اتوار, مئی 26, 2024
اتوار, مئی 26, 2024

ہومFact CheckFact Check: کیا آسٹریلیا کے ساحل پر ملا چندریان 3 کا ٹکڑا؟...

Fact Check: کیا آسٹریلیا کے ساحل پر ملا چندریان 3 کا ٹکڑا؟ پورا سچ یہاں پڑھیں

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Claim
چندریان 3 چاند کے بجائے آسٹریلیا جا پہنچا ہے۔
Fact
تصویر میں نظر آ رہا گیجٹ چندریان 3 کا ٹکڑا نہیں ہے، آسٹریلین سائنسدانوں کے مطابق یہ کسی پرانے پی ایس ایل وی کا فیول ٹینک ہے۔

رواں ماہ کی 14 تاریخ کو دوپہر کے 2 بج کر 35 منٹ پر آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا کے خلائی مرکز سے چندریان 3 کو خلائی سفر کے لئے کامیابی کے ساتھ روانہ کیا گیا۔ وہیں آسٹریلیا کے ساحل سمندر پر ایک مشتبہ گنبد نما سلنڈر ملا ہے۔ جس کے بعد سے پاکستان کے فیس بک، ٹویٹر اور اردو میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ آسٹریلیا کے ساحل پر چندریان 3 کا ٹکڑا ملا ہے۔

آسٹریلیا کے ساحل پر چندریان 3 کا ٹکڑا نہیں ملا ہے۔

فیس بک پر ایک صارف نے تصویر کے ساتھ کیپشن میں لکھا ہے کہ “چندریان 3 ’چاند‘ کے بجائے آسٹریلیا جا پہنچا، مغربی آسٹریلیا کے ساحل سمندر پر ایک پراسرار گنبد نما سلنڈر اچانک نمودار ہونے پر خوف کے ساتھ قیاس آرائیاں بڑھ گئیں اور لوگوں کی بڑی تعداد اسے بھارت کی جانب سے چاند پر بھیجے گئے سیٹلائٹ چندریان 3 قرار دے رہے ہیں”۔

Fact Check/ Verification

وائرل تصویر اور اس کے ساتھ کئے گئے دعوے کی حقیقت جاننے کے لئے سب سے پہلے ہم نے کچھ کیورڈ سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں نیوز ڈاٹ کام ڈاٹ اےیو پر وائرل تصویر کے حوالے سے شائع ایک رپورٹ ملی۔ جس کے مطابق بروز اتوار بتاریخ 16 جولائی کو آسٹریلیا کے گرین ہیڈ کے ساحل پر ایک 2 میٹر لمبا دھات کا سلنڈر ملا تھا۔ شروعاتی جانچ میں اسے گمشدہ جہاز ایم ایچ370 کا حصہ مانا جا رہا تھا، لیکن بعد میں اس اندازے کو نکار دیا گیا۔

مذکورہ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ پولر سیٹیلائٹ لانچ وہیکل راکٹ کا ایک حصہ ہو سکتا ہے۔ اس بات کی حمایت فلنڈرس یونیورسٹی کے خلائی آثار قدیمہ کے شعبے کی ماہر ڈاکٹر ایلس گورمن نے بھی کی ہے۔ انہوں نے نیوز ڈاٹ کام ڈاٹ اےیو سے گفتگو میں بتایا کہ یہ بھارتی پی ایس ایل وی کی تیسری پیڑھی کا فیول ٹینک ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب راکٹ کو لانچ کیا جاتا ہے تو فیول ٹینک اس سے الگ ہو جاتا ہے اور سمندر میں گر جاتا ہے۔ ڈاکٹر ایلس کے مطابق یہ فیول ٹینک 2010 کے شروعاتی دور میں لانچ کئے گئے کسی پی ایس ایل وی راکٹ کا حصہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اس رپورٹ میں کہیں بھی چندریان 3 کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔


بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرو کے چیف ایس سومناتھ نے بی بی سی کو بتایا کہ وائرل تصویر میں نظر آنے والا گیجٹ کسی راکٹ کا حصہ ہے۔ لیکن وہ بھارتی ہے یا نہیں یہ ابھی نہیں کہا جا سکتا ہے، جب تک کہ اس کی پختہ تحقیقات نہ کرلی جائے۔

مزید سرچ کے دوران ہمیں آسٹریلیا اسپیس ایجنسی کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر وائرل تصویر سے متعلق 19 جولائی 2023 کو شیئر شدہ اپڈیٹ پوسٹ ملا۔ جس میں وائرل گیجٹ کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ ایک سولڈ راکٹ موٹر کیسنگ ہے۔ اس گیجٹ کے بارے میں مزید تحقیقات کی جا رہی ہے۔ بتادوں کہ اس ٹویٹ میں بھی چندریان 3 کا ذکر نہیں ہے۔

اس کے علاوہ ہم نے اسرو کے آفیشل سوشل میڈیا ہینڈلس کو کھنگالا۔ جہاں ہمیں چندریان 3 سے متعلق کئی پوسٹ ملے، جس میں اس مشن کو اب تک کامیاب بتایا گیا ہے۔چندریان 3 چاند کے راستے میں تیسرا پڑاؤ پار کرچکا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق چندریان 3 چالیس دنوں کے سفر کے بعد چاند کی سطح پر پہنچ جائے گا۔

Conclusion

لہٰذا ہماری تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ تصویر میں نظر آ رہا گیجٹ چندریان 3 کا ٹکڑا نہیں ہے بلکہ آسٹریلین سائنسدانوں کے مطابق یہ کسی پرانے پی ایس ایل وی کا فیول ٹینک ہے۔`

Result: False

Our Sources
Report published by News.com.au and BBC on 18, 19 July 2023
Tweet by @AusSpaceAgency on 19 July 2023
Tweet by @ISRO on 17 July 2023

نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کرسکتے ہیں۔

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Most Popular