منگل, دسمبر 6, 2022
منگل, دسمبر 6, 2022

HomeFact Checkکیا 2022 کابل اسکول دھماکے میں زندہ بچی لڑکی کی ہے یہ...

کیا 2022 کابل اسکول دھماکے میں زندہ بچی لڑکی کی ہے یہ تصویر؟

سوشل میڈیا پر ایک زخمی لڑکی کی تصویر کو خوب شیئر کیا جارہا ہے۔ مذکورہ لڑکی سے متعلق دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یہ ستمبر 2022 میں کابل اسکول دھماکے میں زندہ بچ گئی تھی۔ ٹویٹر پر ایک صارف نے تصویر کے کیپشن میں لکھا ہے کہ “یہ ہزارہ شیعہ نسل کشی کا چہرہ ہے۔ یہ کمسن لڑکی کابل میں اسکول بم دھماکے میں زخمی ہوئی ہے۔ اس کی اکثر سہیلیاں اور ہم جماعت اس بم دھماکے میں شہید ہوگئے ہیں۔ مگر ان کی تصاویر کسی بھی رسالے اور چینل کی زینت نہیں کیونکہ یہ #ملالہ نہیں بلکہ ہزارہ کے شیعہ ہیں”۔

یہ تصویر 2022 کابل اسکول دھماکے میں زندہ بچی لڑکی کی  نہیں ہے۔

مذکورہ دعوے کے ساتھ زخمی لڑکی کی تصویر کو فیس بُک پر بھی متعدد صارفین نے شیئر کیا ہے۔

اس تصویر کو 2022 کابل اسکول دھماکے میں زندہ بچی لڑکی کا بتاکر تاج الدین سوروش نامی ویری فائڈ ہینڈل سے بھی شیئر کیا گیا ہے۔

Fact Check/Verification

نیوز چیکر نے 2022 کابل اسکول دھماکے میں زندہ بچی لڑکی کا بتاکر شیئر کی گئی تصویر کو ریورس امیج سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں پولٹزر سینٹر نامی ویب سائٹ پر شائع 23 ستمبر 2016 کی ایک رپورٹ ملی، جو اسی لڑکی کی دوسرے اینگل سے لی گئی تصویر ہے۔ تصویر کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق یہ تصویر افغانستان کے ٹولو ٹی وی میں کام کرنے والی لڑکی رضیہ نوری زادا دیدار کی ہے۔ رضیہ طالبان کی جانب سے ٹولو ٹی وی کے بس پر خود کش حملے میں زخمی ہوئی تھیں۔ اس تصویر کو 2015 کا بتایا گیا ہے۔

Courtesy:pulitzercenter.org اس تصویر کو بلیک اینڈ وائٹ اس لئے کیا گیا ہے کیونکہ اس میں خون اور زخمی چہرا دکھایا گیا ہے۔

مزید سرچ کے دوران ہمیں گیٹی امیج اور ٹائم میگزین کی ویب سائٹ پر 2016 کو شائع وہی تصویر ملی۔ جسے ان دنوں حالیہ کابل اسکول دھماکے میں زخمی ہوئی لڑکی کا بتاکر شیئر کیا جارہا ہے۔ ان ویب سائٹس پر بھی زخمی لڑکی کی تصویر کے سلسلے میں لکھا ہے کہ رضیہ نوری زادہ دیدار، جن کی عمر 30 سال ہے، وہ ان لوگوں میں سے ایک ہیں جو 9 اپریل 2016 کو ہوئے خودکش حملے میں بری طرح زخمی ہو گئی تھیں۔ وہ ٹولو ٹی وی کے ساتھ تقریباً ایک دہائی سے جڑی ہوئی تھیں۔ اس دھماکے میں ان کی بائیں آنکھ کی روشنی چلی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اس دھماکے میں 7 افراد ہلاک اور کم از کم 25 زخمی ہوئے تھے۔

Courtesy:Time.com اس تصویر کو بلیک اینڈ وائٹ اس لئے کیا گیا ہے کیونکہ اس میں خون اور زخمی چہرا دکھایا گیا ہے۔

Conclusion

اس طرح نیوز چیکر کی تحقیقات میں واضح ہوتا ہے کہ یہ کابل میں حالیہ اسکول میں ہوئے دھماکے میں زخمی لڑکی کی تصویر نہیں بلکہ 2016 میں ہوئے خودکش حملے میں زخمی ٹولو ٹی کی ایک ملازمہ کی تصویر ہے۔

Result: Missing Context

Our Sources

Media report published by pulitzercenter.org on 23, Sep, 2016
Image Published by GettyImages on 9, April 2016
Image published by Time.com on 29, June, 2016

کسی بھی مشکوک خبر کی تحقیقات، تصحیح یا دیگر تجاویز کے لیے ہمیں واٹس ایپ کریں: 9999499044 یا ای میل: [email protected]

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular