پیر, اکتوبر 25, 2021
پیر, اکتوبر 25, 2021
HomeUrduبہار محکمہ صحت نے پالٹری مرغی میں کروناوائرس کی تصدیق کی ہے؟وائرل...

بہار محکمہ صحت نے پالٹری مرغی میں کروناوائرس کی تصدیق کی ہے؟وائرل دعوے کا پڑھیئے سچ

دعویٰ

بہار محکمہ صحت نے پالٹری مرغی کی جانچ کے بعد اس میں کروناوائرس پائے جانے کی تصدیق کی ہے۔

تصدیق

مہلک وباء کروناوائرس کی وجہ سے دنیابھر کے لوگ پریشان حال ہیں۔ڈبلو ایچ او کے مطابق اب تک اس وباء کی وجہ سے پوری دنیا میں ایک لاکھ تئیس ہزار ایک سو چبھیس افراد کی اموات ہوچکی ہیں۔جبکہ محض ہندوستان میں بارہ ہزار سے زائد افراد اس مرض میں مبتلا ہیں۔سیکڑوں لوگ جاں بحق ہوچکے ہیں۔وہیں ان دنوں سوشل میڈیا پر پالٹری مرغی کے حوالے سے دینک جاگرن اخبار کی کٹنگ وائرل ہورہی ہے۔جس میں لکھا ہے کہ بہار محکمہ صحت نے یہ تصدیق کی ہے کہ پالٹری مرغی میں کروناوائرل کے اثرات پائے گئے ہیں۔محکمہ صحت کی ٹیم نے جگہ جگہ مرغیوں کا سیمپل لے کر جانچ کے بعد یہ اطلاع دی ہے کہ مرغی میں کروناوائرس پایا گیا ہے۔اسلئے لوگ یہ مرغی نہ کھائیں۔وائرل خبر کے سلسلے میں ہمارے قاری ڈاکٹرمحمد اظہرالدین نے جو فرینچ زبان کے ایکسپرٹ ہیں۔انہوں نے اس خبر کی سچائی جاننے کی التجاء کی۔جس کے بعد ہماری ٹیم نے اس پر کام کرنا شروع کیا۔

ہماری کھوج

بہارمحکمہ کے حوالے سے وائرل خبر کو پڑھا تو اس میں جملے کی ساخت بے مطلب نظر آئی۔لیکن اس کے باوجود ہم نے اپنی تحقیقات شروع کی۔سب سے پہلے ہم نے وائرل خبر کے عنوان کو گوگل کیورڈ سرچ کیا۔جہاں ہمیں آج تک نیوز ویب سائٹ پر انیس مارچ دوہزار بیس کی ایک خبر ملی۔جس کے مطابق بہار میں چکن میں کرونا سے متعلق افواہ کی وجہ سے پالٹری کاروبار پر گہرا اثر پڑا ہے۔

آج تک نیوز سے یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا بہار محکمہ صحت نے پالٹری مرغی میں کروناوائرس کی تصدیق کی ہے یا نہیں۔پھر ہم نے ڈبلو ایچ او کے ویب سائٹ کو کھنگالا۔جہاں ہمیں اس حوالے سے کچھ بھی نہیں ملا۔لیکن سرچ کے دوران پالٹری اویرنیس ڈاٹ کام پر چکن کے حوالے سے جانکاری ملی کہ کروناوائرس والی باتیں افواہ ہیں۔چکن میں کروناوائرس نہیں پایا گیا ہے۔حالانکہ اس حوالے سے وائرل ہوئی خبروں پر نیوزچیکر پہلے بھی فیکٹ چیک کرچکا ہے۔

ان سبھی تحقیقات سے تسلی نہیں ملی تو ہم نے بہارمویشی و ماہی گیروسائل ڈیپارمنٹ کے ویب سائٹ کو کھنگالا۔لیکن یہاں بھی ہمیں اس حوالے سے کچھ بھی اطمینان بخش جانکاری فراہم نہیں ہوئی۔البتہ ویب سائٹ پر ٹول فری نمبر (18003456185)ملا۔جس پر ہم نے کال کیا تو سنجیو کمار نامی ملازم نے فون اٹھایا۔پھر ہم نے ان سے وائرل خبر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے صاف طور پر وائرل خبر کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ بہار سرکار اور مویشی ڈیپارمنٹ کے درمیان میٹنگ کے بعد یہ اعلان کیاجا چکا ہے کہ پالٹری چکن،بکرے کا گوشت اور مچھلی کھانے سے کروناوائرس نہیں ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بہار میں ان سبھی جانوروں کے گوشت کے خرید و فروخت کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔

سنجیو کمارکی باتوں پر ذرا اندیشہ ہوا تو ہم نے گوگل پر  اس حوالے سے میڈیا رپورٹ تلاشنا شروع کیا۔جہاں ہمیں این بی ٹی اور نیوزایٹین بہار پر شائع خبریں ملیں۔جس کے مطابق بہار سرکار نے لاک ڈان کے دوران گوشت،مچھلی اور انڈے کی دوکانیں کھولنے کا حکم دیا ہے۔ساتھ ہی کسانوں کو بھی کھیت میں لگی فصل کاٹنے کی اجازت دی ہے۔

نیوزچیکر کی تحقیق میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ پالٹری مرغی میں کروناوائرس کی تصدیق والی خبر فرضی ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میڈیا رپوٹ کا حوالہ دے کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔بہارسرکار نے گوشت،مچھلی اور انڈے کی دوکانیں کھولنے کا حکم دیا ہے۔

ٹولس کا استعمال

گوگل کیورڈ سرچ

میڈیارپورٹ

فون کال ویری فیکیشن

نتائج:فرضی خبر

نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویزکے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے  نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔۔

 9999499044

Rajneil Kamath
Rajneil began his career in Google with Adwords Content Operations, moved to sales and then to Public Policy and Government Affairs. During his tenure at Google, he got a first-person view of content policy, community guidelines, product policy, and other public policy issues. Post his stint at Google, he founded a technology company before establishing Newschecker. He calls himself a product of the internet and mobile era and is determined to combat disinformation online. He looks after the day to day affairs and management of the organisation and does not participate in the editorial decisions of Newschecker.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular