ہفتہ, دسمبر 10, 2022
ہفتہ, دسمبر 10, 2022

HomeFact Checkپاکستانی پولس کا خواتین پر تشدد کا وائرل ویڈیو کیوں پوپی کا...

پاکستانی پولس کا خواتین پر تشدد کا وائرل ویڈیو کیوں پوپی کا بتاکا بتایاجارہا؟پڑھیئے ہماری پڑتال

دعوی

یوگی پولس کے ظلم و ستم کو دیکھو۔خاتون،بزرگ اور بچوں کو کس طرح مار پیٹ رہی ہے اور گھر کے سبھی افراد کو جیل لے جانے کی دھمکی بھی دے رہی ہے۔یہ وہی پولس ہے جس کا پی ایم مودی تعریف کرتے تھے۔

نوٹ:۔ ہربار ضروری نہیں دنگائی مسلمان ہی ہو،کبھی کبھی خاکی میں بھی پائے جاتے ہیں؟ واضح رہے کہ یہ پوسٹ انجلی نامی ٹویٹر ہینڈل سے شیئر کیاگیاہے۔

ہمارا ریسرچ

وائرل ویڈیو کے ساتھ کئے گئے جودعوے کے مطابق ہم نے گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔اس دوران ہمیں یوپی پولس کے تعلق سے کئی خبریں ملیں۔جن یہ لکھے ہوئے ملے کہ سی اے اے کے خلاف احتجاج کررہے مسلمانوں پرزیادتی کی ہے۔جو کہ بجنور اور مظفرنگر کے مسلمان اس سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔بجنور اور مظفرنگرمیں پولس مسلمانوں کے گھروں میں توڑ پھوڑ بھی کی ہے۔لیکن ہمیں ویڈیو میں پولس کی وردی ذرا الگ نظر آئی اس لئے اپنی کھوج کو جاری رکھا۔

وائرل ویڈیو اور اوپر لکھے کیپشن کو پڑھنے کے بعد ہم نے گہرائی سے کوج شروع کی۔سب سے پہلے ہم نے وائرل ویڈیو کو غور سے دیکھا اور سنا۔لیکن ہمیں سیوائے میوزک کے کچھ سمجھ نہیں آیا۔پھر ہم نے ویڈیو سے اویسم اسکرین شارٹ لیا اور ریورس امیج سرچ کیا۔اس دوران ہمیں فیس بک کا ایک لنک ملا۔جہاں یہ لکھا ہوا تھا کہ نئے پاکستان میں بھی پولس نہ بدلی خواتین پر تشدد برت رہی ہے۔اس کےعلاوہ ٹویٹر اور فیس بک پر دیگر پوسٹ  ملے۔جو مندرجہ ذیل ہے۔

فیس بک اور ٹویٹر کے ذریعے ملی جانکاری سے صاف واضح ہوچکا ہے کہ یہ ویڈیو پاکستان کے پنجاب کا ہے۔پھر ہم نے یوٹیوب پر مزید کیورڈ سرچ کیا۔ تب ہمیں یہی ویڈیو یوٹیوب پر ملا۔جو اٹھائیس جون دوہزار انیس میں اپلوڈ کیاگیا ہے۔پھر ہم نے اس ویڈیو کو باریکی نگاہ سے دیکھا تو ہمیں پولس کے ڈریس پر پاکستانی فلیگ کا لوگو لگا ہوا ملا۔آپ ویڈیو اور اسکرین شارٹ مندرجہ ذیل میں دیکھ سکتے ہیں۔

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل ویڈیو یوپی کا نہیں ہے۔بلکہ پاکستان کےپنجاب کا ہے۔جہاں پنجاب پولس خواتین پر تشدد کررہی ہے۔

ٹولس کا استعمال

اویسم اسکرین شارٹ

گوگل ریورس امیج سرچ

فیس بک ، ٹویٹر سرچ

کیورڈ سرچ

یوٹیوب سرچ

نتائج:گمراہ کن

 

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویزکے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔۔

 WhatsApp -:9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular