ہفتہ, دسمبر 3, 2022
ہفتہ, دسمبر 3, 2022

HomeFact Sheetsسی اے اے کو لےکر عوام کیوں ہورہی ہے گمراہ؟سچ جاننے کےلئے...

سی اے اے کو لےکر عوام کیوں ہورہی ہے گمراہ؟سچ جاننے کےلئے پڑھیے یہ رپورٹ

شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف ملک کا کونا کونا جھلس رہاہے۔اس ایکٹ کے خلاف لوگ دہلی سمیت دیگر ریاستوں میں احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں۔یونیورسٹیز کے طلباء و طالبات احتجاج کی وجہ سے پولیس کی بربریت کا شکار ہورہے ہیں۔ مظاہرے کی تصویر سے سوشل میڈیا،اخبار اور چینلس رنگا رنگ ہے۔وزیرداخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں صاف واضح کرچکے ہیں کہ شہریت ترمیمی ایکٹ ملک کی عوام کے حق میں ہے۔

کیا ہے شہریت ترمیمی ایکٹ؟

تیرہ دسمبر کو پارلیمنٹ نے جس بل کو قانون بنانےکے لئے  پاس کیا وہ آخر ہے کیا؟اسے جاننا بے حد ضروری ہے۔تاکہ کسی بھی ہندوستانی عوام کوغلط فہمی کا شکار نہ ہونا پڑے۔۔

 سٹیزن شپ امنڈمنٹ ایکٹ یعنی شہریت ترمیمی قانون کے مطابق بنگلہ دیش،پاکستان اور افغانستان سے آئے ہوئے ہندو،سکھ،عیسائی،بودھ ،جین اور پارسی بغیر کسی دستاویز کے بھارت کی شہریت حاصل کر سکتے ہیں۔وہیں ان سارے ممالک کے مہاجرین کے لئے گیارہ سال کی مدت کو گھٹا کر چھ سال کردیا گیا ہے۔

 نیشنل راجسٹر آف سٹیزن اورشہریت ترمیمی ایکٹ

وزیرداخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں این آر سی کو لے کر کہا تھا کہ این آر سی قومی سطح پر تشکیل دی جائے گی اور یہ کب سے نافذ کیاجائے گا اس کا ذکر نہیں کیاہے۔حال ہی میں آسام میں این آر سی  میں انیس لاکھ لوگ اپنی شہریت ثابت نہیں کر پائے ہیں۔جن میں سب سے زیادہ تعداد ہندؤں کی تھی۔واضح رہے کہ اس مسلئے پر سرکار اب تک سولہ سو کروڑ روپے خرچ کردیاہے۔

این آرسی کے لئے ۱۹۷۱ سے پہلے کےکونسی کاغذات جمع کرنے تھے؟

۱:۱۹۷۱کی ووٹر لسٹ میں خود کا یا ماں باپ کے نام کا ثبوت ہونا یا ۱۹۵۱ میں  یعنی تقسیم کے بعد بنے این آر سی میں ملا ماں باپ،دادا دی یا اس کے علاوہ کا کوڈ نمبر ہو۔

ساتھ ہی ،نیچے دیئے گئے دستاویزوں میں سے۱۹۷۱ سے پہلے کا ایک یا ایک سے زیادہ ثبوت ہو:

۱:شہریت سرٹیفکیٹ

۲:زمین کا دستاویز

۳:کرائے پردی گئی پروپرٹی کا ریکارڈ

۴:ریفیوزسرٹیفکیٹ

۵:۱۹۷۱کے پہلے کاپاسپورٹ

۶:۱۹۷۱کے پہلے کابینک ڈاکومنٹس

۷:۱۹۷۱کے پہلے کاایل آئی سی

۸:۱۹۷۱کے پہلے کا اسکول سرٹیفیکٹ

۹:شادی شدہ خاتون کے لئے سرکل آفیسر یا گرام پنچایت سچیو کا سرٹیفکٹ

واضح رہے کہ دستاویز آسامیوں کے لئے ہیں۔

آسام میں کیوں ہورہاہے سی اے اے کی مخالفت؟

۱۹۷۹میں آسام میں ضمنی انتخاب کے دوران پتا چلا کہ ووٹروں کی تعداد میں کافی اضافہ ہواہے۔لوگوں نے چھان بھین کی تو پتا چلاکہ یہ تعداد میں اضافہ اس لئے ہوا کیونکہ اس میں بہت سے بنگلہ دیشی مہاجروں کوشامل کیاگیاتھا۔آپ کو بتادیں کہ اس دوران ۱۹۷۹سے لےکر ۱۹۸۵ تک دوہزار سے زیادہ بنگلہ دیشی مہاجرین کا قتل بھی کردیا گیاتھا۔

آسام میں بڑھتی پریشانی کے بعد ۱۹۸۵میں اسوقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی نے آسام سمجھوتا کیاتھا۔جس کے مطابق ۲۵مارچ ۱۹۷۱کے بعد آسام میں آئے غیرملکیوں کی پہچان کرکے انہیں ملک سے نکالنا طے ہواتھا۔جبکہ دوسری ریاستوں سے آئے لوگوں کے لئے وقت کی حد۱۹۵۱مقرر کی گائی تھی۔

اب شہریت ترمیمی بل ۲۰۱۹ میں وقت کی ح اکتیس دسمبر دوہزار چودہ مقرر کیاگیا ہے۔جس پر آسامیوں کا کہنا ہے کہ شہریت ترمیمی ایکٹ سے این آرسی کا اثرختم نہ کیاجائے گا۔اس سے غیر قانونی طور پر رہ رہے مہاجرین کو شہریت مل جائے گی۔آسامی احتجاجیوں کو اس بات کا بھی ڈر ہے کہ قانون بدلنے کے بعد بنگلہ دیشی ہندؤں کو شہریت مل جائے گی۔جس کی وجہ سے ان کی تہذیب،زبان،ریتی رواجوں پر گہرا اثر پڑیگا۔

کن ریاستوں میں نافذ نہیں ہوگا سی اے اے؟

ہندوستانی آئین کے پیش نظر شمالی مشرقی ریاستوں کے کچھ علاقوں کو اس قانون سے(سی اے بی)الگ رکھا گیا ہے۔جن میں سے تین آسام،تین میگھالیہ،(شیلانگ کے ایک چھوٹے حصے کو چھوڑ کرتقریباً پورا میگھالہ)تین میجورم اورایک تریپورہ شامل ہے۔وہیں اروناچل پردیش،میجورم اورناگالینڈ کو اس قانون سے پوری طرح الگ رکھا گیاہے۔آپ کو بتادوں کہ ان تینوں ریاستوں می آئی ایل پی کا بندوبست ہے۔یہاں آنے والے چائے وہ کسی بھی ریاست سے ہو انہیں آئی ایل پی چاہیئے ہوتی ہےاور کسی کو ان ریاستوں میں بسنے کہ اجازت نہیں ہے۔

اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ ملک کے دیگر ریاستوں میں احتجاج کیوں ہورہاہے؟احتجاجیوں کا کہنا ہے کہ قانون آئین کے خلاف ہے۔کیونکہ اس کے تحت مذہب کےبناپرشہریت دی جارہی ہے۔سوال یہ بھی اٹھائے جارہے ہیں کہ پاکستان کے اقلیتی طبقہ احمدیہ اور بہائی ،سری لنکا کے ہندو اور بودھ کو اس میں شامل کیوں نہیں کیاگیا ہے۔سوال ہہ بھی اٹھائے جارہے کہ جو لوگ غیرقانونی طور پر ملک میں گھس آئے ہیں یا جو اپنی شہریت ثابت نہیں کر پاتے ہیں انہیں رکھا کہاں جائےگا۔

ذرائع

اےاین آئی

ٹائمس آف انڈیا

پارلیمنٹ پروسیڈنگ

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویزکے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔۔

WhatsApp: 9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular