نامی شخص کی بائیک ہے۔

Result: False 

Our Sources
Instagram Account Of @faisal_abu_sara and @yalla_brothers
Video uploaded by Youtube channels named Roya Sports on 10 Nov 2018
Facebook post by MotoMahal and TURBO KING


نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کرسکتے ہیں۔

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Most Popular