جمعہ, دسمبر 3, 2021
جمعہ, دسمبر 3, 2021
HomeFact Checkجموں کشمیر میں انکاؤنٹر کے بعد سوشل میڈیا پر گمراہ کن...

جموں کشمیر میں انکاؤنٹر کے بعد سوشل میڈیا پر گمراہ کن دعوے کے ساتھ ویڈیو اور تصاویر وائرل

جموں کشمیر میں انکاؤنٹر کے بعد سوشل میڈیا پر جھڑپ کا ایک ویڈیو عربی کیپشن کے ساتھ خوب شئیر کیا جا رہا ہے۔ ویڈیو میں بھگدڑ سا منظر نظر آرہا ہے۔ صارفین اس ویڈیو کے ساتھ دعویٰ کر رہے ہیں کہ”کشمیر کے مسلمان اپنی دفاع کے لئے سڑک پر نکل گئے ہیں، اللہ ان کی مدد کرے”۔

جموں کشمیر میں انکاؤنٹر  کے بعد سڑک پر اترے کشمیری مسلم
جموں کشمیر میں انکاؤنٹر کے بعد سڑک پر اترے کشمیری مسلم

ان دنوں فوجیوں اور دہشت گردوں کے مابین جموں کشمیر میں انکاؤنٹر کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک دن میں چار مرتبہ دہشت گرد اور فوجیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔ بتادوں کہ پونچھ میں تصادم کے دوران پانچ جوان شہید بھی ہو گئے تھے۔

اس کے بعد سوشل میڈیا پر طرح طرح کے ویڈیو اور تصاویر کشمیری مسلم کی حمایت میں خوب شیئر کئے جانے لگے۔ جس میں کہا جا رہا ہے کہ کشمیر کے مسلمان اپنی دفاع کے لئے سڑکوں پر اتر گئے ہیں۔ اللہ ان کی مدد کرے۔ اس دعوے کے ساتھ عربی ہیش ٹیگ “كشمير_تباد اور مقاطعة_المنتجات_الهندية” بھی چلایا جا رہا ہے۔

فیس بک پر وائرل پوسٹ کا اسکرین شارٹ درج ذیل میں موجود ہے۔

اس ویڈیو کے علاوہ دوسری تصاویر اور ویڈیو بھی کشمیری مسلم کے حوالے سے شیئر کی جا رہی ہیں۔ جسے آپ درج ذیل میں دیکھ سکتے ہیں۔

وائرل پوسٹ کے آرکائیو لنک یہاں، یہاں، یہاں، یہاں اور یہاں دیکھیں۔

Fact Check/ Verification

پولس اور عوام کے درمیان جھڑپ کے وائرل ویڈیو کی سچائی جاننے کے لئے ہم نے اپنی ابتدائی تحقیقات کا آغاز کیا۔ سب سے پہلے ویڈیو کو انوڈ کی مدد سے کیفریم میں تقسیم کیا اور ان میں سے کچھ فریم کو گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔ لیکن کچھ بھی اطمینان بخش نتائج نہیں ملے۔

پھر ہم نے کچھ کیورڈ سرچ کیا تو ہمیں اے بی پی نیوز ویب سائٹ پر وائرل ویڈیو ملا۔ جس کے مطابق ویڈیو دہلی فساد کا ہے اور یہ چاند باغ میں24 فروری 2020 کو ہوئے فساد کے دوران پولس پر حملے کا بتایا جا رہا ہے۔ اس ویڈیو کو دی قونٹ نیوز نے غازی آباد روڈ پر دہلی دنگے کے دوران ہوئے فساد کا بتایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنگے کے دوران بے قابو بھیڑ نے دہلی پولس پر جم کر پتھراؤ کیا تھا۔ جسے اب جموں کشمیر میں انکاؤنٹر کے بعد کشمیری مسلم کا بتاکر شیئر کیا جا رہا ہے۔

مذکورہ ویڈیو ہمیں این ڈی ٹی وی کے آفیشل یوٹیوب چینل پر بھی ملا۔ جس میں اس ویڈیو کو چاند باغ میں ہوئے پولس پر بھیڑ کے ذریعے حملے کا بتایا گیا ہے۔ این ڈی ٹی وی کے مطابق یہ ویڈیو 24 فروری 2020 کا ہے۔ بتادوں کہ سی اے اے اور این آرسی قانون نافذ ہونے کے بعد ملک بھر میں اقلیتی طبقہ کے لوگوں نے اس بل کے خلاف احتجاج بلند کیا تھا۔ کچھ ہی دن بعد 23 فروری 2020 میں دہلی کے شمالی مشرقی علاقے میں فرقہ وارانہ فساد برپا ہو گیا تھا۔ جس میں متعد جانیں گئیں تھیں اور سینکڑوں گھر جل کر خاکستر ہو گئے تھے۔

مذکورہ رپورٹ سے واضح ہوچکا کہ وائرل ویڈیو کا تعلق کشمیری مسلم سے نہیں ہے، بلکہ یہ ویڈیو دہلی فساد کے دوران کا ہے اور چاند باغ علاقے کا ہے۔ اب ہم آپ کو ان تصاویر اور ویڈیو کے حقائق سے ایک ایک کرکے آگاہ کرنے جا رہے ہیں جو جموں کشمیر میں انکاؤنٹر کے بعد سے شیئر کئے جا رہے ہیں۔

پہلی تصویر جس پر “کشمیر تذبح” لکھا ہوا ہے اور اس میں خون سے لت پت لاشیں زمین پر بکھری ہوئی ہیں۔ جب ہم نے اس تصویر کو ریورس امیج سرچ کیا تو پتا چلا کہ یہ تصویر مصر کی ہے اور 2019 میں عید الاضحیٰ کے موقع پر جانوروں کو ذبح کرنے کی ہے۔

دوسری تصویر جس میں کفن میں لپٹے کچھ لوگ دکھائی دے رہے ہیں۔ سرچ کے دوران پتا چلا کہ وائرل تصویر سی اے اے اور این آرسی کی مخالفت میں اورنگ آباد میں کفن پہن کر احتجاج درج کروا رہے لوگوں کی ہے۔

تیسرا ویڈیو جسے کشمیر کا بتا کر شیئر کیا گیا ہے۔ اسے پہلے بھی آسام کا بتاکر شیئر کیا جا چکا ہے۔ جس کا فیکٹ چیک ہماری ٹیم پہلے ہی کر چکی ہے۔ جسے آپ یہاں کلک کرکے پڑھ سکتے ہیں۔

چوتھی تصویر جس میں ایک خاتون کو پولس والے بے رحمی سے پکڑ کر لے جا رہے ہیں۔ اس کی تحقیقات کی تو پتا چلا کہ یہ تصویر بھی پرانی ہے اور اس کا کشمیری مسلم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ در اصل یہ تصویر آندھراپردیش کی ہے، جہاں سوشل ویلفیئر ہاسٹل کو بند کرنے کے خلاف احتجاج کر رہے ایس ایف آئی کے لوگوں پر پولس نے بے رحیمانہ کاروائی کی تھی، اسی واقعے کی یہ تصویر ہے۔

Conclusion

نیوز چیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ جموں کشمیر میں انکاؤنٹر کے بعد شیئر کئے جا رہے مذکورہ سبھی ویڈیو اور تصاویر پرانے ہیں اور ان کا کشمیری مسلم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مذکورہ سبھی وائرل تصاویر اور ویڈیو مختلف واقعات کے ہیں، جنہیں گمراہ کن دعوے کے ساتھ سوشل میڈیا پر شیئر کیا جا رہا ہے۔


Result: Misleading


Our Sources

ABPNews

TheQuint

NDtv

copts

YouTube


نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow
Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular