ہفتہ, ستمبر 25, 2021
ہفتہ, ستمبر 25, 2021
HomeUncategorized @urWeekly Wrap:پانچ منٹ میں ہفتے کی 3 اہم تحقیقات پڑھیں

Weekly Wrap:پانچ منٹ میں ہفتے کی 3 اہم تحقیقات پڑھیں

ہفتہ واری خبر میں آج ہم 3 ایسے وائرل دعوے کی حقائق کو سامنے رکھیں گے ۔جو اس ہفتے سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوا تھا۔ درج ذیل میں یک بعد دیگرے اسٹوری ملاحظہ فرمائیں۔

کیا وائرل ویڈیو سعودی عرب میں کرونا دور میں ہوئے شراب خانے کے افتتاح کی ہے؟

سوشل میڈیا پر 54 سیکینڈ کا ایک ویڈیو خوب شیئر کیا گیا۔ جس میں عربی لباس میں کچھ مرد خواتین کے ساتھ سیلفی لیتے ہوئے نظر آرہے تھے۔ یوزرس کا دعویٰ تھا کہ سعودی عرب میں شراب خانے کے افتتاح کے موقع پر شہزادے محمد بن سلمان اور محمد بن زاید خواتین کے ساتھ موج مستی کر رہے ہیں۔ لیکن انہیں کرونا وباء کا کوئی خطرہ محسوس نہیں ہو رہا ہے۔ یہ شہزادے یہودیوں کے کہنے پر حج اور عمرہ پر بندش لگائے ہوئے ہیں، کرونا صرف ایک بہانہ ہے۔ جبکہ سچائی یہ تھا کہ وائرل ویڈیو کے ساتھ کیاگیا دعویٰ گمراہ کن ہے۔ یہ ویڈیو کم از کم 3 سال پرانی ہے۔ اس ویڈیو کا کرونا دور سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سعودی شہزادہ محمد بن سلمان اور محمد بن زاید والا وائرل ویڈیو یاچ پارٹی کا ہے۔

یہاں پڑھیں پوری پڑتال۔۔۔۔

پاکستانی میں افغانستانی سفیر کی بیٹی کے نام پر ٹک ٹاک انفلوئینسر کی تصویر فرضی دعوے کے ساتھ ہوا وائرل

اس ہفتے ایک خاتون کی تصویر سوشل میڈیا پر خوب شیئر کیا گیا۔ اس تصویر سے متعلق یوزرس کا دعوی ہے کہ پاکستان کے اسلام آباد میں افغانستان کے سفیر نجیب اللہ کی بیٹی اغوا اور تشدد کے بعد رہا کردی گئی ہے۔ جبکہ تحقیقات سے پتا چلا کہ واائرل تصویر میں نظر آ رہی لڑکی، حال ہی میں اغوا ہونے کے بعد واپس اپنے گھر پہنچی افغانستانی سفیر کی بیٹی نہیں بلکہ پاکستان کی ایک خواجہ سرا ایکٹیویسٹ اور معروف ٹک ٹاک انفلویئنسر گل چاہت ہیں۔

پوری تحقیقات یہاں پڑھیں۔۔۔۔

کیا وائرل تصویر میں نظر آرہی قمیض مبارک حضور پاکﷺ کی ہے؟

اس ہفتے کچھ صارفین کا دعویٰ ہے کہ یہ کرتا حضرت محمد ﷺ کا ہے۔ تصویر پر عربی زبان میں “ثوب الرسول من انت لتتکبر” لکھا ہوا ہے۔ لیکن تحقیقات سے پتا چلا کہ  وائرل تصویر میں نظر آرہی قمیض حضور پاکﷺ کی نہیں ہے، بلکہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کی ہے۔ جسے ترکی کے استنبول کے توپکپی پیلیس میوزیم میں نمائش کے لئے رکھا گیا ہے۔

پوری پڑتال یہاں پڑھیں۔۔۔۔

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular