Tuesday, April 15, 2025

Uncategorized @ur

جھارکھنڈ پولیس کا برسوں پرانا ماک ڈریل کے ویڈیو کوغلط دعوے کے ساتھ کیاجارہاہے وائرل؟پڑھیئے ہماری پڑتال

Written By Mohammed Zakariya
Nov 23, 2019
image

دعویٰ

ہندوستانی فوج کشمیریوں پر فائرن کررہی ہے۔لیکن دنیا اس سے بے خبر ہے۔

تصدیق

ان دنوں ٹویٹر پر ایک ویڈیو وائرل ہورہا ہے۔جس میں سڑک پر احجاج کررہے کچھ لوگوں پر پولیس والے بندوق سے گولی چلا تے ہوئے نظر آرہی ہے۔پولس کی جانب سے کی جارہی فائرنگ کے دوران احتجاج کررہے لوگوں میں سے دو لوگ زمین پر اچانک گرپڑتے ہیں۔ٹویٹ میں دعویٰ کیاجارہاہے کہ ہندوستانی آرمی کشمیر کے عام لوگوں پرآج بھی ظلم و ستم کررہی ہے۔لیکن دنیا کو اس بارے ذرابھی خبر نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔بچی کی پٹائی کاوائرل ویڈیوجموں کشمیر کے کٹھوعہ کا ہے؟

ٹویٹ کئے گئے دعوے کے مطابق ہم نے سوچا کیوں نہ اس ویڈیو کو باریکی سے دیکھا جائے۔پھر ہم نے پورے ویڈیوکوباز کی نگاہ سے دیکھا۔اس دوران ہمیں پتا چلا کہ کچھ لوگ اپنے مطالبات کو لے کربیچ سڑک پر احتجاج کررہے ہیں اور وہاں تین پولیس والے موجود ہیں۔جن میں دو فائرنگ کررہے ہیں۔جس کے بعد دو احتجاجی وہاں اچانک گر پڑتے ہیں۔تبھی اس کے سامنے پٹاخا پھوڑا جاتا ہے۔۔تھوڑی دیر بعد وہاں کچھ لوگ اسٹیچرلےکرآتے ہیں۔پھر انہیں اس پر رکھ کر لے جاتے ہیں۔دوسری جانب وہاں ایمبولنس آتی ہے۔لیکن ان سب کے باوجود وہاں موجود بھیڑ ذرا بھی اپنی جگہ سے حرکت نہیں کرتی۔تبھی کیمرے کے پیچھے سے ایک آواز آتی ہے کہ پولس نے اچھا مظاہرہ کیا۔۔جھارکھنڈ پولیس کسی بھی حالات کا سامنا کرنے کےلئے تیار ہے۔

اس کو بھی پڑتال پڑھیں۔۔۔مہاراشٹرحکومت سازی:مولانا ارشد مدنی نے سونیا گاندھی کو نہیں لکھا خط؟

اس ویڈیوکو باریکی سے دیکھنے کے بعد ہم نے اپنی شروعاتی تحقیق میں ویڈیو کا اسکرین شارٹ لےکر ریورس سرچ کیا۔جہاں ہمیں اس تعلق سے کئی نتائج ملے۔

اپنی پڑتال کو جاری رکھتے ہوئے ہم نے یوٹیوب سرچ کیا۔اس دوران ہمیں دوسال پرانا ویڈیو ملا۔ویڈیو کے کیپپشن میں لکھا ہے کہ یہ ویڈیو جھارکھنڈ کے کھنٹی پولیس کے ماک ڈریل کا ہے۔

  نیوز چیکر کی تحقیق میں ثابت ہوتا ہے کہ یہ ویڈیو کشمیر کا نہیں بلکہ جھارکھنڈ کے کھنٹی کا ہے۔جوکہ دوسال پہلے اپلوڈ کیاگیا ہے ۔جسےجھارکھنڈ پولیس کا ماک ڈریل بتایاجارہا ہے۔ واضح رہے کہ یہ ویڈیو کبھی کسان آندولن تو کبھی طلباء کے آندولن کے نام پرشیئر کیاگیاہے۔

 

ٹولس کا استعمال

گوگل ریورس سرچ

ٹویٹرایڈوانس سرچ

یوٹیوب سرچ

یَن ڈیکس

نتائج:غلط خبر(گمراہ کن)

 

 

نوٹ:۔ اگرآپ ہمارے ریسرچ پراتفاق نہیں رکھتے ہیں یا آپ کے پاس ایسی کوئی جانکاری ہے جس پر آپ کو شک ہےتو آپ ہمیں نیچے دیئے گئے ای میل آڈی پر بھیج سکتے ہیں۔

checkthis@newschecker.in

 

image
اگر آپ کسی دعوے کی جانچ کرنا چاہتے ہیں، رائے دینا چاہتے ہیں یا شکایت درج کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں واٹس ایپ کریں +91-9999499044 یا ہمیں ای میل کریں checkthis@newschecker.in​. آپ بھی ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں اور فارم بھر سکتے ہیں۔
Newchecker footer logo
Newchecker footer logo
Newchecker footer logo
Newchecker footer logo
About Us

Newchecker.in is an independent fact-checking initiative of NC Media Networks Pvt. Ltd. We welcome our readers to send us claims to fact check. If you believe a story or statement deserves a fact check, or an error has been made with a published fact check

Contact Us: checkthis@newschecker.in

17,795

Fact checks done

FOLLOW US
imageimageimageimageimageimageimage
cookie

ہماری ویب سائٹ کوکیز استعمال کرتی ہے

ہم کوکیز اور مماثل تکنیکوں کا استعمال کرتے ہیں تاکہ مواد کو شخصی بنایا جا سکے، اشتہار کو ترتیب دی جا سکے، اور بہتر تجربہ فراہم کیا جا سکے۔ 'ٹھیک ہے' پر کلک کرکے یا کوکی ترجیحات میں ایک اختیار کو آن کرنے سے، آپ اس پر متفق ہوتے ہیں، جیسا کہ ہماری کوکی پالیسی میں وضاحت کے طور پر ہوا ہے۔