ہفتہ, جولائی 24, 2021
ہفتہ, جولائی 24, 2021
HomeFact Checksکیا دی وائر نے امت شاہ کے بیٹے سے مانگی معافی؟

کیا دی وائر نے امت شاہ کے بیٹے سے مانگی معافی؟

امت شاہ اور دی وائر کے درمیان چل رہے کیس سے متعلق سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ خوب گردش کررہی ہے۔ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ وزیر داخلہ امت شاہ کے بیٹے پر جھوٹے الزام لگانے کے سبب دی وائر نے کیس ہارنے کے بعد سپریم کورٹ میں معافی نامہ پیش کیا ہے۔بی جے پی کے سابق رکن پارلیمنٹ ہری اوم پانڈے نے بھی اپنے آفیشل ٹویٹر ہینڈل سے مذکورہ دعوے والا پوسٹ شیئر کیا ہے۔

ہری اوم کے پوسٹ کا آرکائیو لنک

کراؤڈٹینگل پر ملے ڈیٹا کے مطابق پچھلے سات دنوں میں فیس بک پر 1,285یوزرس اس موضوع پر تبادلہ خیال کرچکے ہیں۔فیس بک پر گرو سے کہو ہم ہندو کے پوسٹ کوسب سے زیادہ شیئر اور لائک کیا گیا ہے۔درج ذیل میں اسکرین شارٹ موجود ہے۔

دی وائر کے حوالے سے کراؤڈ ٹینگل پر ملے ڈیٹاکا اسکرین شارٹ
دی وائر کے حوالے سے کراؤڈ ٹینگل پر ملے ڈیٹاکا اسکرین شارٹ

ٹویٹر پر بھی وائر کے حوالے سے متعد یوزرس نے پوسٹ شیئر کیا ہے۔ درج ذیل میں یک بعد دیگرے پوسٹ موجود ہیں۔

Fact Check/Verification

وائرل دعوے کا سچ جاننے کےلیے ہم نے گوگل پر کچھ کیورڈ سرچ کیا۔اس دوران ہمیں امت شاہ اور وائر کے درمیان چل رہے کیس سے متعلق کئی جانکاریاں ملیں۔ سرچ کے دوران ہمیں دی وائر کی ایک رپورٹ ملی۔ جو 9 اکتوبر2017 کو شائع کی گئی تھی۔

دی وائر نے اپنی اس رپورٹ میں دعوی کیا تھا کہ امت شاہ کے بیٹے جئےامت بھائی شاہ کی مالکانہ حق والی کمپنی کا سالانہ کاروبار امت شاہ کے بی جے پی کے صدر بننے کے بعد 16000 گنا بڑھا ہے۔

دی وائر پر ملی جانکاری کا اسکرین شارٹ
دی وائر پر ملی جانکاری کا اسکرین شارٹ

اس معاملے میں مزید جانکاری جٹانے کےلیے ہم نے گوگل پر ایک بار پھر سے کچھ کیورڈ سرچ کیا۔اس دوران ہمیں اے بی پی نیوز کی 9 اکتوبر 2017 کی ایک رپورٹ ملی۔جس کے مطابق دی وائر کی رپورٹ شائع ہونے کے بعد ہر طرف صرف اسی مسئلے پر چرچہ ہورہی تھی۔اپوزیشن اور سوشل میڈیا یوزرس لگاتار بی جے پی اور پی ایم مودی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے۔جس کے بعد وزیر ریل پیوش گوئل اور جے امت بھائی شاہ نے سامنے آکر ان سبھی دعوؤں کو غلط بتایا تھا۔جے شاہ نے دی وائر ویب سائٹ اور ایڈیٹر سمیت 7 افراد کے خلاف 100 کروڑ روپے کا ہتک عزت کا مقدمہ درج کرایا تھا۔

تحقیقات کے دوران ہمیں آج تک اور جن ستا کی رپورٹس ملیں۔ جو 28 اگست 2019 کو شائع کی گئی تھیں۔ ان رپورٹس کے مطابق جے شاہ کی عرضی کے خلاف دی وائر نے گجرات ہائی کورٹ کا رخ کیا تھا۔جس میں دی وائر نے عدالت سے جے شاہ کے ہتک عزت والے مقدمے پر روک لگانے کی اپیل کی تھی۔لیکن گجرات ہائی کورٹ نے ہتک عزت کے کیس پر روک لگانے سے منع کردیا تھا۔اس کے بعد دی وائر نے اپنی اسی عرضی کو سپریم کورٹ میں داخل کیا تھا۔جس کے بعد عدالت نے میڈیا کی سخت مذمت کی تھی۔

آج تک نیوز پر ملی دی وائر کے حوالے سے جانکاری

سرچ کے دوران ہمیں وائرل دعوے سے متعلق دی وائر کی صحافیہ روہنی سنگھ کا ایک ٹویٹ ملا۔ جس میں انہوں نے دی وائر کی جانب سے معافی مانگے کی سبھی خبروں کو فرضی بتایا ہے۔روہنی نے پشپیندر کلشریشٹھ نامی یوزر کے ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے کہ صحافت کے ساتھ ساتھ ثبوت اور سچائی کو بھی کوسوں دوڑ چھوڑ دیا ہے۔ٹرائل کورٹ میں ابھی سماعت شروع بھی نہیں ہوئی ہے اور آپ نے فیصلہ سنا دیا۔اب واہٹس ایپ یونیورسٹی کےذریعے بھکت منڈلی اس جھوٹ کو پھیلائے گی۔واہٹس ایپ کے ڈاؤن ہونے کے بعد سب سے برا اثر بھکت ایکوسسٹم پر پڑا ہے۔

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ دی وائر سے متعلق سوشل میڈیا پر کیا گیا دعویٰ فرضی ہے۔دی وائر کیس نہیں ہارا ہے اور نا ہی دی وائر کی طرف سے سپریم کورٹ میں معافی نامہ پیش کیا گیا ہے۔ وائر کی صحافیہ روہنی سنگھ کے مطابق اس معاملے کی سماعت ابھی تک سپریم کورٹ میں شروع بھی نہیں ہوئی ہے۔


Result: False


Our Sources


Janstta – https://www.jansatta.com/national/jaya-shah-defamation-case-supreme-court-allows-news-portal-the-wire-to-withdraw-plea-amit-shah-son/1132373/

Twitter – https://twitter.com/rohini_sgh/status/1373146527779098624

The Wire – http://thewirehindi.com/20817/amit-shah-jay-shah-narendra-modi-bjp/

Abp News – https://www.abplive.com/news/india/jai-amit-shah-filed-a-defamation-case-against-the-wire-and-seven-others-704323

Aajtak – https://www.aajtak.in/india/story/rohini-singh-trial-in-defamation-case-jay-shah-supreme-court-criminal-defamation-case-957161-2019-08-27


نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular