ہفتہ, جون 15, 2024
ہفتہ, جون 15, 2024

ہومFact CheckFact Check: کیا تمل ناڈو کے ٹینکاسی میں مسجد میں بدل دی...

Fact Check: کیا تمل ناڈو کے ٹینکاسی میں مسجد میں بدل دی گئی ایک تاریخی مندر؟ جانیں وائرل ویڈیو کی حقیقت

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Vijayalakshmi leads our Tamil team. She’s worked in the media industry for more than eight years. This includes her work as a senior correspondent for Times Now before joining Newschecker. She turned to fact-checking to create awareness around misinformation through her writing.

Claim
تمل ناڈو کے ٹینکاسی میں سرکار کی مدد سے مسجد میں بدل دی گئی ایک تاریخی مندر۔

Fact
ویڈیو میں پوٹل پودور درگاہ نظر آ رہی ہے، جس کی تعمیر ہندو دراوڑی طرز کے مطابق کی گئی ہے۔

ان دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے، جس میں ہندو طرز کے مطابق تعمیر شدہ ایک عمارت نظر آ رہی ہے۔ اس ویڈیو کے ساتھ صارفین کا دعویٰ ہے کہ یہ تمل ناڈو کا ایک تاریخی مندر تھا، جسے حکومت کی مدد سے مسجد میں بدل دیا گیا ہے۔

ایک فیس بک صارف نے ویڈیو کے اوپر ہندی زبان میں کیپشن میں لکھا ہے کہ “تمل ناڈو کے ٹینکاسی میں ایک تاریخی مندر کو حال ہی میں سرکار کی مدد سے مسجد میں بدل دیا گیا”۔

تمل ناڈو کے ٹینکاسی میں سرکار کی مدد سے مسجد میں بدل دی گئی ایک تاریخی مندر۔

وائرل پوسٹ کا آرکائیو لنک یہاں اور یہاں دیکھیں۔

Fact Check/Verification

مسجد میں بدل دی گئی ایک تاریخی مندر کے دعوے کے ساتھ شیئر کی گئی ویڈیو کی حقیقت جاننے کے لئے ہم نے سب سے ویڈیو کے ایک کیفریم کو کچھ کیورڈ کے ساتھ ریورس امیج سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں تمل ناڈو حکومت کی فیکٹ چیکنگ یونٹ کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ ملا۔ جس میں وائرل ویڈیو کے ساتھ کئے گئے دعوے کو فرضی قرار دیا گیا ہے۔ ویڈیو میں نظر آنے والی عمارت ترونیلویلی کے ٹینکاسی میں موجود پوٹل پودور محی الدین اَنداور درگاہ ہے۔

اس درگاہ کو 17ویں صدی(1674 عیسوی) میں اسلامی اسکالر محی الدین عبدالقادر جیلانی کی یاد میں تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ درگاہ اپنی منفرد تعمیر کے لئے مشہور ہے، جو کہ ہندو مندروں کے طرز پر تعمیر سے متاثر ہے”۔

Courtesy: X @tn_factcheck

مزید تحقیقات کے دوران ہمیں انڈین قانون نامی ویب سائٹ پر درگاہ انتظامیہ سے متعلق مدراس ہائی کورٹ کے ایک کیس کی تفصیلات فراہم ہوئیں۔ جس کے مطابق یہ مسجد سنہ 1674 میں تعمیر کی گئی تھی۔ اس کو تمام مذاہب کے اتحاد کو واضح کرنے کی نیت سے ہندو طرز تعمیر کے مطابق بنایا گیا تھا۔ اس کا سالانہ تہوار(قن تھوری) ہے، لیکن یہاں سال بھر مسلمان، ہندو و عیسائی زائرین زیارت کے لئے آتے ہیں۔

Courtesy: indiankanoon

اس طرح ہمیں پتا چلاکہ یہ معلومات 1916-1917 کے دوران توتیکورن کلکٹر کے عہدے پر فائز ایچ آر پاٹے کی تحریر “مدراس ڈسٹرکٹ گزٹیئر” میں شائع (اب ترونیل ویلی عرف نیلی) کے جلد 1 میں موجود ہے۔

Courtesy:Madras District Gazetteers Tinnevelly Volume I

جس میں بتایا گیا ہے کہ “اس مسجد کا ڈیزائن، جو ہندو مندروں کے فن تعمیر کی عکاسی کرتا ہے، مذہبی اتحاد کی مثال کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں ہونے والے عُرس میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ تمام مذاہب کے لوگ شرکت کرتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس قدیم درگاہ میں ہندو، مسلمان اور عیسائی تمام مذاہب کے لوگ زیارت کے لئے آتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ یہ 1674 کے قریب تعمیر کی گئی تھی”۔

Conclusion

اس طرح نیوز چیکر کی تحقیقات سے واضح ہوا ہے کہ تمل ناڈو کے ٹینکاسی میں سرکار کی مدد سے مسجد میں بدل دی گئی ایک تاریخی مندر کے دعوے کے ساتھ شیئر کردہ ویڈیو ٹینکاسی کے پوٹل پودور درگاہ کی ہے، جس کی تعمیر ہندو مندر کی دراویڑی طرز کے مطابق کی گئی تھی۔

Result: False

Sources
IndianKanoon
X Post From, @tn_factcheck, Dated May 03, 2024
Madras District Gazetteers Tinnevelly Volume I, Written By H.R.Pate

(اس آرٹیکل کو نیوز چیکر کی تمل ناڈو ٹیم نے شائع کیا تھا، جس کا اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے)


نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ہمارے واہٹس ایپ چینل کو بھی فالو کریں۔

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Vijayalakshmi leads our Tamil team. She’s worked in the media industry for more than eight years. This includes her work as a senior correspondent for Times Now before joining Newschecker. She turned to fact-checking to create awareness around misinformation through her writing.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Most Popular