ہفتہ, نومبر 26, 2022
ہفتہ, نومبر 26, 2022

HomeFact Checkسمبت پاترا نازی نشان کو ہندودھرم سے جوڑ کر شاہین باغ کے...

سمبت پاترا نازی نشان کو ہندودھرم سے جوڑ کر شاہین باغ کے مظاہرین کو کیوں کررہے ہیں بدنام؟کیا ہےسچ؟پڑھیئے ہماری تحقیق

دعویٰ

“ہم دیکھیں گے”۔۔۔تو شاہین باغ والے سی اے اے کے پروٹیسٹ کے نام پر در اصل یہی دیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔۔

ہندؤں کے پوتر نشان کی بربادی۔۔”پوترسُواستک” کی بربادی؟؟ مزید آگے لکھا ہے ایسی ہی آواز ایک بار جے این یو سے بھی آئی تھی۔”بھارت کی بربادی تک جنگ رہے گی جنگ رہے گی”جاگو اس سے پہلے کی دیر ہوجائے۔آپ کو بتا دیں کہ دعویٰ بی جے پی لیڈر سبت پاترا نے شیئر کیا ہے۔

تصدیق

شاہین باغ میں سی اے اے ،این پی آر اور این آر سی کے خلاف گذشتہ کئی دنوں سے احتجاج جاری ہے۔دھرنے پر بیٹھی خواتین کو بدنام کرنے اور مظاہرہ ختم کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر طرح طرح کے پوسٹ شیئر کئے جارہے ہیں۔ایسے ہی ایک پوسٹر کے ساتھ بی جے پی کے قومی ترجمان سمبِت پاترا نے ایک پوسٹ شیئر کیا ہے۔پوسٹر کے نیچے ایک نشان کالے رنگ میں بنا ہے۔جس کو لے کر پاترا نے دعویٰ کیا ہے کہ شاہین باغ کے مظاہرین ہندو مذہب کے پاک نشان”سُواستک”کی بربادی چاہتے ہیں۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔

ہماری کھوج

شہریت ترمیمی بل اور این پی آر کے خلاف احتجاج کو ناکام بنانے کے لئے بی جے پی اور آر ایس ایس مسلسل جھوٹ گڑھ کے سوشل میڈیا پر عوام کو گمراہ کررہی ہے۔حال ہی میں بی جے پی لیڈرسبت پاترا اور آئی ٹی سیل  کے ہیڈ امت مالویا نے شاہین باغ کی خواتین پر پیسے لے کر دھرنے پر بیٹھنے کا الزام لگایا تھا۔اب سمبت پاترا سمیت متعدد افراد نے ٹویٹر اور فیس بک پر ایک پوسٹر شیئر کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ  شاہین باغ میں ہندو کا پوتر نشان کی بربادی و “سواستک” نشان کی بے حرمتی کی جارہی ہے۔پاترا کے اس ٹویٹ کو دس ہزار سے زائد لوگوں نے شیئر کیاہے۔جبکہ ستائیس سوتیس یوزرس نے لائک کیا ہے۔اس کے علاوہ فیس بک پر بھی اس پوسٹ کو خوب شیئر کیا گیاہے۔

 

ہماری کھوج 

وائرل پوسٹر کے ساتھ کئے گئے دعوے کو پڑھنے سمجھنے کے بعد ہم نے سوچا کیوں نہ جانا جائے کہ کیا یہ واقعی میں “پوترسواستک” کے نشان ہے یا محض عوام کو اس کے نام پر گمراہ کیا جارہاہے۔پھر ہم نے یوٹیوب پر کچھ کیورڈ سرچ کیا۔اس دوران ہمیں ری پبلک ورلڈ نامی چینل کا ایک ویڈیو ملا۔جو سولہ جنوری دوہزار بیس کو اپلوڈ کیا گیا تھا۔اس ویڈیو میں وائرل پوسٹر کے بارے میں سمبت پاترا کا حوالہ دے کر دہلی کے شاہین باغ کے مظاہرین کو بدنام کیا جارہاہے۔

ری پبلک ورلڈ سے ملی جانکاری سے تسل٘ی نہیں ملی تو ہم نے  اپنی کھوج کو جاری رکھتے ہوئے وائرل نشان کو ریورس امیج سرچ کیا۔ پھر ہم نے سواستک نشان لکھ کر کیورڈ سرچ کیا۔جہاں ہمیں دونوں نشان مختلف نظر آرہے تھے۔سواستک نشان لال رنگ کا ہے۔جس کے ہر خانے میں ایک نقطے کا نشان بنا ہے۔جبکہ نازی والے نشان میں نقطے بھی نہیں ہے اور ذرا ٹھیرا میڑھا بھی ہے۔نازی نشان کالے رنگ کا ہے۔پھر ہم نے مزید تسل٘ی کے لئے غیرمسلم بھائی سے سواستک کے بارے میں جانکاری طلب کی۔انہوں نے بتاکہ  سواستک نشان کو اچھے کاموں کے لئے استعمال میں لایا جاتا ہے اور اس کا رنگ کالے رنگ کے علاوہ ہوتا ہے۔اب آپ مندرجہ ذیل میں دونوں تصویر کی تمیز خود  اپنی آنکھوں سے دیکھ کر کر سکتے ہیں۔

 

یہاں بتاتا چلوں کہ نازی تصویر تاناشاہ حکومت کومتنبہ کرنے لئے استعمال کیا جاتا ہے کہ وہ عوام کے مخالف کام کررہاہے۔دنیا بھر میں اسی نشان(نازی)کا استعمال مظاہرین کئی بار کر چکے ہیں۔مثال کے طور پر کچھ تصویر اور ویڈیو آپ مندرجہ ذیل میں دیکھ سکتے ہیں۔جہاں امریکا کے سابق صدر براک اباما کی مخالفت میں نازی نشان والا جھنڈا لہرایا جاچکا ہے۔

نیوزچیکر کی تحقیق میں یہ ثابت ہوتاہے کہ وائرل ہورہے پوسٹر کے ساتھ کئے جارہے دعوے غلط ہے۔دراصل پوسٹر میں نازی نشان کا استعمال کر کے مظاہرین شہریت ترمیمی بل کی مخالفت کررہے ہیں۔واضح رہے کہ سواستک نشان کالے رنگ کے علاوہ دیگر رنگوں میں بنایا جاتا ہے۔کیونکہ ہندومذہب میں کالے رنگ کو آشُبھ مانتے ہیں اور اشبھ نشان شبھ کاموں کے لئے نہیں کیا جاتاہےواضح رہے کہ شاہین باغ دھرنے پر مسلم اور غیر مسلم سبھی ساتھ دھرنے پر بیٹھے ہیں۔

ٹولس کا استعمال

ریورس امیج سرچ

کیورڈ سرچ

یوٹیوب سرچ

نتائج:فیک نیوز(غلط دعویٰ)

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویزکے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔۔

 WhatsApp -:9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular