پیر, جنوری 17, 2022
پیر, جنوری 17, 2022
HomeFact Checkریتیلے پانی میں بہہ رہے جانوروں کی یہ ویڈیو ایران کی نہیں...

ریتیلے پانی میں بہہ رہے جانوروں کی یہ ویڈیو ایران کی نہیں ہے

سوشل میڈیا پر ریتیلے پانی میں بہہ رہے جانوروں کا 30 سیکینڈ کا ایک ویڈیو شیئر کیا جا ریا ہے۔ صارف کا دعویٰ ہے کہ “یہ ویڈیو ایران کے شہر بندر عباس کا ہے، جہاں حال کے دنوں میں طوفانی بارش کے سبب یہ واقعہ پیش آیا ہے”۔

ریتیلے پانی میں بہہ رہے جانوروں کی یہ ویڈیو ایران کی نہیں ہے
Courtesy:twitter@@AalamPmlnSindh

ٹویٹر پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

الجزیرہ انگلش کی ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے کئی دنوں سے جنوبی ایران میں طوفانی بارش کی وجہ سے آنے والے سیلاب میں اب تک 8 افراد کی موت ہو چکی ہے، جبکہ 14 افراد زخمی ہوئے ہیں اور دو افراد کے گمشدہ ہونے کی خبر ہے۔ اسی کے پیش نظر ریتیلے پانی میں بہہ رہے جانوروں کے ایک ویڈیو کو ایران کے شہر بندر عباس کا بتاکر شیئر کیا جا رہا ہے۔

فیس بک پر ایک صارف نے ریتیلے پانی میں بہہ رہے جانوروں والے ویڈیو کے کیپشن میں لکھا ہے کہ “ایران کے شہر بندر عباس میں آج ہونے والی طوفان بارش کے بعد تباہی کے مناظر!”۔

ریتیلے پانی میں بہہ رہے جانوروں کی یہ ویڈیو ایران کی نہیں ہے
Courtesy:FB/Gull Ahmed

فیس بک پر مذکورہ دعوے کے ساتھ شیئر کی گئی ویڈیو کو کتنے صارفین نے پوسٹ کیا ہے، یہ جاننے کے لئے ہم نے کراؤڈ ٹینگل پر کیورڈ سرچ کیا تو ہمیں پتا چلا کہ اس موضوع پر پچھلے 3 دنوں میں 11 پوسٹ شیئر کئے گئے ہیں اور 788 فیس بک صارفین نے اس موضوع پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

Courtesy:Screen shot of Crowdtangle

Fact Check/Verification

کیا ریتیلے پانی میں بہہ رہے جانوروں کی یہ ویڈیو ایران کی ہے؟ اس دعوے کی سچائی جاننے کے لئے ہم نے سب سے پہلے ویڈیو کو کیفریم میں تقسیم کیا اور ان میں سے کچھ فریم کو گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔ لیکن کچھ بھی اطمینان بخش نتائج نہیں ملے۔ پھر ہم نے ایک فریم کو ین ڈیکس پر سرچ کیا۔ جہاں ہمیں متعد لنک فراہم ہوئے جو حال کے دنوں کے نہیں تھے۔

Courtesy: screen shot of Yandex

سرچ کے دوران ہمیں آخرین خبر نامی انسٹاگرام پر وائرل ویڈیو ملا۔ جسے 8 مئی 2021 کو مشرقی ایران کا بتاکر شیئر کیا گیا ہے۔

Instagram will load in the frontend.

سرچ کے دوران ہمیں مہمت علی اسلان نامی ویریفائڈ ٹویٹر ہینڈل پر 31 جولائی 2021 کو اپلوڈ شدہ وائرل ویڈیو ملا۔ جس کا کیپشن ترکی زبان میں تھا، ترجمہ کرنے پر پتا چلا کہ صارف نے ترکی کے سلسلے میں کچھ لکھا ہے۔ یہاں سے ہمیں ایک ذریعہ ملا کہ ویڈیو پرانا ہے اور ترکی کا ہے۔

Courtesy:HemmedAliAslan

مذکورہ جانکاری سے پتا چلا کہ ویڈیو پرانی ہے۔ پھر ہم نے مزید کیورڈ سرچ کیا۔ جہاں ہمیں ترکی کی معروع نیوز ویب سائٹ اہابر اور ٹی آر ٹی ہیبر کی 2020 میں شائع شدہ ترکی زبان میں رپورٹس ملیں۔ جس میں وائرل ویڈیو کے ساتھ خبریں شائع کی گئیں ہیں۔ ترجمہ کرنے پر پتا چلا کہ وان کے ایرس ضلع میں طوفانی بارش کی وجہ سے 74 بھیڑوں کی موت ہو گئی تھی۔ اس سیلاب کی وجہ سے جانی و مالی نقصان بھی ہوا تھا۔

Courtesy: ahaber.com.tr

اس کے علاوہ ہمیں اسپتنک ترکی نامی آفیشل یوٹیوب چینل پر بھی وائرل ویڈیو ملا۔ جس میں بہتے ہوئے جانور نظر آ رہے ہیں۔ ویڈیو کے ڈسکرپشن میں دی گئی جانکاری کے مطابق وان کے ایرس ضلع میں شدید بارش کی وجہ سے سیلاب آ گیا تھا۔ سیلاب کی وجہ سے 74 بھیڑیں و بکریاں مر گئیں اور کچھ گودام و پناہ گاہیں بھی تباہ ہو گئیں۔ اس کے علاوہ زرعی زمینوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

Conclusion

نیوز چیکر کی تحقیقات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پانی میں بہتے ہوئے جانوروں کی ویڈیو ایران کے شہر بندر عباس کی نہیں ہے بلکہ ترکی کے وان کے ضلع ایرس کی ہے جہاں بھاری بارش کی وجہ سے سیلاب آ گیا تھا۔ جس میں 74 بھیڑیں و بکریاں مر گئی تھیں و زرعی زمینوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔


Result: Partly False

Our Sources

Twitter:https://twitter.com/HemmedAliAslan/status/1421368421657235458

Ahaber.com.tr:https://www.ahaber.com.tr/video/yasam-videolari/son-dakika-van-erciste-sele-kapilan-74-koyun-telef-oldu-o-anlar-kamerada-video

TRThaber:https://www.trthaber.com/haber/turkiye/vanda-sele-kapilan-74-koyun-telef-oldu-497555.html

YouTube:https://www.youtube.com/watch?v=uDCwYkkSbLs


نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow
Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular