بدھ, مئی 25, 2022
بدھ, مئی 25, 2022

HomeFact Checkجرمنی میں ہوئے مظاہرے کی لائیو کوریج ویڈیو کو حالیہ یوکرین حملے...

جرمنی میں ہوئے مظاہرے کی لائیو کوریج ویڈیو کو حالیہ یوکرین حملے سے جوڑ کر کیا جا رہا ہے شیئر

سوشل میڈیا پر ایک لائیو کوریج کی ویڈیو رپوٹ شیئر کی جا رہی ہے۔ جس میں ایک شخص رپورٹنگ کرتے ہوئے نظر آ رہا ہے اور اس شخص کے پیچھے کچھ باڈی بیگس بھی ہیں اور اس کی تصویر کچھ فوٹوگرافر کلک کر رہے ہیں۔ ویڈیو رپورٹنگ کے دوران ایک مردہ حرکت کرتے ہوئے بھی نظر آرہا ہے۔ صارف نے ویڈیو کے کیپشن میں لکھا ہے کہ “روس کے حملے میں یوکرین کے شہریوں کی ہلاکتوں کی لائیو کوریج کے دوران ایک مردہ زندہ ہو گیا”۔

جرمی میں ہوئے مظاہرے کی لائیو کوریج کی ویڈیو کو حالیہ یوکرین حملے سے جوڑ کر کیا جا رہا شیئر
Courtesy:fb/abo.hasnain

روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جاری ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق روسی فوج نے خیر سون نامی جنوبی ساحلی شہر پر قبضہ کر لیا ہے۔ روس بھاری گولہ باری کے باوجود خارخیواب کو یوکرین کے قبضے سے حاصل نہیں کر سکا۔ حالانکہ اس حملے سے جوڑ کر فرضی دعوے کے ساتھ دیگر ممالک کی ویڈیو اور تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہیں۔

اس ویڈیو کو ایک فیس بک صارف نے یوکرین کی جانب سے حلاکت کی فرضی رپورٹنگ بتا کر شیئر کیا ہے۔

جرمی میں ہوئے مظاہرے کی لائیو کوریج کی ویڈیو کو حالیہ یوکرین حملے سے جوڑ کر کیا جا رہا شیئر
جرمی میں ہوئے مظاہرے کی لائیو کوریج کی ویڈیو کو حالیہ یوکرین حملے سے جوڑ کر کیا جا رہا شیئر

اس کے علاوہ متعد فیس بک اور ٹویٹر صارفین وائرل ویڈیو کو مزاحیہ انداز میں یوکرین کی جانب سے فرضی رپورٹنگ کا بتاکر شیئر کر رہے ہیں۔ جس کا اسکرین شارٹ درج ذیل میں موجود ہے۔

Fact Check/Verification

روس کے حملے میں یوکرین کے شہریوں کی ہلاکتوں کی لائیو کوریج کی ویڈیو بتا کر شیئر کی گئی ویڈیو کی سچائی جاننے کے لئے ہم نے اپنی ابتدائی تحقیقات کا آغاز کیا۔ سب سے پہلے ہم نے وائرل ویڈیو کو اویسم اسکرین شارٹ کی مدد سے کیفریم میں تقسیم کیا اور ان میں سے ایک فریم کو ین ڈیکس پر سرچ کیا۔ لیکن کچھ بھی اطمینان بخش نتائج نہیں ملے۔

پھر ہم نے ویڈیو کو غور سے دیکھا تو ہمیں رپورٹر کے ہاتھ میں مائک نظر آیا، جس پر اوای24 ٹی وی انگلش میں لکھا ہوا تھا۔ پھر ہم نے اس نام کو یوٹیوب پر سرچ کیا۔ جہاں ہمیں او ای 24 ٹی وی نام کے یوٹیوب چینل پر 2 منٹ 8 سیکنڈ پر مشتمل 4 فروری 2022 کو اپلوڈ شدہ وائرل ویڈیو کا اصل ورژن ملا۔ ویڈیو کا کیپشن جرمن زبان میں تھا۔ ترجمہ کرنے پر پتا چلا کہ “ویانا: موسمیاتی پالیسی کے خلاف احتجاج”۔

screen shot of viral post

او ای 24 سی این این کی پارٹنرشپ میں چلنے والا نیوز ٹی وی چینل ہے۔ جس کی ملکیت اوسٹرچ کے پاس ہے، جو ویانا میں مقیم جرمنی زبان کا روزنامہ اخبار ہے۔

یوٹیوب پر سب ٹائٹلز کے فیچر کو استعمال کرنے پر ہمیں معلوم ہوا کہ نیوز رپورٹر اس واقعے کے بارے میں بات کر رہا ہے، جس میں 49 مظاہرین اپنے جسموں کو تھیلوں سے ڈھک کر زمین پر لیٹ گئے تھے، تاکہ آسٹریا میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہر روز مرنے والے لوگوں کی تعداد ظاہر کر سکیں۔ .

Courtesy:oe24.tv

یہی ویڈیو رپورٹ ہمیں او ای 24 کی ویب سائٹ پر بھی ملی۔ اب ان رپورٹس سے واضح ہوا کہ “روس کے حملے میں یوکرین کے شہریوں کی ہلاکتوں کی لائیو کوریج کے نام پر وائرل ویڈیو کو فرضی دعوے کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔

screen shot of Oe24.at

اپنی تحقیقات میں اضافہ کرتے ہوئے ہم نے لائیو کوریج ویڈیو میں نظر آ رہے رپورٹر کے نام کو فیس بک اور انسٹاگرام پر سرچ کیا۔ جہاں ہمیں اس رپورٹر کا سوشل میڈیا ہینڈل ملا۔ جہاں انہوں نے انسٹاگرام اسٹوری اور فیس بک پوسٹ میں اس ویڈیو کو لے کر جرمن زبان میں وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ جس کا ترجمہ کرنے پر پتا چلا کہ وہ موسمیات کے متعلق چل رہے احتجاج پر رپورٹنگ کرنے گئے تھے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ مجھے اس بات پر بہت حیرانی ہوتی ہے کہ لوگ سوشل میڈیا پر کچھ بھی دیکھ کر بنا کسی سیاق و سباق کے اس پر یقین کر لیتے ہیں۔

Conclusion

نیوز چیکر کی تحقیقات میں پتا چلا کہ روس کے یوکرین پر حملہ کرنے سے بہت پہلے شائع ہونے والی ایک غیر متعلقہ ویڈیو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر استعمال کیا جا رہا ہے۔ جس کے ساتھ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ “یوکرینی میڈیا لائیو کوریج کی ویڈیو رپورٹ میں جعلی ہلاکتیں دکھا رہا ہے”۔ درحقیقت یہ منظر 4 فروری 2022 کے ہیں، جنہیں آسٹریا میں موسمیاتی تبدیلی کے خلاف شہریوں کے احتجاج کے دوران ریکارڈ کیا گیا تھا۔

Result: False Context/False

Our sources

YouTube Channel Of OE24.TV
oe24.at
Facebook post by Marvin S. Bergauer 
Instagram Story by marvinbergauer
Newschecker Analysis

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular