منگل, دسمبر 7, 2021
منگل, دسمبر 7, 2021
HomeUrduحماس کی جانب سے اسرائیل پر داغے گئے راکٹ کا نہیں ہے...

حماس کی جانب سے اسرائیل پر داغے گئے راکٹ کا نہیں ہے یہ ویڈیو

سوشل میڈیا پر 10 سیکینڈ کے ایک ویڈیو کے ساتھ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی کیمیکل فیکٹری پر حماس کی طرف سے راکٹ داغے گئے ہیں۔

حماس کی جانب سے اسرائیل پر داغے گئے راکٹ کے حوالے سے وائرل پوسٹ کا اسکرین شارٹ
حماس کی جانب سے اسرائیل پر داغے گئے راکٹ کے حوالے سے وائرل پوسٹ کا اسکرین شارٹ

حماس کی جانب سے اسرائیل پر داغے گئے راکٹ کے حوالے سے کیا ہے وائرل پوسٹ؟

ان دنوں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ جاری ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں۔ اسی بیچ سوشل میڈیا پر بھی جنگ سے جوڑ کر طرح طرح کے پوسٹ شیئر کئے جا رہے ہیں۔ حال کے دنوں میں دس سیکینڈ کا ایک ویڈیو فیس بک اور ٹویٹر پر شیئر کیا جا رہا ہے۔ یوزرس کا دعویٰ ہے کہ یہ ویڈیو اسرائیل کا ہے۔ جہاں حماس نے اسرائیلی کیمیکل فیکٹری پر راکٹ سے حملہ کر دیا ہے۔ وائرل پوسٹ کے آرکائیو لنک درج ذیل میں دیکھ سکتے ہیں۔

حماس کی جانب سے اسرائیل پر داغے گئے راکٹ کے حوالے سے وائرل پوسٹ کا اسکرین شارٹ
حماس کی جانب سے اسرائیل پر داغے گئے راکٹ کے حوالے سے وائرل پوسٹ کا اسکرین شارٹ

وائرل پوسٹ کے آرکائیو لنک یہاں، یہاں اور یہاں دیکھیں۔

اسرائیل میں کیمیکل فیکٹری پر ہوئے دھماکے سے متعلق ہم نے جب کراؤڈ ٹینگل پر کیورڈ سرچ کیا تو پتا چلا کہ اس موضوع پر پچھلے 3 دنوں میں فیس بک پر 231 یوزرس تبادلہ خیال کرچکے ہیں۔

Fact Check / Verification

وائرل ویڈیو کی سچائی جاننے کے لئے ہم نے اپنی ابتدائی تحقیقات شروع کی۔ سب سے پہلے ہم نے ویڈیو کو انوڈ کی مدد سے کیفریم میں تقسیم کیا۔ پھر ہم نے کیفریم کو ریورس امیج سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں گوگل اسکرین پر مرین آرکیٹیکچر لکھا ہوا نظر آیا اور وائرل ویڈیو سے متعلق کچھ پرانے لنک فرائم ہوئے۔

حماس کی جانب سے اسرائیل پر داغے گئے راکٹ کے حوالے سے گوگل ریورس امیج سرچ کا اسکرین شارٹ

پھر ہم نے کیفریم کو ین ڈیکس اور ٹین آئی ویب سائٹ پر سرچ کیا۔ جہاں ہمیں پتا چلا کہ اس ویڈیو کو پچھلے کئی سالوں سے مختلف ممالک کا بتا کر شیئر کیا جا رہا ہے۔ لیکن حماس کی جانب سے اسرائیلی کیمیکل فیکٹری پر حملے کا کسی بھی ویب سائٹ پر ذکر نہیں ملا۔

اس دوران ہم نے کچھ کیورڈ سرچ کیا۔ جہاں ہمیں وائرل ویڈیو سے ملتی جلتی تصویروں کے ساتھ دس فروری 2017 کی سیکورٹی میڈیا ڈاٹ آر یو اور کورر ڈاٹ آر ایس نامی ویب سایٹ پر غیرملکی زبان میں شائع شدہ خبریں ملیں۔ رپورٹس کو جب ہم نے گوگل ٹرانسلیٹ کیا تو پتا چلا کہ “سیکورٹی میڈیا ڈاٹ آر یو ایس کی رپورٹ کے مطابق فرانس کے نیوکلئیر پاور پلانٹ کے تیسرے یونٹ کی سائٹ پر شارٹ سرکٹ ہوا تھا۔ جس کے بعد یہ ویڈیو انٹرنیٹ پر بھی شیئر کیا گیا تھا“۔ کورر ڈاٹ آر ایس نے بھی ویڈیو کو فرانس کے پاور پلانٹ میں ہوئی آتشزدگی کا بتایا ہے۔

مذکورہ خبروں سے واضح ہو چکا کہ وائرل ویڈیو حال کے دنوں کا نہیں ہے اور نا ہی حماس کی جانب سے اسرائیل پر داغے گئے راکٹ کا ہے۔ تب ہم نے اس سلسلے میں یوٹیوب پر کچھ کیورڈ سرچ کیا۔ جہاں ہمیں احمد طربان نامی یوٹیوب چینل پر 55 سیکینڈ کا وائرل ویڈیو ملا۔ جسے 18 نومبر 2015 کو اپلوڈ کیا گیا تھا۔جس کے ساتھ دی گئی جانکاری کے مطابق یہ ویڈیو چین کے گیس پلانٹ میں ہوئے دھماکے کا ہے۔ لیکن کچھ لوگ اسے کمنٹ میں فلم شوٹ کا بتا رہے۔

حماس کی جانب سے اسرائیل پر داغے گئے راکٹ کا ویڈیو نہیں ہے

مزید سرچ کے دوران ہمیں عربی ویب سائٹ النہار اور انگلش ویب سائٹ دی اسٹریٹس ٹائمس پر شائع فیکٹ چیک ملے۔ جس کے مطابق یہ ویڈیو کہاں اور کس ملک کا ہے، یہ واضح نہیں ہے۔ حالانکہ 18 نومبر 2015 کو اپلوڈ شدہ کئی ویڈیو یوٹیوب پر ملے۔ جس کا کیپشن چینی زبان میں تھا۔ جس کا ترجمہ ہے “چین کے کیمکل فیکٹری میں دھماکے کا ویڈیو “۔

Conclusion

نیوز چیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیلی کیمیکل فیکٹری میں حماس کی جانب سے راکٹ حملے کے نام سے وائرل ویڈیو کم از کم 6 سال پرانا ہے اور اس ویڈیو کو پہلے بھی مختلف ممالک کا بتایا جا چکا ہے۔ البتہ یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ ویڈیو حماس کی طرف سے کئے گئے حملے کا نہیں ہے۔

Result: False

Our Source

Reverse image search

yandex image search

Tineye image search

kurir.rs

securitymedia

Youtube

Annahar

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow
Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular