ہفتہ, دسمبر 10, 2022
ہفتہ, دسمبر 10, 2022

HomeFact CheckWeekly Wrap: پانچ منٹ میں پڑھیں اس ہفتے کی 5 اہم تحقیقاتی...

Weekly Wrap: پانچ منٹ میں پڑھیں اس ہفتے کی 5 اہم تحقیقاتی رپورٹ

کابل کے تعلیمی ادارے میں ہوئے دھماکے کا بتاکر اس ہفتے سوشل میڈیا پر کئی پوسٹ شیئر کئے گئے۔ اس کے علاوہ انسانی چہرے پر رہنے والے کیڑے ڈیموڈیکس، بھارتی میک اپ آرٹسٹ اسمیتھا کی ایک ویڈیو سمیت دیگر دعوؤں کے ساتھ وائرل پوسٹ کی تحقیقاتی رپورٹ درج ذیل میں یک بعد دیگرے پڑھی جا سکتی ہیں۔

کابل میں کاج کے تعلیمی مرکز میں ہوئے دھماکے میں مرنے والی طالبات کا نہیں ہے یہ کولاج

اس ہفتے کابل دھماکے کا بتاکر کئی تصاویر اور ویڈیو شیئر کئے گئے۔ ان میں ایک کولاج بھی کافی وائرل ہوا۔ دعویٰ تھا کہ یہ کابل کے کاج کے تعلیمی مرکز میں دھماکے کے دوران مارے گٓئے طالبات کی تصویر ہے۔ لیکن تحقیقات سے پتا چلا کہ تصویر پرانی ہے۔ بقیہ تحقیقات یہاں پڑھیں۔

خون میں ڈوبی اس قلم کی حقیقت کیا ہے؟

خون میں ڈوبی قلم کی ایک تصویر کو حالیہ کابل دھماکے کا بتاکر شیئر کیا گیا ۔ جبکہ تحقیقات سے پتا چلا کہ یہ تصویر پرانی ہے اور افغانستان کی نہیں ہے۔ مزید معلومات کے لئے پورا فیکٹ چیک یہاں کلک کرکے پڑھیں۔

کیا یہ تصویر انسانی چہرے پر رہنے والے کیڑے ڈیموڈیکس کی ہے؟

سوشل میڈیا پر ایک کیڑے کی تصویر کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ یہ تصویر انسانی چہرے پر رہنے والے کیڑے ڈیموڈیکس کی ہے، جو انسان کی پلکوں کے اندر رہتا ہے، چہرے کی مردہ جلد کو کھا جاتے ہیں، تاکہ نئی جلد تیار ہوسکے۔جبکہ میڈِیا رپورٹ اور تصویر سے متعلق ملی جانکاری سے واضح ہوا کہ اس کیڑے کا نام ڈیموڈیکس نہیں ہے، بلکہ وائرل تصویر سلک موتھ نامی کیڑے کی رنگین اسکیننگ الیکٹران مائیکرو گراف ہے۔ بقیہ تحقیقات یہاں پڑھیں۔

تصادم میں منہدم گھر کو جموں و کشمیر کے بارہمولہ کا بتایا جارہا ہے

فیس بک پر منہدم ہوئے گھروں کی دو تصاویر کو بارہمولہ انکاؤنٹر کا بتاکر شیئر کیا گیا۔ جبکہ یہ تصویر پرانی ہے اور اس کا حالیہ بارہمولہ انکاؤنٹر سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ پوری تحقیقات یہاں پڑھیں۔

کیا سسرالیوں نے منہ دھوکر پرکھی دلہن کی خوبصورتی؟

سوشل میڈِیا پر ایک خاتون کا منہ دھوتے ہوئے ویڈیو کو عربی کیپشن کے ساتھ خوب شیئر کیا گیا۔ دعویٰ تھا کہ سسرال والوں نے بھارتی دلہن کی قدرتی خوبصورتی پرکھنے کے لیے اس کا منہ دھویا۔ جبکہ یہ ایک ورک شاپ کی ویڈیو ہے، جس میں میک کی خاصیت دکھائی گئی ہے۔ پوری تحقیقات یہاں پڑھیں۔

کسی بھی مشکوک خبر کی تحقیقات، تصحیح یا دیگر تجاویز کے لیے ہمیں واٹس ایپ کریں: 9999499044 یا ای میل: [email protected]

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular