بدھ, اکتوبر 5, 2022
بدھ, اکتوبر 5, 2022

HomeFact Checkسری لنکا کے ویڈیو کو آسام کا بتاکر کیوں عوام کو کیا...

سری لنکا کے ویڈیو کو آسام کا بتاکر کیوں عوام کو کیا جارہا ہے گمراہ؟سچ جاننے کے لئے پڑھیئے ہماری تحق

دعویٰ

سی اے اے ،این آرسی اور این پی آر نافذ ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر حراستی کیمپ کو لے کر طرح طرح کے ویڈیو اور پوسٹ شیئر کیےجارہے ہیں۔ان دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہورہاہے۔جس میں دعویٰ کیا جارہاہے کہ آسام ڈیٹنشن کیمپ میں موجودہ صورت حال بد سے بدتر ہے۔ساتھ ہی لکھا ہے کہ جو لوگ آج آواز نہیں اٹھائیں گے کل ان لوگوں کا بھی یہی حال ہوگا۔اللہ ظلم کرنے والوں کو جلد نست نعبود کردو اور تمام مظلوم انسانوں کو جلد سے جلد رہائی دلا دو۔آمین۔۔۔ساتھ ہی یہ اس ویڈیو کو دوسرے تک پہنچانے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔

ہماری تحقیق

وائرل ویڈیو اور پوسٹ کو پڑھنے کے بعد ہم نے اپنی ابتدائی تحقیقات شروع کی۔سب سے پہلے ہم نے وائرل ویڈیو کو غور سے دیکھا۔پھر ہم نے وائرل ویڈیو کا اویسم اسکرین شارٹ لیا اور گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔اس دوران ہمیں ایشیاٹائمس، سری لنکابریف،سنڈے اوبزرور ،اَون لنکا اور کولمبو ٹیلی گراف نامی نیوز ویب سائٹ پر سولہ سے بیس جنوری دوہزار انیس تک کی خبریں ملیں۔۔جس کے مطابق سری لنکا کے انگوناکولاپلیسا نامی جیل میں جیلر قیدیوں کی پٹائی کررہا ہے۔جس کا سی سی ٹی وی فوٹیج وائرل ہوگیا۔

ان تحقیقات سے واضح ہوچکا کہ وائرل ویڈیو آسام کا نہیں بلکہ سری لنکا کے ایک جیل کا ہے۔پھر ہم نے اپنے قاری کی تسل٘ی کے لئے مزید ریسرچ کیا۔اس دوران ہم نے وائرل ویڈیو کو یوٹیوب پر کچھ کیورڈ کے سہارے تلاش کیا۔جہاں ہمیں اس تعلق سے کئی ویڈیو فراہم ہوئے۔جس میں یہی واضح ہوتا ہے کہ یہ سری لنکا کے جیل کا ہے جہاں جیل کے اندر قدیوں کی پٹائی سول ڈریس میں آکر جیلر نے کی۔

تمام تر تحقیقات میں یہ بات صاف ہوچکا کہ یہ ویڈیو سری لنکا کے ایک جیل کاہے۔ پھر ہم نے وائرل اور اصل ویڈیو میں نظر آرہے سی سی ٹی وی کی ٹائمنگ کے ذریعے اپنے قاری کو سمجھانے کے لئے فوٹوپیا سوفٹویئر کا استعمال کیا۔جو مندرجہ ذیل میں دیکھا جا سکتا ہیں۔

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل ویڈیو آسام کا نہیں بلکہ سری لنکا کے ایک جیل کا ہے۔جہاں جیلرقیدیو کو ماراپیٹ رہاہے۔

ٹولس کا استعمال

گوگل اویسم اسکرین سرچ

ریورس امیج سرچ

کیورڈ سرچ

یوٹیوب سرچ

نتائج:فیک نیوز(غلط دعویٰ)

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویزکے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔۔

 WhatsApp -:9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular