جمعہ, اکتوبر 7, 2022
جمعہ, اکتوبر 7, 2022

HomeUrduبچی کی پٹائی کا وائرل ویڈیو جموں کشمیر کے کٹھوعہ کا ہے؟...

بچی کی پٹائی کا وائرل ویڈیو جموں کشمیر کے کٹھوعہ کا ہے؟ پڑھیئے ہماری تحقیق

Claim

WARNING – Child Physical Abuse Cruel Pakistani mother inflicts severe beating on her daughter. This is the fate of countless children in a practice seen as normative among most Punjabi families.

ترجمہ

ہوشیار۔۔۔۔ بچوں کے ساتھ جسمانی بدسلوکی کی شدید ظالمانہ حرکت، پاکستانی والدہ اپنی بیٹی کی بے رحمی سے پٹائی کررہی ہے۔ بیشتر پنجابی خاندانوں میں یہ ان گنت بچوں کی قسمت ہے جسے عام خیال کیا جاتا ہے۔ 

ہماری تحقیق

سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک ویڈیو خوب گردش کررہا ہے۔ویڈیو میں ایک خاتون معصوم بچی کو مارتے پیٹتے ہوئے نظر آرہی ہے۔ویڈیو پوسٹ کرنے والے یوزر طارق فتح کا دعویٰ ہے کہ ویڈیو پاکستان کے کسی پنجابی خاندان کا ہے۔جہاں ماں اپنی بیٹی کو وحشیانہ انداز میں مار پیٹ رہی ہے۔

وائرل ویڈیو اور پوسٹ کو پڑھنے کے بعد ہم نے سب سے پہلے اویسم اسکریش شارٹ لیا۔پھر اسے گوگل ریورس سرچ کیا۔اس دوران ہمیں ویڈیو کے تعلق سے کئی جانکاری ملی۔

ان تحقیقات کے باوجود ہم نے کچھ کیورڈ س کی مدد سے فیس بک اور ٹویٹر سرچ کیا۔ جہاں ہمیں وائرل ویڈیو کے بارے میں پتا چلا کہ یہ جموں کشمیر کے کٹھوعہ کا ہے۔

فیس بک پر ملی جانکاری سے ہم نے جموں کشمیر کی خبروں کو کھنگالنا شروع کیا۔جہاں ہمیں یوٹیوب کے ون انڈیا  چینل پر وائرل ویڈیو ملا۔

ون انڈیا کے مطابق وائرل ویڈیو جموں کشمیر کے کٹھوعہ کا ہے۔ جس میں ماں اپنی بیٹی کو بے رحمی سے پیٹ رہی ہےاور بیٹی خود کوبچانے کے لئےوالد کو پکار رہی ہےاور بچی کے والد وہیں چھپ کر پٹائی کا ویڈیو بنارہاہے۔

ون انڈیا کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو جانکاری چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کی جانب سے پولیس میں شکایت درج کروادی گئی ہے۔

اپنے ریسرچ کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم نے مزید یوٹیوب سرچ کیا۔اس دوران ہمیں نیوزایٹین کی ویب ساٹ پروائرل ویڈیو سے جڑی ایک خبر ملی۔جہاں اس واقعے کے بارے میں تفصیل سے جانکاری دی گئی ہے۔

نیوز چیکر کی تحقیق میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ ویڈیو پاکستان کا نہیں بلکہ  جموں کشمیر کے کٹھوعہ کا ہے۔

ٹولس کا استعمال

گوگل سرچ

اویسم اسکرین سرچ

یوٹیوب سرچ

نتائج:گمراہ کُن

 نوٹ:کسی بھی مشتبہ برکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے ای میل پر ارسال کریں[email protected]

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular