جمعہ, جولائی 23, 2021
جمعہ, جولائی 23, 2021
HomeFact Checksکیا ایٹاوا کی ایک مندر میں دانش نام کے مزدور کو تشدد...

کیا ایٹاوا کی ایک مندر میں دانش نام کے مزدور کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا؟

فیس بک پر ایک تصویر خوب گردش کررہی ہے۔ یوزر کا دعویٰ ہے کی اترپردیش کے ایٹاوا کی ایک مندر میں مزدوری کا کام کررہے محمد دانش کو لوہے کے راڈ سے باندھ کر پیٹا گیا ہے۔

مندر میں محمددانش کی پٹائی کا وائرل پوسٹ
مندر میں محمددانش کی پٹائی کا وائرل پوسٹ

محمد سعد نامی یوزر نے ایک تصویر شیئر کی ہے۔ جس میں ایک شخص کے سر میں پٹی بندھی ہے۔ یوزر کا دعویٰ ہے کہ یوپی کے ایٹاوا کے ایک مندر میں مزدوری کا کام کررہے محمد دانش کو زدوکوب کیا گیا۔ اس پوسٹ کو ہمارے آرٹیکل لکھنے تک 2900 یوزرس شیئر اور 5800 یوزرس لائکس کر چکے تھے۔ بتادوں کہ اس طرح کے پوسٹ کو پہلے بھی نیوزچیکر کی ٹیم ڈیبنک کرچکی ہے۔

ہم نے جب وائرل تصویر کے حوالے سے کراؤڈٹینگل پر ڈیٹا سرچ کیا توہمیں پتا چا کہ پچھلے 7 دنوں میں اس موضوع پر 12,205 یوزرس تبادلہ خیال کرچکے ہیں۔ درج ذیل میں کراؤڈ ٹینگل کا اسکرین ویڈیو موجود ہے۔

کراؤڈٹینگل پر محمد دانش کے حوالے سے ملے ڈیٹا کا ویڈیو

ٹویٹر پر بھی اس تصویر کو مذکورہ دعوے کے ساتھ کئی یوزر نے شیئر کیا ہے۔ جسے آپ درج ذیل میں یک بعد دیگرے دیکھ سکتے ہیں۔

آرکائیو لنک

Fact check / Verification

بھارت میں مسلمانوں کو گائے، بچہ چوری ، گاڑی چوری وغیرہ کے الزامات میں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی اس سے متعلق فرضی اور گمراہ کن دعوے کے ساتھ پرانی تصاویر اور ویڈیو مسلمانوں سے جوڑ کر شیئر کئے جاتے ہیں۔ بتادوں کہ یہ سلسلہ دونوں قوموں کی جانب سے جاری ہے۔

جس تصویر کو ایٹاوا کی مندر میں محمد دانش کی پٹائی کا بتایا جا رہا ہے۔ اس کی سچائی جاننے کےلیے ہم نے سب سے پہلے تصویر کو گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں اسکرین پر وائرل تصویر سے متعلق کئی میڈیا رپورٹس ملیں۔ جو ایک سال پرانی ہیں اور مختلف عنوان سے شائع کی گئی ہیں۔

محمد دانش کے نام سے وائرل تصویر  سے متعلق ملی جانکاری کا اسکرین شارٹ
محمد دانش کے نام سے وائرل تصویر سے متعلق ملی جانکاری کا اسکرین شارٹ

مذکورہ جانکاری سے پتاچلا کہ وائرل تصویر کا تعلق دہلی فسادات سے ہے۔ پھر ہم نے کچھ کیورڈ سرچ کیا۔ جہاں ہمیں دی گارجین اور دی انڈیا اوب زرور نامی نیوز ویب سائٹ پر 2020 کو ہوئی شائع خبروں میں وائرل تصویر ملی۔ رپورٹ کے مطابق سرمیں سفید پٹی باندھے ہوئے شخص کا نام محمد زبیر ہے۔ جسے دہلی فسادات کے دوران کچھ شرپسندوں نے بے رحمی سے مارا پیٹا تھا۔ جس میں زبیر کو سر میں گہری چوٹ آئی تھی۔ زبیر کی اس تصویر کو کلک کرنے کا کریڈٹ فوٹوگرافر دانش صدیقی کو دیا گیا ہے۔

دی گارجین پر ملی وائرل تصویر سے متعلق معلومات
دی گارجین پر ملی وائرل تصویر سے متعلق معلومات

دی گارجین کی رپورٹ سے پتاچلا کہ وائرل تصویر دہلی فسادات میں زخمی ہوئے محمد زبیر کی ہے۔ جسے دانش صدیقی نامی فوٹو گرافر نے کلک کیا تھا۔

پھر ہم نے زبیر کے حوالے سے مزید کیورڈ سرچ کیا۔ جہاں ہمیں بی بی سی اردو ، بھاسکر نیوز پر شائع مارچ 2020 کی رپورٹ ملیں۔ جس کے مطابق زبیر کو کچھ شرپسندوں نےدہلی کے بھجن پورا علاقے میں بری طرح مارا پیٹا اور ان سے جبراً جے شری رام کے نعرے بھی لگوائے تھے۔

بتادوں کہ مارچ 2020 کی ایک رپورٹ کے مطابق دہلی فسادات میں 42 جانیں تلف ہوئیں، ساڑھے 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے، 79 گھر پھونک دیئےگئے، 52؍ دکانیں نذر آتش کی گئیں،سیکڑوں خاندان تباہ و برباد ہوگئے تھے۔

سبھی تحقیقات سے واضح ہوچکا کہ وائرل تصویر دہلی فسادات میں زخمی ہوئے زبیر کی ہے ۔ پھر ہم نے دانش کے حوالے سے مزید کیورڈ سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں تیجس خبر نامی یوٹیوب چینل پر دانش کی مندر میں پٹائی سے متعلق ایک خبر ملی۔ جس کے مطابق ایٹاوا میں موجود مندر میں مزدوری کا کام کررہے دانش کو موبائل چوری کے الزام میں پہلے یرغمال بنایا گیا اور اس کے بعد اسے باندھ کر مارا پیٹا گیا۔ موقع پر پہنچی پولس نے دو ملزمین کو حراست میں لے لیا ہے۔

سرچ کے دوران ہمیں انڈین ایکسپریس پر بھی دانش کے حوالے سے خبر ملی۔ جسے آپ یہاں کلک کرکے پڑھ سکتے ہیں۔

دانش کے نام سے وائرل تصویر اور اصل دانش کی تصویر کو درج ذیل کی ایک تصویر سے واضح طور پر پہچانا جاسکتا ہے۔

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ جس تصویر کو دانش کا بتا کر شیئر کیا جا رہا ہے۔ وہ دراصل دہلی فسادات میں زخمی ہوئے محمد زبیر کی ہے۔ ہماری تحقیقات سے واضح ہوتا ہے کہ تصویر کے ساتھ کیا گیا دعویٰ صحیح ہے۔لیکن تصویر پرانی اور دوسرے شخص کی ہے۔


Result: Partly False


Our Source


theguardian:

TheIndiaobserver:

BBCUrdu:

Dainik bhaskar:

tejaskhabar:

Indianexpress:


نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular