پیر, جون 17, 2024
پیر, جون 17, 2024

ہومFact Checkکیا ہاتھ میں روٹی لیے بوڑھے شخص کی یہ تصویر ترکی میں...

کیا ہاتھ میں روٹی لیے بوڑھے شخص کی یہ تصویر ترکی میں حالیہ زلزلے کی ہے؟ یہاں پڑھیں ہماری تحقیقات

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Claim

فیس بک اور ٹویٹر پر ہاتھ میں روٹی لیے ہوئے بوڑھے شخص کی تصویر خوب وائرل ہو رہی ہے۔ دعویٰٰ کیا جا رہا ہے کہ تصویرمیں نظر آرہے بوڑھے شخص کے پاس ترکی زلزلے سے چند سکینڈ پہلے 3 مکانات تھے اور زلزلے کے بعد میں وہ دوسرے کی دی ہوئی روٹی پر جی رہا ہے۔

روٹی لیے ہوئے بوڑھے شخص شخص کی یہ تصویر حالیہ ترکی زلزلے کی نہیں ہے۔
Courtesy: Facebook/ meetumairshakoor

Fact

روٹی لیے ہوئے بوڑھے شخص کی تصویر کو گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔ جہاں ہمیں وائرل تصویر کے ساتھ ترکش نیوز ویب سائٹ اے ہیبر پر 27 جنوری 2020 کو ترکش زبان میں شائع شدہ رپورٹ ملی۔ لیکن تصویر کہاں کی ہے رپورٹ میں ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ مزید سرچ کے دوران ترکش نیوز ایجنسی انادولو پر 11 نومبر 2014 کو شائع شدہ ہو بہو تصویر ملی۔ جس میں اس تصویر کو جون 1999 میں ترکی میں آئے زلزلے کا بتایا گیا ہے۔ یہاں یہ واضح ہو چکا کہ اس تصویر کا تعلق حالیہ زلزلے سے نہیں ہے۔

Courtesy: Anadolu Agency

اس کے علاوہ مذکورہ بوڑھے شخص کی تصویر کو فوٹو گرافر عبدالرحمٰن انتالیکی نے بھی اپنے انسٹاگرام پر 2014 میں شیئر کیا تھا۔ عبدالرحمن کے اس پوسٹ کا جب ہم نے ترجمہ کیا تو معلوم ہوا کہ ہاتھ میں روٹی لیے ہوئے بوڑھے شخص کا نام اشرف ہے اور اس تصویر کو 15 سال پہلے ترکی کے کینالسی شہر میں کلک کیا گیا تھا۔

Courtesy: Instagram @
fotomuhabiri

نیوز چیکر کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ روٹی لیے ہوئے بوڑھے شخص کی تصویر کا تعلق ترکی میں آئے حالیہ زلزلے سے نہیں ہے، بلکہ 1999 ترکی زلزلے سے ہے۔

Result: Missing Context

Our Sources

Report published by Ahaber.tr, researchgate.net on 2020
Image published by Anadolu Agency on 11/11/2014
Instagram post from Abdurrahman Antakyalı of 12 Nov 2014


نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کرسکتے ہیں۔ 9999499044

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Most Popular